نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواکا خصوصی افراد کے لئے ایٹا کے تحت ہر قسم کے ٹیسٹ میں حصہ لینے والے معذور امیدواروں کے لئے ٹیسٹ فیس معاف کرنے کا فیصلہ
پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ نے صوبے کے خصوصی افراد کے لئے ایک بڑے ریلیف کے طور پر ایٹا کے تحت ہر قسم کے ٹیسٹ میں حصہ لینے والے معذور امیدواروں کے لئے ٹیسٹ فیس معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے اب ایٹا کے تحت کسی بھی ٹیسٹ میں حصہ لینے والے معذور امیدوار ٹیسٹ فیس جمع کرانے سے مستثنیٰ ہونگے۔ یہ فیصلہ انہوں نے پیر کے روز ایجوکیشن ٹیسٹنگ اینڈ ایوالویشن ایجنسی (ایٹا) کے بورڈ آف گورنرز کے 31 ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ نگران صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر قاسم جان کے علاو ہ سیکرٹری اعلیٰ تعلیم ارشد خان، سیکرٹری صحت محمود اسلم وزیر اور دیگر بورڈ اراکین نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف ایٹا ٹیسٹس کے دوران امیدواروں سے ضبط کئے گئے موبائل فونز کو ڈسپوز آف کرنے کے سلسلے میں طریقہ کار وضع کرنے کے لئے نگران صوبائی وزیر جسٹس (ر) ارشاد قیصر کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو ضبط شدہ موبائل فونز سے متعلق تمام قانونی اور تیکنیکی پہلووں کا جائزہ لے کر حتمی سفارشات پیش کرے گی۔ اجلاس میں بورڈز امتحانات اور ایٹا کے تحت ٹیسٹس میں نقل کی روک تھام سے متعلق امور پر غوروخوص کیا گیاجبکہ امتحانات اور ٹیسٹس میں نقل کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے موثر تدارک کے لئے لائحہ عمل ترتیب دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کو مل بیٹھ کر کام کرنے کی ہدایت کی گئی۔ علاو ہ ازیں امیدواروں کو نقل میں معاونت فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور وزیر اعلیٰ نے اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو نشان عبرت بنانے کے لئے متعلقہ قوانین میں ترامیم کرکے سخت سے سخت سزائیں تجویز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امتحانات میں نقل ایک ناسور اور معاشرے کے خلاف جرم ہے اس کی موثر روک تھام کے لئے سخت سے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے تمام شراکت دار محکموں اور اداروں کو مل کر ایک جامع اور موثر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مزید برآںاجلاس میں ایٹا کے بجٹ تخمینہ جات برائے مالی سال 24-2023 کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
دریں اثنا نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ سے پیر کے روز سابق سینیٹر سلیم سیف اللہ خان کی قیادت میں خیبر پختونخوا ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے وفد نے وزیر اعلیٰ ہاو ¿س پشاور میں ملاقات کی اور صوبے کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو درپیش مسائل سے متعلق وزیر اعلیٰ کو آگاہ کیا۔ نگران صوبائی وزیر برائے صنعت عامر عبداللہ ، سیکرٹری صنعت سید ذوالفقار علی شاہ، سیکرٹری انرجی اینڈ پاور نثار احمد ، چیف ایگزیکٹیو آفیسر خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ امنیجمنٹ کمپنی جاوید خٹک اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وفد نے وفاقی حکومت کی جانب سے صنعتوں کے لئے گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سے معاملہ فوری طور پر وفاق کے ساتھ اٹھانے کی اپیل کی ہے۔ وفد نے صوبے کی ٹیکسٹائل صنعتوں کو درپیش مسائل سے متعلق وزیر اعلیٰ کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے صوبوں کی مشاورت کے بغیر صنعتی گیس کی قیمت 1238 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھا کر 2400 روپے کر دی ہے، اس کے علاوہ صوبے کی صنعتوں کو بلینڈڈ گیس فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفد نے مزید بتایا کہ فیصلے کے تحت صوبے کی صنعتوں کو 80 فیصد قدرتی جبکہ 20 فیصد آر ایل این جی ملے گی جس سے گیس کی فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت 3100 روپے ہوجائے گی۔ وفد نے کہا کہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تووہ صوبے کی بچی کھچی صنعتیں بھی بند کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔وفد کے اراکین نے مزید بتایا کہ اس فیصلے پر سندھ اور بلوچستان کے بھی تحفظات ہیں، خیبر پختونخوا اپنی ضرورت سے ذیادہ گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل 158 کے مطابق گیس کے پیداواری صوبے کا پہلا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا 550 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر رہا ہے جبکہ صوبہ مجموعی طور پر 200 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کر رہا ہے۔خیبر پختونخوا میں صنعتی شعبہ صرف 35 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کر رہا ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ سید ارشد حسین شاہ نے وفد کے تحفظات کو جائز قرار دیتے ہوئے معاملہ نگران وزیر اعظم کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ صوبے کی صنعتوں کے لئے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ سنجیدہ معاملہ ہے،اس سے صوبے کی صنعتیں بری طرح متاثر ہونگی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ معاملہ جلد نگران وزیراعظم کے ساتھ اٹھایا جائے گااور امید ہے وزیراعظم اس سلسلے میں ہماری شنوائی کریں گے۔

