The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وہ زمانہ اور تھا یہ زمانہ اور ہے۔  تحریر عبد الباقی چترالی

Chitral Times

وہ زمانہ اور تھا یہ زمانہ اور ہے۔  تحریر عبد الباقی چترالی

وہ زمانہ اور تھا یہ زمانہ اور ہے۔  تحریر عبد الباقی چترالی

ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا ۔  وہ زمانہ اور تھا یہ زمانہ اور ہے۔  تحریر عبد الباقی چترالی

صدیوں سے نسل انسانی مختلف مذاہبِ، مسلک،قبائیل برادریوں اور خاندانوں میں تقسیم ہیں۔ اسی طرح ہر خطے کے رنگ و نسل،رسم ورواج اور ثقافت بھی مخلتف ہیں۔پرانے زمانے میں ہمارے معاشرے میں بہوئیں اپنے سسرال والوں کی ایسے خدمات کیا کرتی تھی جیسا وہ اپنے گھر والوں کی خدمات کیا کرتی ہیں۔سسرال والے بھی بہو سے اپنی بیٹی جیسی سلوک روا رکھتی تھی۔ پرانے زمانے کے بہوئیں امور خانہ داری کے ساتھ ساتھ مال مویشیوں کی بھی دیکھ بھال کیا کرتی تھیں۔وہ انتہائی مشقت برداشت کر کے گوبر جلا کر گھر والے کے لئے کھانا پکاتے تھے۔ موجودہ دور کے بہوئیں مال مویشی کی دیکھ بھال کرنا دور کی بات وہ باورچی خانے میں لکڑی جلا کر کھانے پکانے کو تیار نہیں۔وہ گھر والوں سے کھانا پکانے کے لئے گیس اور بجلی کے اووین کا مطالبہ کرتی ہیں۔آج کی تعلیم یافتہ بہوئیں ساس اور سسر کی خدمت کرنا دور کی بات ہے بلکہ وہ ان کو اپنے لئے اضافی بوجھ قرار دیتی ہیں۔

وہ خود کو شوہر کے خدمت اور اپنی بچوں کے دیکھ بھال کے زمہ دار سمجھتی ہیں۔ساس اور سسر کی خدمت کو ان کی اولاد کی زمہ داری قرار دیتی ہیں۔ اگرچہ از روئے شریعت بہو پر ساس اور سسر کی خدمت کرنا واجب نہیں لیکن اخلاقی طور پر ساس اور سسر کی خدمت کرنا چاہیے۔اس کی شوہر کے والدین ہونے کے ناطے ان کے خدمت بجا لانا بہو کی اخلاقی زمہ داری بنتی ہے۔تاکہ وہ بھی جب آئیندہ ساس بنے گی تو اس کو بھی وہی رؤیہ اس کی بہو سے مل سکے۔ہمارے معاشرے میں جب نئے بہو گھر میں لائی جاتی ہے تو ابتدائی دنوں میں ساس بہو کے تعلقات انتہائی خوشگوار ہوتی ہیں۔نئے بہو ساس کی ہدایات اور مشوروں پر تابعداری کے ساتھ عمل درآمد کرتی ہے۔جب کچھ ہی عرصے گزر جاتی ہیتو بہو خود کو گھر کی ملکہ تصور کر کے ساس کی ہدایات اور مشوروں کو پس پشت ڈال کر تمام گھریلو امور اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق انجام دینے کی کوشش کرتی ہے تو یہاں سے ساس بہو کی تعلقات بگڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ساس کی زبان کی مٹھاس کڑواہٹ میں بدل جاتی ہے۔بہو کے ہر کام میں اسے نقص نظر آنے لگتی ہے۔

جب بہو ساس کی ناگوار باتوں پر خاموشی اختیار کرتی ہے تو ساس اسے گونگا شیطان قرار دیتی ہے۔بہو اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی جواب میں کچھ کہتی تو اسے زبان دراز کا طعن دی جاتی ہے۔اس قسم کی شکوہ شکایتوں اور الزام تراشیوں کی وجہ سے گھر کا پر سکون ماحول درہم برہم ہونے لگتی ہے۔ایسی صورت حال سے تنگ آکر بعض کم حکمت خواتین خود کشی کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔ موجودہ دور میں ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے خود کشیوں کی ایک بڑی وجہ گھریلو ناچاقیاں بھی ہیں۔موجودہ دور کے ساسیں اپنی بہو سے ایسی خدمات کی توقع رکھتی ہیں جیسے وہ اپنی جوانی میں اپنے سسرال والوں کی خدمات کیا کرتی تھیں۔ وہ زمانہ اور تھا جب بہوئیں دل وجان سے اپنے سسرال والوں کی خدمات بجا لایا کرتی تھیں۔یہ زمانہ اور ہے موجودہ دور کے تعلیم یافتہ بہوئیں ساس اور سسر کی خدمت کرنا دور کی بات ہے وہ ان کو دو وقت کے کھانا کھلانے کو اپنے لئے عذاب سمجھتی ہیں۔جب اولاد جوان ہوتے ہیں تو ماں باپ اس امید پر ان کے شادی کراتے ہیں کہ گھر میں بہو آئے گی ان کو راحت اور آرام ملے گا۔ لیکن آج کل کی تعلیم یافتہ بہوئیں گھر میں داخل ہوتے ہی شوہر سے والدین سے علیحدہ رہائش اختیار کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔

موجودہ دور کے نوجوان لڑکے اپنی شریک حیات کی خواہشات اور رضا مندی کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑھاپے کے عمر میں والدین کو بے سہارا چھوڑ ان سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں۔آج کل کے نوجوانوں لڑکوں کا شادی کے بعد ماں باپ کے ساتھ رویہ بدل جاتی ہے۔شادی کے بعد وہ ماں باپ کے ساتھ سرد مہری سے پیش آتے ہیں۔وہ والدین کی رضامندی کو پس پشت ڈال کر اپنے شریک حیات کی رضامندی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔جس سے والدین کی دل شکنی ہوتی ہے۔والدین جتنے عرصے دنیا میں رہے اولاد کو ان کے خدمات بجا لانا چاہیے۔ہر وقت ان کی رضامندی کا خیال رکھنا چاہیے۔کیونکہ والدین اولاد کے لئے دنیا میں سب سے زیادہ حسن سلوک کے مستحق ہوتے ہیں۔ماں باپ کی دعاؤں سے اولاد کو دونوں جہانوں میں کامیابی ملتی ہے۔

والدین کی ناقداری کرنے والے عبرت ناک انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ عورت زات کسی حال میں خوش نہیں رہتی ہے۔ جب وہ بہو بن جاتی ہے تو اسے اچھے ساس نہ ملنے کی شکایت ہوتی ہے۔جب وہ ساس بن جاتی ہے تو اسے اچھی بہو نہیں ملتی ہے۔ ساس بہو کا جھگڑا ہر معاشرہ اور علاقے میں پائی جاتی ہے۔ موجودہ حالات میں ساس کو بہو کے ساتھ وہی سلوک کرنی چاہیے جیسی سلوک وہ اپنی بیٹی کے ساتھ کرتی ہے۔ بہو کو بھی اپنے ساس کی ایسی عزت و احترام کرنا چاہیے جیسے اپنی ماں باپ کی عزت و احترام کرتی ہے۔ تو تمام گھریلو مسائل اور جھگڑے ختم ہو جائیں گے اور گھر کا ماحول امن و سکون کا گہوارہ بن جائے گا۔