The Voice of Chitral since 2004
Friday, 6 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وزیراعلیٰ کے زیرصدارت ائیرکوالٹی سے متعلق اجلاس،  صوبے میں الیکٹرک وہیکل پالیسی لانے کا فیصلہ، ایکشن پلان کو حتمی شکل دیدی گئی، حتمی منظوری کیلئے صوبائی کابینہ کو پیش کیاجائیگا

Chitral Times

وزیراعلیٰ کے زیرصدارت ائیرکوالٹی سے متعلق اجلاس،  صوبے میں الیکٹرک وہیکل پالیسی لانے کا فیصلہ، ایکشن پلان کو حتمی شکل دیدی گئی، حتمی منظوری کیلئے صوبائی کابینہ کو پیش کیاجائیگا

وزیراعلیٰ کے زیرصدارت ائیرکوالٹی سے متعلق اجلاس،  صوبے میں الیکٹرک وہیکل پالیسی لانے کا فیصلہ، ایکشن پلان کو حتمی شکل دیدی گئی، حتمی منظوری کیلئے صوبائی کابینہ کو پیش کیاجائیگا

وزیراعلیٰ کے زیرصدارت ائیرکوالٹی سے متعلق اجلاس،  صوبے میں الیکٹرک وہیکل پالیسی لانے کا فیصلہ، ایکشن پلان کو حتمی شکل دیدی گئی، حتمی منظوری کیلئے صوبائی کابینہ کو پیش کیاجائیگا

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت منگل کے روز ایئر کوالٹی سے متعلق ایک اہم اجلاس وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبے خصوصاً صوبائی دارالحکومت پشاور میں ائیر کوالٹی سے متعلق معاملات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اہم فیصلے کیے گئے۔ صوبائی کابینہ اراکین بیرسٹر محمد علی سیف ، پیر مصور شاہ کے علاوہ چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ وڈویلپمنٹ اکرام اللہ خان، متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اور دیگر حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔  اجلاس میں مستقبل میں فضائی آلودگی کے مسائل سے نمٹنے کے لئے صوبے میں الیکٹرک وہیکل پالیسی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ پشاور میں ائیر کوالٹی انڈکس کو بہتر بنانے اور سموگ کے مسئلے پر قابو پانے کے لئے ایکشن پلان کو حتمی شکل دیدی گئی ہے۔ایکشن پلان حتمی منظوری کے لئے صوبائی کابینہ کو پیش کیا جائے گا۔ ایکشن پلان پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کے لئے ٹاسک فورس تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

ایکشن پلان کے تحت مختلف قلیل المدتی،  وسط المدتی اور طویل المدتی اقدامات تجویز کرنے کے ساتھ ساتھ  تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔ مزید برآں ، تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کے اقدامات کو مربوط بنانے کے لئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے اور پشاور و گردونواح کے اضلاع میں ائیر کوالٹی انڈکس کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ کے لئے جدید کنٹرول روم قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ صنعتوں سے نکلنے والے دھویں کی باقاعدگی سے نگرانی کے لئے ایمیشن مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنے جبکہ پشاور کے انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس پر گاڑیوں کی ایمیشن ٹیسٹنگ کے لئے میکنزم وضع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔  گاڑیوں کی فٹنس سرٹیفیکیشن کے عمل کو ڈیجیٹائز کرنے اور صوبے میں اینٹ بھٹوں کی رجسٹریشن اور انہیں مرحلہ وار زیگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کو صوبے میں قائم غیر قانونی کرشنگ پلانٹس کو بند کرنے کے فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور فضائی آلودگی کا سبب بننے والے صنعتی یونٹس کے خلاف سخت کارروائیاں عمل میں لانے کا فیصلہ ہوا ہے۔  اسی طرح غیر معیاری تیل فروخت کرنے والے پیٹرول پمپس کے خلاف بھی کارروائی کرنے اور تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کی سطح پر ائیر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشن نصب کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں ائیر پیوریفیکیشن ٹاورز نصب کرنے اور انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پہلے مرحلے میں ریجنل سطح پر ایجنسی کے دفاتر قائم کرنے جبکہ سموگ اور فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لئے متعلقہ محکموں، اکیڈیمیا، اور ڈونر ایجنسیوں کے درمیان موثر اور بامقصد روابط استوار کرنے کا فیصلہ بھی ہوا ہے۔ آلودگی کے خاتمے کیلئے عوام الناس کو آگہی دینے کے لئے ایک موثر مہم شروع کرنے اور  آنے والی شجرکاری مہم میں بڑے پیمانے پر ماحول دوست پودے لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔  اجلاس کو پشاور میں ائیرکوالٹی کی موجودہ صورتحال، اس کو متاثر کرنے والے عوامل اور دیگر امور کے بارے  بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ  فضائی آلودگی کا سبب بننے والا سب سے بڑا شعبہ ٹرانسپورٹ ہے جس کا فضائی آلودگی میں 58 فیصد کردارہے،دوسرے نمبر پر سڑکوں سے اٹھنے والی گردوغبار ہے جو 17 فیصد آلودگی کا سبب بن رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فضائی آلودگی ایک اہم مسئلہ ہے جس پر قابو پانے کے لئے اگر ابھی سے اقدامات نہ کئے گئے تو یہ سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے۔

صوبائی حکومت اس مسئلے سے مو ثر انداز میں نمٹنے کے لئے پر عزم ہے۔ فضائی آلودگی کا سبب بننے عوامل کی صحیح نشاندہی کرکے  ان سے نمٹنے کے لئے ایک جامع اور قابل عمل حکمت عملی وقت کی اشد ضرورت ہے اور صوبائی حکومت اس سلسلے میں بننے والے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لئے درکار وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔  بہتر نتائج کے لئے ایکشن پلان میں تجویز کئے گئے اقدامات پر عملدرآمدکے لئے ٹائم لائینزمقرر کی جائیں اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کا موثر نظام وضع کیا جائے۔  فضائی آلودگی کا سبب بننے والی گاڑیوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے اقدامات کئے جائیں لیکن اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ کسی کا روزگار متاثر نہ ہو۔ سرکاری دفاتر، سڑکوں کے اطراف اور دیگر عوامی مقامات پر شجرکاری اور سبزہ اگانے پر خصوصی توجہ دی جائے جبکہ شہری علاقوں میں سڑکوں کی باقاعدگی سے صفائی کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ مزید برآںتعلیمی اداروں میں بچوں کو فضائی آلودگی سے متعلق آگہی دینے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔

chitraltimes cm chairing meeting air quality 1