پاکستان میں سولر پینلز کا بڑا چینی پلانٹ قائم کرنے پر پیش رفت
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)پاکستان میں سولر پینل تیار کرنے کے حوالے سے غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔ ایک چینی کمپنی نے سولر پینل تیار کرنے کا پلانٹ لگانے کے سلسلے میں رابطہ کیا ہے اور متعلقہ مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد پر زور دیا ہے۔چینی کمپنی کا کہنا ہے کہ حکومت نے سولر پینل درآمد کرنے والوں کو جو ترغیبات دے رکھی ہیں ویسی ہی ترغیبات دی جائیں تاکہ قیمت کا فرق زیادہ نہ رہے۔سرمایہ کاری میں سہولت کاری کی خصوصی کونسل (ایس آئی ایف سی) کے سیکریٹری جمیل قریشی کے نام خط میں رینا سولا پاکستان کے سی ای او نے بتایا ہے کہ اْن کا ادارہ رینا سولا اور اے سی ٹی گروپ کے اشتراک سے پاکستان میں پلانٹ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سولر پینل اسمبلی پلانٹ کراچی میں پورٹ قاسم کے علاقے میں قائم کیا جائے گا۔مئی 2024 میں رینا سولا کے چیئرمین بو لی اور کمپنی کے دیگر نمائندوں نے ایس آئی ایف سی کے دفاتر کا دورہ کیا تھا۔ وہ وزارتِ صنعت اور پاور ڈویڑن کے دفاتر بھی گئے تھے۔پاکستانی حکام نے چینی کمپنی کے وفد کو یقین دلایا تھا کہ پاکستان میں سولر انرجی سے متعقل مینوفیکچرنگ پلانٹ وغیرہ کے قیام کے لیے بھرپور تعاون کیا جائے گا۔
حکومتِ پاکستان کی طرف سے یقین دہانیوں کے بعد چینی کمپنی نے سولر اسمبلی پلانٹ قائم کرنے کا عمل تیز کردیا۔ پہلے مرحلے میں یہ مینوفیکچرنگ پلانٹ 750 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے درکار سولر پینل تیار کرے گا۔دوسرے مرحلے بھی یہی پروڈکشن ہوگی جبکہ تیسرے مرحلے میں 2 جیگا واٹ سولر سیلز تیار کیے جائیں گے۔ اس میں سے نصف کی برآمد کی بھی گنجائش ہوگی۔چینی کمپنی کو امید تھی کہ حکومتِ پاکستان وفاقی بجٹ میں سولر پالیسی کا اعلان کرے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کے باوجود چینی کمپنی اپنے منصوبے کو آگے بڑھارہی ہے۔کمپنی کو امید ہے کہ معقول کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس اسٹرکچر کے ذریعے منافع بخش انداز سے کام کرنا ممکن ہوسکے گا۔چینی کمپنی کے سی ای او کا کہنا ہے کہ درآمدی تاجروں کو سولر پینلز پر صفر کسٹم ڈیوٹی اور صفر سیلز ٹیکس کی سہولت میسر ہے۔ سولر پینلز کے پلانٹس اور پارٹس پر 18 فیصد سیلز ڈیوٹی عائد ہے۔ سولر سیلز کی درآمد اس وقت ڈیوٹی فری ہے۔ اس کے نتیجے میں مینوفیکچرنگ کے شعبے کو مشکلات کا سامنا ہے۔چینی کمپنی نے طویل المیعاد بنیاد پر مینوفیکچرنگ کے لیے ٹیکس کا اسٹرکچر تجویز کیا ہے تاکہ اس شعبے کی منافع کمانے کی صلاحیت برقرار رہے۔ اِسی صورت سولر پینل مینوفیکچرنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری ہوتی رہے گی۔ اس صورت میں پاکستان کو سالانہ 30 سے 50 کروڑ ڈالر کا زرِمبادلہ بچانے میں مدد ملے گی۔واضح اور معقول ڈیوٹی اسٹرکچر ملک میں سولر پینل تیار کرنے کے شعبے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس کے لیے سولر پینلز تیار کرنے والی مشینری، اْس کے پرزوں اور دیگر مٹیریل کی درآمد ڈیوٹی فری کرنا پڑے گی۔
ن لیگ، اتحادی سن لیں! آئی پی پیز کو لگام نہ ڈالی تو چھوڑیں گے نہیں، حافظ نعیم
لاہور(سی ایم لنکس)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان حکمراں جماعت مسلم لیگ ن اور اتحادی پیپلزپارٹی کو دھمکی دی ہے کہ کاؤنٹ ڈاؤن کے 28 دن باقی رہ گئے ہیں اگر آئی پی پیز کو لگام نہ ڈالی گئی تو چھوڑیں گے نہیں۔منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حق دو عوام تحریک کو از سر نو منظم کرکے عوامی ایجنڈا تشکیل دیا ہے، سیاسی جماعتیں مفادات اور ذاتیات کی بنیاد پر سیاست کررہی ہیں، کوئی گیس و بجلی بلوں پر بات نہیں کرنا چاہتا، کسی کو کسی کی ایکسٹیشنْ یا سیٹیں لینی ہیں یا پھر سیاسی جوڑ توڑ کرنے سے فرصت نہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کا تسلط جو ظلم کا نظام ہے اس پر کوئی بات کرنے کوتیار نہیں، پارٹیوں میں ذاتیات مفادات والی سیاست سرگرم ہوگئی ہے۔ ملک کو گیس و بجلی کا بحرانوں کا سامنا ہے، تنخواہ دار طبقہ پر ٹیکس پر ٹیکس لگائیے جارہے ہیں۔حافظ نعیم نے کہا کہ 2 ہزار ارب روپے بجلی نہ بنانے کیلئے آئی پی پیز کو دئیے گئے، 28 اگست کو ملک گیر ہڑتال، شٹر ڈاؤن گا۔ تاجر برادری کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کی حمایت کرتے ہیں، حکومتوں نے آئی پی پیز کو انکم ٹیکس پر چھوٹ دی۔ 5 آئی پی پیز سے 4 کے معاہدے ختم ہوئے لیکن پھر ان کو عوام پر مسلط کر دیا گیا، جھوٹ بول کر معاہدے کئے جن سے معاہدے ہوئے ان کو پکڑا جائے، سب شریک جرم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دھرنا دیا تو پھر گھر نہیں بیٹھے معاہدہ کرکے فالو اپ کررہے ہیں، کاؤنٹ ڈاؤن میں 28 دن رہ گئے ہیں ن لیگ پیپلزپارٹی کو بتانا چاہتے ہیں ہم چھوڑیں گے نہیں، 14 روپے فی یونٹ پر کمی مونگ پھلی بھی نہیں، شریف خاندان کی آئی پی پیز چھوڑیں تو بجلی کی قیمت کئی گنا کم ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز نے 2017-18 میں 1.2 ٹریلین روپے ٹیکس پر چھوٹ دی گئی، تنخواہ دار عام لوگوں کے بجلی و گیس پر ٹیکس پیٹرول پر لیوی لگاتے ہیں، یہ ظلم کی انتہا ہے۔ زبردستی ٹیکس نظام کو مسلط کرکے مطلوبہ ٹیکسْ بھی وصول نہیں ہوگا، ٹیکس نیٹ بنے لیکن حکومتی ٹیکس قابل قبول نہیں۔حافظ نعیم نے مزید کہا کہ خود ایف بی آر کی رپورٹ میں 1299ارب روپے کی سالانہ کرپشن ہوئی ٹیکس نیٹ والوں کے انکم ٹیکس کو کم دکھا کر رشوت لی گئی، ایف بی آر والے کرپشن کرتے ہیں ٹیکس کو تباہ کرنے والے ادارے کو کوئی ٹھیک کرنے کو تیار نہیں۔امیر جماعت اسلامی پاکستان نے بنگلادیش کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بنگلادیش میں گزشتہ 15 برسوں میں جماعت ظلم وستم کیا گیا، کئی رہنماؤں کے جنازے جیلوں سے اٹھائے گئے۔ جماعت اسلامی 1941 قیام پاکستان سے پہلے وجود میں آئی، مولانا مودودی نے کہا تھا قومیں وطن سے نہیں نظریہ سے بنتی ہیں۔پاکستان کے قیام سے اب تک ملکی دفاع نظریاتی سرحدوں عوامی خدمت قانون سازی دین و عوامی مفاد میں خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، میدان عمل میں سیاسی جدوجہد و قربانیوں کی بات کریں تو بڑی تحریکیں بنانے میں جماعت اسلامی کا اہم کردار رہا۔