پولیو وائرس کے خاتمہ کا واحد حل ہر بچے تک پہنچ کر سو فیصد بچوں کی پولیو ویکسینیشن کو یقینی بنانا ہے۔ ڈاکٹر شہزاد خان بنگش
چیلنجز کے باوجود پولیو کے مکمل خاتمہ کے لئے پرعزم ہیں۔ چیف سیکرٹری
سیکرٹری صحت نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر ماہ اکتوبر کی انسداد پولیو مہم کا آغاز کر دیا
24 اکتوبر سے 28 اکتوبر تک صوبہ خیبرپختونخوا کے 28 اضلاع میں 44 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر شہزاد خان بنگش کی زیر صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو اجلاس پیر کے روز سول سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ جس میں متعلقہ انتظامی سیکرٹریز، کوآرڈینیٹر ای او سی، ڈائریکٹر جنرل محکمہ صحت، ڈائریکٹر ای پی آئی، یونیسیف، ڈبلیو ایچ او، پولیس و پاک آرمی حکام نے شرکت کی جبکہ ڈویڑنل کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ کے افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ایک قومی مشن ہے کیونکہ اس موذی مرض کے باعث ہمارے بچوں کی عمر بھر کے لئے معذوری کے ساتھ ساتھ عالمی برادری میں پاکستان کا وقار متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیلنجز کے باوجود ہم پولیو کے مکمل خاتمہ کے لئے پرعزم ہیں اور پولیو وائرس کے خاتمہ کا واحد حل ہر بچے تک پہنچ کر سو فیصد بچوں کی پولیو ویکسینیشن کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قومی مشن میں معاشرے کے تمام طبقات بالخصوص والدین کا تعاون لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے صحت مند مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے خطے سے پولیو وائرس کا خاتمہ ضروری ہے۔
چیف سیکرٹری نے فرنٹ لائن پولیو ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ محکمہ صحت، پولیو ورکرز اور دیگر تمام متعلقہ ادارے ای او سی کے زیر اہتمام اس انسداد پولیو مہم کے دوران پوری جانفشانی سے اسے کامیاب بنائیں گے۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش نے کہا کہ آج پولیو کے عالمی دن کے موقع پر ہم پولیو کے خاتمے کے لئے پولیو ورکرز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی بدولت ملک میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی آئی اور خطے سے پولیو وائرس کا صفایا کرنے کے لیے ہر سطح پر کوششوں کو تقویت ملی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم پہلے سے کہیں زیادہ پاکستان کو وائرس سے مکمل صاف کرنے کے قریب ہیں تاہم اس ہدف کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو ویکسین لگائی جائے۔ ڈاکٹر شہزاد خان بنگش نے پولیو کی روک تھام کے لئے تمام والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو قطرے پلانے میں پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
کوآرڈینیٹر ای او سی ڈاکٹر آصف رحیم نے رواں انسداد پولیو مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 24 اکتوبر سے 28 اکتوبر تک صوبہ خیبرپختونخوا کے 28 اضلاع میں انسداد پولیو مہم شروع کی گئی ہے جس کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے 44 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے جن میں بونیر، چترال اپر، چترال لوئر، دیراپر، دیرلوئر، ہری پور، کرم، ملاکنڈ، مانسرہ، مردان، صوابی کے اضلاع جزوی طور پر پولیو ویکسینیشن مہم اورل پولیو ویکسین کے ساتھ چلائی جائے گی جبکہ پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، خیبر، مہمند، باجوڑ، سوات، کوہاٹ، بنوں، ہنگو، کرک، لکی مروت، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، اورکزئی، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع میں بچوں کو او پی وی ویکسین دی جائے گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے لیے تربیت یافتہ پولیو ورکرز پر مشتمل 15212 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں 13374 موبائل ٹیمیں، 1101 فکسڈ ٹیمیں اور 737 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں۔ اسی طرح پولیو مہم کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے 3214 ایریا انچارج تعینات کئے گئے ہیں۔قبل ازیں سیکرٹری صحت عامر سلطان ترین نے سول سیکرٹریٹ میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر ماہ اکتوبر کے انسداد پولیو مہم کا آغاز کیا۔