The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 5 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں 128 ارب روپے کے بقایاجات کی ادائیگیوں کا معاملہ وزیر اعظم کے ساتھ اٹھا لیا، وزیراعظم کو مراسلہ ارسال کردیا گیا

Chitral Times

وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں 128 ارب روپے کے بقایاجات کی ادائیگیوں کا معاملہ وزیر اعظم کے ساتھ اٹھا لیا، وزیراعظم کو مراسلہ ارسال کردیا گیا

وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں 128 ارب روپے کے بقایاجات کی ادائیگیوں کا معاملہ وزیر اعظم کے ساتھ اٹھا لیا، وزیراعظم کو مراسلہ ارسال کردیا گیا

وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں 128 ارب روپے کے بقایاجات کی ادائیگیوں کا معاملہ وزیر اعظم کے ساتھ اٹھا لیا، وزیراعظم کو مراسلہ ارسال کردیا گیا

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں خیبر پختونخوا کے بقایاجات کی ادائیگیوں کا معاملہ وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ اٹھا لیا۔ اس سلسلے میں وزیر اعلی نے وزیراعظم شہباز شریف کو مراسلہ ارسال کر دیا۔ مراسلے میں پن بجلی کے خالص منافع سے متعلق آئین پاکستان کے متعلقہ شق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل (2)161 میں پن بجلی کے خالص منافع کا معاملہ واضح کیا گیا ہے جس کے مطابق پن بجلی گھروں سے حاصل ہونے والی منافع کی رقم متعلقہ صوبوں کو ملنا ہے جبکہ صوبوں کو ملنے والی پن بجلی کے منافع کی رقم کی شرح کا تعین مشرکہ مفادات کونسل نے کرنا ہے۔ مراسلے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل نے اس مقصد کے لئے 1991 میں قاضی کمیٹی میتھاڈالوجی (کے سی ایم) کی منظوری دی تھی جس کے تحت 1992 میں اس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبے (خیبر پختونخوا) کو چھ ارب روپے کی پہلی ادائیگی ہوئی تھی۔ بعد ازاں سال 1997 میں نیشنل فنانس کمیشن اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اس کے سی ایم فارمولے کی توثیق کی ہے،

سال 2016 میں وفاقی حکومت نے اس معاملے سے متعلق ایک عبوری طریقہ کار بھی متعارف کروا دیا اور مشترکہ مفادات کونسل نے بھی اس عبوری طریقہ کار کی توثیق کی ہے جس کے مطابق پن بجلی کے خالص منافع کی شرح 1.10 روپے فی کلوواٹ آور بمعہ پانج فیصد سالانہ اضافہ مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طریقہ کار کے تحت واپڈا نے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ادائیگیاں شروع کیں تاہم مذکورہ طریقہ کار کے تحت باقاعدگی سے ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے خیبرپختونخوا کی 75 ارب روپے کی واجبات جمع ہوگئیں ہیں۔ مراسلے میں وزیر اعلی نے کہا ہے کہ سال 2018 میں خیبر پختونخواہ حکومت نے کے سی ایم فارمولے پر مکمل عملدرآمد کے لئے معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھا لیا جس کے نتیجے میں مشترکہ مفادات کونسل نے پن بجلی کے خالص منافع کی شرح کا تعین کرنے کے لئے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن کی سربراہی میں ایک کمپنی تشکیل دی، اس کمیٹی نے دسمبر 2019 میں اپنی رپورٹ پیش کی جس کی مشترکہ مفادات کونسل نے توثیق کردی ہے،

اس رپورٹ میں مالی سال 17-2016 کے لئے کے سی ایم فارمولے کے مطابق خیبرپختونخوا کے 128 ارب روپے بقایاجات کی تصدیق کی گئی ہے۔ مراسلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بعد ازاں صوبوں کو پن بجلی کے خالص منافع کی ادائیگیوں کے معاملے کا اوٹ آف دی باکس حل تجویز کرنے کے لئے ایک اور کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور مذکورہ کمیٹی نے اس معاملے کے حل کی طرف پیشرفت کے لئے تمام شراکت داروں سے تجاویز طلب کی ہے جس کے جواب میں خیبر پختونخوا حکومت نے اس سلسلے میں اپنی تجاویز پلاننگ کمیشن کو ارسال کردی ہے۔ مراسلے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کو درپیش مالی بحران کے پیش نظر اس مسلئے کے فوری حل کی ضرورت ہے لہذا آوٹ آف دی باکس کمیٹی کا اجلاس جلد بلانے کے لئے پلاننگ کمیشن کو احکامات جاری کئے جائیں تاکہ آئین کے تقاضوں اور مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کے مطابق اس دیرینہ مسئلے کا منصفانہ حل نکالا جاسکے۔ وزیر اعلی نےامید ظاہر کی ہے کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف خیبر پختونخوا کے عوام کو ان کے آئینی اور قانونی حقوق دلانے میں قائدانہ کردار ادا کریں گے۔

chitraltimes cm kp letter to pm shehbaz sharif for electricity laibilities