The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 8 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

پنجاب، خیبر پختونخوا انتخابات پر ازخود نوٹس خارج کیا جاتا ہے، جسٹس یحیی آفریدی

Chitral Times

پنجاب، خیبر پختونخوا انتخابات پر ازخود نوٹس خارج کیا جاتا ہے، جسٹس یحیی آفریدی

پنجاب، خیبر پختونخوا انتخابات پر ازخود نوٹس خارج کیا جاتا ہے، جسٹس یحیی آفریدی

پنجاب، خیبر پختونخوا انتخابات پر ازخود نوٹس خارج کیا جاتا ہے، جسٹس یحیی آفریدی

پشاور(چترال ٹایمز رپورٹ )سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا انتخابات پر از خود نوٹس پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنا تفصیلی نوٹ جاری کردیا۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے تفصیلی نوٹ میں کہا کہ سپریم کورٹ کا از خود نوٹس خارج کیا جاتا ہے۔تفصیلی نوٹ میں مزید کہا گیا کہ انتخابات کا معاملہ لاہور اور پشاور ہائیکورٹس میں زیر التوا ہے، سپریم کورٹ ماضی میں قرار دے چکی ہے کہ معاملہ ہائیکورٹ میں ہو تومداخلت نہیں کی جاسکتی۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے نوٹ میں یہ بھی کہا کہ انتخابات کیس میں فریقین سیاسی موقف تبدیل کرتے رہے ہیں، سیاسی معاملات عروج پر ہوں تو عدالت کو مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔تفصیلی نوٹ میں کہا گیا کہ ازخود نوٹس اور آئینی درخواستیں ناقابل سماعت ہیں، خود کو بینچ کا حصہ رکھنے کا معاملہ چیف جسٹس پر چھوڑتا ہوں۔

سپریم کورٹ نے فل کورٹ بنانے کی درخواست مسترد کر دی

اسلام آباد(سی ایم لنکس)سپریم کورٹ نے پنجاب اور کے پی میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت پر اٹارنی جنرل کی فل کورٹ بنانے کی درخواست فی الحال مسترد اور سماعت پیر تک ملتوی کردی۔سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پی ٹی ائی کی درخواست پر سماعت جاری ہے اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ سماعت کی۔دوران سماعت اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیے اور عدالت عظمیٰ سے اس معاملے پر فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست کی۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فل کورٹ کے لیے تمام ججز کی دستیابی آسان نہیں ہوتی۔ معمول کے کیسز بھی متاثر ہوتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے کوئٹہ، کراچی اور لاہور میں بینچ تھے، آئندہ ہفتے لاہور میں بھی بینچ ہے۔سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی فل کورٹ بنانے کی درخواست فی الحال مسترد کر دی اور سماعت پیر کی صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی۔اس سے قبل درخواست کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے سیاسی جماعتوں کو سن لیں، بعد میں دلائل دوں گا اور معاشی حالات پر عدالت کو اگاہ کروں گا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک، اکرم شیخ، کامران مرتضیٰ کو بھی سنیں گے لیکن پہلے ریاست پاکستان کو سننا چاہتے ہیں۔ آپ سیکیورٹی اور فنڈز پر بات کریں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ 20 ارب کا نہیں پوری معیشت کا ہے۔ ملک کو 1500 ارب خسارے کا سامنا ہے۔ 30 جون تک شرح سود 22 فیصد تک جاسکتی ہے۔ شرح سود بڑھنے سے قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ جس پر چیف جسٹس استفسار کیا کہ کیا ماضی کے قرضوں پر بھی نئی شرح سود لاگو ہوتی ہے؟

اس موقع پر جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا 8 اکتوبر تک انتخابات ملتوی ہوسکتے ہیں اس پر جواب دیں، حکومت کے پاس اس وقت کتنا پیسہ موجود ہے، فیڈرل کونسلیڈیٹڈ فنڈز کس کے اختیار میں ہے اور اس میں کتنی رقم موجود ہے؟ 20 ارب خرچ ہوتے ہیں تو خسارہ کتنے فیصد بڑھے گا۔ الیکشن اخراجات شاید خسارے کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ 1500 ارب خسارے میں 20 ارب سے کتنا اضافہ ہوگا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر پورا جمع ہوا تو سپلیمنٹری بجٹ میں 170 ارب کی توقع ہے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ 2019 کے رولز پڑھ کر بتائیں فنڈ کس کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔ پبلک فنانشل مینجمنٹ ایکٹ کے تحت رولز کا جائزہ لیں۔ رولز کیمطابق تو کونسلیڈیٹڈ فنڈز اسٹیٹ بینک میں ہوتا ہے، اسٹیٹ بینک کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں ان کے پاس کتنا پیسہ ہے، الیکشن کمیشن حکومت کی جانب دیکھ رہا ہے۔ کمیشن کہتا ہے کہ فنڈز مل جائیں تو 30 اپریل کو الیکشن کرا سکتے ہیں۔