گورنر اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بریپ اپرچترال میں سڑک حادثے میں پانچ قیمتی جانوں کی ضیاع پر افسوس اور تعزیت کا اظہار
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ )وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے ضلع اپر چترال کے علاقہ بریپ میں سڑک کے حادثے میں بچوں سمیت پانچ افراد جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ یہاں سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیر اعلی نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کی معفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ وزیر اعلی نے حادثے کے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے بھی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ کو زخمیوں کو بہترین طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
اسی طرح وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے ضلع اپر دیر کے علاقہ عشیرئ درہ میں سیلابی ریلے میں بہہ کر دو افراد کے جاں بحق اور ایک کے لاپتہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ یہاں سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیر اعلی نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کی معفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ وزیر اعلی نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو لاپتہ شخص کو ڈھونڈنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کے دکھ درد میں برابر کی شریک ہے، صوبائی حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
دریں اثنا وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور نے نوشہرہ کے علاقہ اکبر پورہ میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں صحافی حسن زیب کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کے اعلی حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے اور پولیس کو قتل میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کے لئے کاروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے۔ یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلی نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قتل میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتے، انہیں جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور لواحقین کو انصاف دینے کے لئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وزیر اعلی نے مقتول کے اہل خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مقتول کی معفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے اور کہا ہے کہ وہسوگوار خاندان اور صحافی برادری کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔