وزیر اعلیٰ کا مراکزصحت میں غیر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی پر متعلقہ مرکز صحت کے خلاف سخت کاروائی کی ہدایت
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی زیر صدارت محکمہ صحت کے ذیلی اداروں ہیلتھ کیئر کمیشن اور ڈائریکٹوریٹ آف ڈرگ کنٹرول اینڈ فارمیسی سروسز کا اجلاس بدھ کے روز وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہو اجس میں دونوں اداروں کے اغراض و مقاصد، کارکردگی اور درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے صحت احتشام علی، سیکرٹری صحت عدیل شاہ کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر محمد سلیم، ڈائریکٹر جنرل ڈرگ کنٹرول ڈاکٹر عباس اور سی ای او ہیلتھ کیئر کمیشن ڈاکٹر ندیم نے اجلاس میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے ہیلتھ کیئر کمیشن کو صوبے میں صحت سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے پلان بنا کر اس پر فوری عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے ہیلتھ کیئر کمیشن کو مراکز صحت کا سرجیکل اور کلینکل آڈٹ کرنے اور باقی ماندہ غیر رجسٹرڈ مراکز صحت کو بھی رجسٹر کرنے کیلئے بھی پلان بنا کر اس پر عملدرآمد کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ مقررہ ہدف کے حصول کے لیے ٹائم لائنز کے مطابق کام کیا جائے اور باقاعدگی سے جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے ہیلتھ کیئر کمیشن میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کیلئے فوری طور پر درکار سٹاف بھرتی کرنے اور مراکزصحت میں غیر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی پر متعلقہ مرکز صحت کے خلاف سخت کاروائی کرنے بھی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ڈائریکٹوریٹ آف ڈرگ کنٹرول کو ڈویژنل ہیڈکوارٹر کی سطح پر کم ازکم ایک موبائل ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام اور سرکاری ہسپتالوں میں فارماسسٹس کی خالی پوسٹوں پر بھرتیاں عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس کو سی ای او ہیلتھ کیئر کمیشن کی کارکردگی بارے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اب تک ہیلتھ کیئر کمیشن نے 18911 مراکز صحت کو رجسٹرڈ کر لیا ہے جبکہ مراکز صحت کی رجسٹریشن کے لیے آن لائن پورٹل اور آسان طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ گزشتہ ڈھائی سالوں میں مجموعی طور پر 38443 مراکز صحت کی جیو ٹیگنگ کی جاچکی ہے جبکہ لائسنسنگ کے لیے 159 مراکز صحت کی اسسمنٹ بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
مزید برآں ،گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران 317 مراکز صحت کی عبوری جبکہ 54 مراکز صحت کی مکمل لائسنسگ کی گئی۔ اسی عرصے میں ہیلتھ کیئر کمیشن کو 3006 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 2839 حل کر لی گئی ہیں، حل شدہ شکایات کی مجموعی شرح 94 فیصد ہے۔ گزشتہ ڈھائی سالوں میں 10085 مراکز صحت کے انسپکشنز کیے گئے جن میں سے 2606 مراکز صحت کو نوٹسز جبکہ 2062 مراکز صحت کو سیل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عطائیت سے متعلق 1523 کیسز سنے گئے ہیں ، 1189 مراکز صحت پر جرمانے جبکہ 763 مراکز صحت کو مکمل سیل کیا گیا ہے۔ ہیلتھ کیئر کمیشن کے زیر اہتمام 835 سرکاری اور نجی اسپتالوں کا سٹاف ٹرین کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ڈرگ کنٹرول کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈائریکٹوریٹ آف ڈرگ کنٹرول کے تحت رواں سال اب تک 13928 فارمیسیز کا معائنہ کیا گیا اور ادویات کے 1977 سٹاک ضبط کیے گئے ، کوالٹی ٹیسٹنگ کے لیے 8493 نمونے لیے گئے جن میں سے 992 نمونے غیر معیاری ثابت ہوئے ہیں جبکہ211 نمونوں کو سپوریس قرار دیا گیا ہے۔234 فارمیسیز کو سیل، 107 فارمیسیز کے خلاف ایف آئی آرز درج کرائی گئی ہیں۔ سال 2024 میں ڈرگ کورٹ نے قید کے علاوہ 8.59 ملین روپے کے جرمانے عائد کیے ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے چیئرمین پرائم منسٹر انسپکشن کمیشن بریگیڈیئر ریٹائرڈ مظفر علی رانجھا کی ملاقات
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے بدھ کے روز چیئرمین پرائم منسٹر انسپکشن کمیشن بریگیڈیئر ریٹائرڈ مظفر علی رانجھا نے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ملاقات کی۔ ملاقات میں خیبر پختونخوا میں فیڈرل پی ایس ڈی پی کے تحت ترقیاتی منصوبوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری ، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز اکرام اللہ خان اور محمد عابد مجید کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار کو تیز کرکے ان کی جلد تکمیل کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا اور منصوبوں پر عملدرآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کےلئے متعلقہ محکموں کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن کی ضرورت پر زور دیا گیا اور اس سلسلے میں متعلقہ وفاقی اور صوبائی محکموں کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی گئی۔ زیر بحث منصوبوں میں چترال شندور روڈ، پشاور ناردرن بائی پاس، سی آر بی سی ، ہنگو روڈ اور دیگر اہم منصوبے شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ فیڈرل پی ایس ڈی پی کے تحت خیبر پختونخوا میں جو منصوبے شروع کئے گئے ہیں ان کی تکمیل ضروری ہے، عوامی فلاح و بہبود کے اہم منصوبے ہیں، صوبائی حکومت ان کی تکمیل کےلئے اپنے حصے کی ذمہ داری ہر صورت پوری کرے گی۔سی آر بی سی لفٹ کینال کا منصوبہ نہ صرف صوبے بلکہ ملک کی فوڈ سکیورٹی کےلئے بھی اہم ہے، وفاقی حکومت اس منصوبے پر عملدرآمد کےلئے اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ مظفر رانجھا نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں فیڈرل پی ایس ڈی پی کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل یقینی بنائی جائے گی، یہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے ہیں، انہیں ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔
