The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

پبلک ٹرانسپورٹ: ضلعی انتظامیہ، عوام اور طلباء کے نام ایک پیغام

Chitral Times

پبلک ٹرانسپورٹ: ضلعی انتظامیہ، عوام اور طلباء کے نام ایک پیغام

پبلک ٹرانسپورٹ: ضلعی انتظامیہ، عوام اور طلباء کے نام ایک پیغام

پبلک ٹرانسپورٹ: ضلعی انتظامیہ، عوام اور طلباء کے نام ایک پیغام

کسی بھی علاقے کی ترقی میں پبلک ٹرانسپورٹ کا اہم کردار ہوتا ہے۔ چاہے وہ یورپ ہو یا کوئی اور ترقی یافتہ ملک، ہر جگہ ایک منظم ٹرانسپورٹ سسٹم موجود ہوتا ہے جس سے لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بالعموم اور چترال میں بالخصوص پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جو سروس موجود ہے وہ ناقص ہے۔ یہ سسٹم ایک خاص قسم کا مافیا ہے جو عوام پر ظلم کرنے سے بھی دریغ نہین کرتا ہے۔

اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی کاوشیں قابل تحسین اور قابل ستائش ہیں۔ تاہم، اصل مسلہ عوام میں شعور کے فقدان کا ہے۔ چترالی عوام اپنے حقوق سے یکسر نابلد اور ناآشنا لوگوں کا ایک ہجوم ہے۔ عوام کی نااہلی اور اپنے حقوق سے ناواقفیت کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ کی کوششیں اور ٹریفک پولیس کی ناکہ بندیاں بھی رائیگاں جاتی ہیں۔ چترال ٹو بونی اور چترال ٹو دروش وغیرہ میں پھر بھی کرایوں کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن لوکل ٹرانسپورٹ اور دور دراز کے علاقوں میں ڈرائیور مافیا کی طرف سے لوگوں پر ظلم کیا جاتا ہے۔ اور ہمارے نا اہل عوام کا یہ ہجوم چپ چاپ وہ برداشت کر لیتے ہیں۔

میں جس روٹ کی بات کر رہا ہوں وہ اپنی نوعیت کا اہم روٹ ہے۔ یہ روٹ کڑوپ رشت بازار سے بلچ، پھر سنگور، سین لشٹ سے ہوتے ہوئے سین پہنچ جاتی ہے۔ اس میں سینکڑوں لوگ سفر کرتے ہیں۔ چترال ٹاؤن سے کئی طلباء چترال یونیورسٹی جاتے ہیں۔ اسی طرح بلچ، سنگور، سین لشٹ اور سین سے سینکڑوں طلباء روزانہ کی بنیاد پر گورنمنٹ ڈگری کالج جاتے ہیں۔ اسی طرح بلچ میں کئی دفاتر، ٹیکنکل کالج اور ڈی پی او آفس ہے جہاں لوگوں کا کام کے سلسلے میں آنا جانا ہوتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے ٹرانسپورٹ سے متعلق تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر جو کرایہ طے کیا ہے وہ بلچ اور سنگور کے لئے تیس جبکہ سین لشٹ اور سین کے لئے بچاس روپے مقرر ہے۔ لیکن قانون ہونے کے باوجود بھی ڈرائیور حضرات اب بھی سو روپے بٹور رہے ہیں۔ سادہ لوح لوگ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کی بجائے بلیک میل ہو کر ان کے آگے سر تسلیم خم کر کے ان کو سو روپے عنایت فرماتے ہیں۔ ان ہی لوگوں میں سے ایک ڈگری ہولڈر لیکن تعلیم اور شعور کے زیور سے کوسوں دور نوجوان بیس روپے کا انٹرنیٹ پیکیج کر کے ضلعی انتظامیہ، پولیس، حتی کہ نواز شریف, عمران خان، زرداری اور فوج کو گالیاں بھی دیتا ہے۔ یہی نوجوان سسٹم کو بھی برا بھلا کہتا ہے لیکن بدقسمتی سے اپنے حق کے لئے آواز تک نہیں اٹھا سکتا ہے۔

اس سلسلے میں طلباء کا کردار نہایت ہی اہم ہے۔ میری ڈگری کالج کے طلباء اور یونیورسٹی کے طلباء سے بھی گزارش ہو گی کہ وہ اپنے حقوق کے لئے نکل آئیں۔ اس سلسلے میں اسلامی جمعیت طلبہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف احتجاج کرنا ایک نیک عمل ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانا بھی ایک قسم کا جہاد ہوتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ٹرانسپورٹ مافیا کے خلاف طلباء بالعموم اور اسلامی جمعیت طلبہ بالخصوص عوام اور طلباء کی آواز بنے گی۔

یہاں میں یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ جب یہ لوگ سو روپے لے رہے ہیں تو سنگور سے تعلق رکھنے والے ڈرائیور قیوم آج سے تین سال پہلے بھی تیس روپے اور آج بھی وہی پچاس روپے کرایہ لیتے ہیں۔ اگر اس میں خسارہ ہے تو قیوم کا بھی خسارہ ہوگا لیکن وہ اپنی ایمانداری اور اعلی اخلاق کی وجہ سے نہ صرف با عزت طریقے سے اپنے گھر کا چولہا چلا رہے ہیں بلکہ اپنی محنت سے تین گاڑیوں کے مالک بھی ہیں۔

اس مضمون کے ذریعے میں ضلعی انتظامیہ سے گزارش کروں گا کہ وہ ایسے ڈرائیوروں کو عبرت کا نشان بنائیں جو قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ عوام کو شعور دینے کے لئے ایک ہفتے تک ایک پٹواری اور ایک ٹریفک والے کی ڈیوٹی بس سٹینڈ یا اڈے میں لگا کر گاڑی کے روانہ ہونے سے پہلے مسافروں سے طے شدہ کرایہ لے کر ڈرائیور کو تھما کر روانہ کیا جائے تاکہ عوام اپنے حقوق جان سکیں۔ آخر میں میں یہ بھی گزارش کروں گا کہ ضلعی قیوم جیسے محنتی اور دیانتدار لوگوں کی حوصلہ افزائی کرے۔ ضلعی انتظامیہ ان کو تعریفی سند اور سرٹیفکیٹ کے ساتھ ساتھ نقد انعام بھی دے تاکہ دوسرے ڈرائیور بھی صراط مستقیم کی طرف آجائیں۔

لوکل ٹرانسپورٹ کو صحیح سمت کی طرف گامزن کرنے کی ایک اور صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ جو مافیا ہے ان کے اسٹینڈ پر کچھ عرصہ کے لئے پابندی لگا کر رکشہ والوں کو یہ موقع دیا جائے تاکہ یہ لوگ رزق کے چھن جانے کے ڈر سے اپنا سمت درست کر لیں۔ ضلعی انتظامیہ مساجد کے ائمہ کو بھی پابند بنائے کہ وہ یہ پیغام جمعہ والے دن عوام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ عوام میں شعور پیدا ہو۔ اسی طرح سکول،کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ اپنے طلباء کو بھی یہ بات سکھائیں کہ وہ اپنے حقوق کے لئے ڈٹ جائیں۔