وفاقی کابینہ نے 5 آئی پی پیز سے معاہدہ ختم کرنے کی منظوری دیدی
اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ) وفاقی کابینہ نے 5 آئی پی پیز سے معاہدہ ختم کرنے کی منظوری دے دی۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں ارکان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے 5 آئی پی پیز سے معاہدہ ختم کرنے کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔آئی پی پیز سے مہنگی بجلی کی پیداوار کے معاملے پر وفاقی کابینہ نے بڑے فیصلے کیے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں تقریبا2400 میگاواٹ صلاحیت کی 5 آئی پی پیز بند کرنے کی تجویز منظور کرلی گئی ہے، جس کے تحت آئی پی پیز میں 1200میگاواٹ صلاحیت سے زیادہ کی حبکو کو بند کیا جائے گا۔بجلی کے شعبے کی اصلاحات کے لیے قائم کردہ ٹاسک فورس اور ان آئی پیز کے مالکان کے مابین اتفاق اور ان معاہدوں کے اختتام کے عمل کی تفصیلات کابینہ کے سامنے پیش کی گئیں،
بجلی خرید کے معاہدوں کے اختتام کی فہرست میں HUBCO, LALPIR, Saba Power, Rousch Power اور Atlas Power شامل ہیں۔ان معاہدوں کو ختم کرنے سے بجلی صارفین کو 60 ارب روپے سالانہ کا فائدہ اور بجلی کے فی یونٹ نرخ میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔ مجموعی طور پر ملکی خزانے کو 411 ارب روپے کی بچت اور ان آئی پی پیز کو واجب الادا رقم پر کسی قسم کا سود نہیں دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق 362میگاواٹ صلاحیت کی اے ای ایس لال کو بند کیا جائے گا۔ 224 میگاواٹ کی اٹلس پاور کو بھی بند کردیا جائے گا۔ اسی طرح 136میگاواٹ کی صبا پاور بھی بند ہو ہوگا۔ ساتھ ہی 450 میگاواٹ کی روش پلانٹ کو بھی بند کردیا جائے گا۔وفاقی کابینہ کی جانب سے منظوری کے بعد ان کمپنیوں کی بورڈ میٹنگز بلائی جائیں گی اور ان کمپنیوں کے بورڈز سے بھی کابینہ فیصلے پر عملدرآمد کروایا جائے گا۔
واضح رہے کہ ان آئی پی پیز میں سے Rousch Power بلڈ اون آپریٹ اینڈ ٹرانسفر معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا، معاہدے کی رو سے اس کی ملکیت حکومت کو منتقل کرنے کے بعد اس کی پرائیویٹائزیشن کمیشن کے ذریعے نجکاری کی جائے گی۔ باقی ماندہ 4 آئی پی پیز کی ملکیت ان کے مالکان کے پاس رہے گی جبکہ حکومتی معاہدے کو ختم کرنے کے بعد حکومت کی جانب سے کسی قسم کی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔
پانچ آئی پی پیز سے معاہدو ں کو ختم کرنا بارش کا پہلا قطرہ ہے، اس سے 411 ارب روپے کی بچت ہو گی، وزیراعظم شہبازشریف کی کابینہ اجلاس میں گفتگو
اسلام آباد(سی ایم لنکس)وزریراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہیکہ پانچ آئی پی پیزسے کئے جانے والے معاہدے ان کی باہمی رضا مندی سے ختم کر دیئے گئے ہیں، ان آئی پی پیز نے قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر مقدم رکھا، اس سے 411 ارب روپے کی بچت ہو گی، معیشت کی بہتری کے لئے تیزی سے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، ہماری معیشت بتدریج استحکام کی جانب گامزن ہے، ترسیلات زر میں ریکارڈاضافہ ہوا ہے۔ جمعرات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتیہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اللہ کاشکر ہے کہ ملکی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔گزشتہ روز ایک اور خوشی کی خبر آئی کہ ہماری سہ ماہی ترسیلات زر 8ارب 80 کروڑ ڈالر سے تجاوزکر گئیں جو ماضی کی تمام سہ ماہی ترسیلات زر کے مقابلہ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اس کیلئے عظیم پاکستانی تارکین وطن کاشکریہ اداکرتیہیں جو دن رات محنت کر کے اپنے رزق حلال کی کمائی پاکستان بھیجتے ہیں۔ یہ اس بات کی غمازی کرتاہے کہ پاکستان کی معیشت اب آگے بڑھ رہی ہے۔ اس حوالے سے ابھی مزید سفر طے کرنا ہے جس میں ماضی کی طرح چیلنجز بھی آئیں گی
تاہم جس طرح 7 ماہ میں چیلنجز کا ایک ٹیم کے طورپر مقابلہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے ہماری محنت اور خلوص کا صلہ دیا، اسی طرح آئندہ بھی مشترکہ کاوشوں سے ان چیلنجز پر قابو پائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عام آدمی نے مہنگائی ، مہنگی پالیسی شرح سود، اشیاء خورد نوش کی قیمتوں میں اضافے سمیت بے پناہ مشکلات کاسامنا کیا ہے، پاکستان کے عوام نے تحمل اور صبر سے یہ مشکلات کاٹیں، ا ب بھی ایسا نہیں کہ یہ مشکلات مکمل ختم ہوگئی ہوں تاہم آہستہ آہستہ بہتری آرہی ہے، قوم نے جو قربانیاں دی ہیں ا س پر ہم سب ان کے شکر گزار ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ موسم گرما میں 50 ارب روپے سے 200 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو ریلیف دیا، پنجاب حکومت نے بھی دو ماہ کیلئے بجلی کے بلز میں 50 ارب روپے سیزیادہ کا ریلیف دیا، یہ وہ اقدامات ہیں جن سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کو درپیش مسائل سے نہ صرف پوری طرح آگاہ ہیں بلکہ انہیں ریلیف دینے کے لئے بھی ضروری اقدامات اٹھا رہی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے بغیریہ کہوں گا کہ ماضی میں ایک سنگدل حکمران آیا جس نے یہ کہا کہ مہنگائی سے اس کا کوئی سروکار نہیں تاہم موجودہ حکومت عوام کی نمائندہ حکومت ہے اور ہمیں عوام کو درپیش مسائل کا ادراک ہے اورہم مل کران مسائل کے حل کیلئے جو ممکن ہووہ کررہے ہیں، مہنگائی کی شرح 32فیصد سے کم ہوکر6.7فیصد تک آچکی ہے، ہماری قوم سے یہ کمٹمنٹ2026 تک تھی لیکن اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم سے یہ ممکن ہوا اور ا?ج مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر ا?گئی ہے، ہم عارضی اقداما ت کے ساتھ ساتھ طویل المدتی ریلیف اقدامات کیلئے بھی کوشاں ہیں، بجلی چوری کی روک تھام، لائن لاسز میں کمی اور ملکی آئی پی پیز سے معاہدے بڑے چیلنج ہیں،یہ آئی پی پیز بہت منافع کما چکے ہیں، وہ اپنی سرمایہ کاری کی لاگت نہ صرف پوری کرچکے ہیں بلکہ بڑا منافع بھی حاصل کرچکے ہیں، ا س کیلئے موجودہ حکومت نے 7 ماہ میں بھرپور کوشش کی ، ہمارے قائد نواز شریف بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے بار بارہمیں ہدایات دے رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ توانائی کی پوری ٹیم اور ٹاسک فورس اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے خلوص سے دن رات محنت کی ہے۔اس میں کئی چیلنجز بھی درپیش رہے، یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو وہ خوشخبری دینا چاہتے ہیں کہ 5 آئی پی پیز نے باہمی رضامندی اور قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے آج کے بعد معاہدے مکمل ختم کر دیئے ہیں، انہیں بقایاجات جس میں سود شامل نہیں ہے کی ادائیگی کی جائے گی۔ اس سے صارفین کو 60 ارب روپے سالانہ کا ریلیف ملیگا، بجلی کی قیمت کم ہو گی۔ آئی پی پیز کے مالکان نے رضاکارانہ طورپر اس کو قبول کیا ہیجس پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کے خاتمے سے 411 ارب روپے کی بچت ہو گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے بہتر اقدامات کی معاونت میں صدر مملکت آصف علی زرداری سمیت حلیف جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ معاشی بہتری میں کردار پر آرمی چیف کا خصوصی شکریہ ادا کرتاہوں۔ انہوں نے کہاکہ امریکا میں آئی ایم ایف کی سربراہ سے ملاقات کے دوران انہیں اس حساسیت سے آگاہ کیاتھا کہ اگر بجلی کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہوں گی تو یہاں پر صنعت و زراعت ترقی نہیں کر سکتی اور نہ ہی برآمدات بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری ٹیم آئی ایم ایف کے پاس جارہی ہے۔ وزیر خزانہ کے ساتھ وزیر توانائی اور خصوصی مشیر بھی جائیں گے اور آئی ایم ایف کو سارا کیس سمجھائیں گے۔وزیر خزانہ کو پہلے ہی آئی ایم ایف نے کلیدی سپیکر کے طورپر مدعو کر رکھا ہے جو ہمارے لئے اعزاز ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وزیر خزانہ کی بے پناہ کوششوں اور چین اور سعودی عرب کے تعاون سے آئی ایم ایف پروگرام پرمعاہدہ ہوا وزیراعظم نے کہاکہپانچ آئی پی پیز سے معاہدے کو ختم کرنا بارش کا پہلا قطرہ ہے،آنے والے دنوں میں مزید خوشخبریاں ملیں گی۔