پانچ سالوں کے دوران جماعت اسلامی کی پالیسی کے خلاف پارلیمان میں کوئی کام نہیں کیا۔ عبدالاکبرچترالی، پاکستان آزاد ہے نہ ہی پارلیمنٹ، عوام اور ان کے نمائندے اپنے فیصلے خود نہیں کر سکتے۔ سینٹرمشتاق
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ) جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان آزاد ہے نہ ہی پارلیمنٹ، عوام اور ان کے نمائندے اپنے فیصلے خود نہیں کر سکتے، جب تک عوام کو فیصلہ سازی کا حق حاصل نہیں ہو گا مسائل حل نہیں ہو سکتے۔آئی ایم ایف پاکستان کے معاملات میں براہِ راست مداخلت کررہا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ میں کمی پاکستان کی خودمختاری پر حملہ ہے۔ ملک آئی ایم ایف کا غلام ہے۔ بجلی گیس کی قیمتوں، سبسڈیز کا فیصلہ پارلیمنٹ نہیں آئی ایم ایف کرتا ہے۔وفاق خیبر پختونخوا کو اختیارات اور حقوق نہیں دیتا۔ آرٹیکل 158 گیس کے اختیار کی بات کرتا ہے۔ہم جتنی گیس پیدا کررہے ہیں اس کا آدھا بھی نہیں دیا جارہا۔ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد بھی این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا جارہا۔ بجلی کے خالص منافع کے 1500 ارب روپے صوبے کو نہیں دیے جارہے۔ فاٹا کے منرلز پر وفاق کا قبضہ ہے۔ سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں کچھ اور حکومت میں کچھ اور ہوتی ہیں۔پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کے لیے عوام کا شعور ضروری ہے۔ عوام کے بنیادی حقوق کے لیے عوامی پارلیمنٹ کی ضرورت ہے۔
اپنے اور سابق ایم این اے مولانا عبد الاکبر چترالی کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مجھ پر اعتماد تھا کہ مجھے چھ سالہ نمائندگی کے لیے سینٹ بھیجا، وز میرستان کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، سکیورٹی حکمت عملی پر نظر ثانی وقت کی ضرورت ہے۔ ریاست عوام کو امن دے اور ان کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائے، حماس کے سیاسی امور کے انچارج اسماعیل ہانیہ کے شہباز شریف کے نام محل کی حمایت کرتے ہیں، یہ محط فلسطین کے خلاف اسرائیلی جنگ کی بندش سے متعلق ہے، حکومت پاکستان اسے سنجیدگی سے لے اور جنگ بندی میں اپنا کر دار ادا کرے۔ مشتاق احمد نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں جن پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکتا، پارلیمنٹ ریز سٹیمپ ہے جو فیصلے نہیں کر سکتی، پاکستان کا اصل مسلامیات کا تقدس بمال کر ناور سویلین بالادستی کا قیام ہے۔انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پارٹ اف دی پرابلم ہے، پارٹ آف دی سولیوشن نہیں۔ آئی ایم ایف کی وجہ سے کوئی ملک ترقی کے راستے پر نہیں گیا۔ وہ معیشت کو گداگر بناکر چھوڑتا ہے۔ ان کی وجہ سے معاشی ترقی نہیں کر سکتے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالاکبر چترالی کہنا تھا کہ پانچ سالوں کے دوران جماعت اسلامی کی پالیسی کے خلاف پارلیمان میں کوئی کام نہیں کیا۔ مجھے عمران خان اور پی ڈی ایم جماعتوں کی طرف سے وزارتوں اور مراعات کی پیشکشیں ہوئی تھیں لیکن ان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔پی ڈی ایم جماعتوں کو مشورہ دیا تھا کہ عمران خان کو ہٹا کر زیرو سے ہیرو نہ بنائیں لیکن انھوں نے میری تجویز نہیں مانی۔ انھوں نے کہا کہ پانچ سال کی پارلیمانی مدت میں تمام امور جماعت کی قیادت سے مشاورت کرکے طے کیے۔ جو بھی قانون سازی کی قرآن و سنت کے مطابق کرنے کی کوشش کی، قومی اسمبلی میں اپنے کام سے مطمئن ہوں۔ انھوں نے کہا کہ اسلام مخالف طاقتوں کی ڈکٹیشن پر کی گئی قانون سازیوں کے خلاف میں نے ہمیشہ آواز بلند کی اور ان قوانین سے ببانگِ دہل اختلاف کیا۔