وہ سبق ہم بھول گئے – از:کلثوم رضا
بچپن سے سنتے ا رہے تھے کہ محرم کا مہینہ انے والا ہے ۔اس لیے سارے خوشیوں کے کام پہلے نمٹانا چاہیے۔شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کی تاریخ محرم سے پہلے یا بعد میں طے کیے جاتے۔یکم محرم سے تو عاشورہ تک نئے کپڑے نہ ہی سلتے، نہ پہنے جاتے۔یوم عاشورہ پر کوئی بھیڑ،بکری یا دو تین مرغے،مرغیاں ذبح کرکے صدقہ کیا جاتا اور بتایا یہ جاتا کہ اس روز خون نکالنا لازمی ہے۔اور ساتھ کہانی یہ سنائی جاتی کہ اس روز نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کیا گیا ہے۔اس غم میں یہ دن منایا جاتا ہے۔
(اس سے ذیادہ بچوں کو بتانا شاید ضروری نہیں سمجھتے تھے)تو ہم سمجھتے تھے کہ یزید کوئی کافر تھا جس کے مقابلے میں حضرت امام حسین رض ائے ۔مسلمانوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے یزید کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔شاید میری طرح اکثریت کو یہ سننے کو ملا ہو گا۔تھوڑے سے بڑے ہوئے تو ایک ہم جماعت سے سنا کہ ان دنوں غم نہیں منانا چاہیے۔ اس کا غم صرف شیعہ مناتے ہیں۔تو ابھی عقل کی نا پختگی تھی کسی سے مزید نہیں پوچھا کہ غم منانا ہے یا نہیں۔لکن دل میں ایک بات اٹک رہی تھی کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت (وہ بھی ایسی شہادت کہ خاندان کا خاندان مٹ گیا)کا غم کیسے نہ منائیں ؟
وہ کیسے ہاتھ تھے جو نواسہ رسول پر اٹھے؟
وہ کون لوگ تھے جو اس واقعے پر خاموش تماشائی بنے رہے؟
لکن اظہار نہیں کیا اس ڈر سے کہ کہیں کوئی شیعہ نہ سمجھ بیٹھے۔۔۔
پھر جب خوب بڑے ہوئے تو اس متعلق مضامین پڑھے،کتابیں پڑھی،تو بالکل ایک نیا باب کھل گیا ۔۔۔کہ نہ یزید کافر تھا۔۔۔نہ اس کا ساتھ دینے والے بیگانے تھے،اور نہ ہی امام حُسین امامت کے لیے سب کچھ قربان کر بیٹھے تھے۔۔۔۔
یہ معرکہ ہی الگ تھا ۔یہ حق اور نا حق کے،ظلم و جبر کے درمیان معرکہ تھا۔یزید تھا تو ایک مسلمان حکمران لیکن ایک ایسے نظریے کو جو خدائی منشور کے برعکس دنیاوی قوت اور جاہ و حشمت کو پروان چڑھا رہا تھا۔جبکہ امام حسین اس سے پیدا ہونے والی خرابیوں کا ادراک کرکے قران اور سنت کے علمبردار بننے کو ترجیح دی۔
یزید کے نظام جبر اور ملوکیت کے تحت تین طبقات وجود میں آئے۔ایک طبقہ اپنے ذاتی چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر یزیدی نظام کا تابعدار اور مددگار بن گیا۔دوسرے طبقے نے خود کو کمزور پیش کر کے رخصت ،خاموشی اور مصلحت کا راستہ اپنا لیا ۔اور تیسرے طبقے نے پیغمبرانہ سنت اور خلفائے راشدین کے طریق اور طرز حیات کو اپناتے ہوئے اللہ کی زمین پر اللہ کی بادشاہی اور اسی کا نظام رائج کرنا چاہا تھا جو شہید کیا گیا۔۔
(اور ان پہلے دو طبقوں کی نسلیں آج تک زندہ ہیں ۔۔۔جو قوت و جاہ حشمت کو اللہ کا دین سمجھتے ہیں۔۔۔اور اس بات پر یکسر توجہ نہیں دیتے کہ اللہ اپنی رضا سے طاقت اور جاہ و حشمت دیتے تو اپنے پیرو کاروں کو دیتے۔۔۔)
افسوس ہم مسلمانوں کو یہ مہینہ،یہ دن اور یہ غم یاد رہا نہ رہا تو وہ سبق جو اس واقعے سے ملا تھا۔
اس واقعے کا سب سے بڑا سبق صبر اور جرات تھا۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی آزمائش پر صبر و استقامت کا رویہ اپنانا تھا۔
باطل چاہے جتنا مضبوط ہو اس کے اگے کلمہ حق بلند کرنا تھا۔
جب جان پر بنی ہو تب بھی نماز اور قرآن پڑھنا لازم تھا۔
سب کچھ لٹ جانے کے بعد بھی عورتوں کا اپنے پردے کا خیال رکھنا تھا۔
حق پر ہونے والوں کی تعداد مٹھی بھر سہی لیکن آللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نافذ کرنے کے لیے باطل قوتوں سے ٹکرا جانا تھا۔۔۔
یہ سبق یاد رہا تو صرف فلسطین والوں کو۔۔۔جنھیں ہم نے ہو بہو کرب و بلا میں پایا ۔۔۔وقت کے یزید اور حسین کو آمنے سامنے پایا اور کوفیوں کا کردار نبھاتے مسلم حکمرانوں کو پایا۔
تماشائی ہیں کوئی غم نہیں ہے
غزہ بھی کربلا سے کم نہیں ہے
نہ پانی ہے،نہ روٹی ہے ،نہ سایہ
مگر اہل کرم میں دم نہیں ہے
(رہبر)
وہ ساٹھ ہجری کے حسین تھے جس نے اپنا سب کچھ اسلام کی خاطر لٹایا اور یہ چودہ سو چھیالیس ہجری کے حسین ہیں جو اپنا سب کچھ اسلام کی خاطر لٹا رہے ہیں۔۔۔
جلے ہوئے ہیں تمام خیمے
نجانے ملبے میں کیا بچا یے
دھواں ہے،آنسو ہیں ،التجا یے
غزہ میں ہر سمت کربلا ہے
( ڈاکٹر عزیزہ انجم)
