نجکاری کمیشن نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی منظوری دے دی
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) نجکاری کمیشن بورڈ نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز)کی نجکاری کی منظوری دے دی ہے۔نجکاری کمیشن بورڈ کا اجلاس وفاقی وزیربرائیسرمایہ کاری بورڈ،مواصلات اورنجکاری عبدالعلیم خان کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسکوز کی نجکاری کی منظوری کے ساتھ ساتھ مالیاتی مشیر لگانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ نجکاری کیحوالے سے2025 تک قانونی مراحل مکمل کیے جائیں گے۔ پہلیمرحلے میں تین ڈسکوز کی نجکاری ہوگی۔وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری پرائیوٹائزیشن کے لیینجی شعبے کی سنجیدگی کا اظہارہوگا۔ اداروں کی شفاف اور جلد از جلد نجکاری کو یقینی بنایا جائے۔ملکی معیشت کی مضبوطی اوربحالی کے لیے نجکاری کا عمل بہت اہمیت کا حامل ہے۔ نجی شعبے کو منتقل ہونے والیاداروں کو منافع بخش بنانے کیمضبوط امکانات ہیں۔ نجکاری کے تمام اہداف بروقت حاصل کریں، حتمی منظوری سی سی او پی دے گی۔
پنجاب بھر میں کوڑا ٹیکس عائد کردیا گیا
لاہور(سی ایم لنکس)پنجاب کے تمام شہروں میں کوڑا ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔صوبائی کابینہ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ نے کوڑا ٹیکس نافذ کرنے کی منظوری دی جس کے بعد نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔حکومت پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کوڑا ٹیکس، دیہاتی شہری علاقوں کے رہائشی افراد کے ساتھ چھوٹے اوربڑے کاروبار پر لگایا گیا ہے۔ کوڑا ٹیکس پنجاب بھر میں چھوٹے اور بڑے گھروں کی تناسب پر لگایا دیا گیا ہے۔ کچی ابادیوں کے مکینوں پر کوڑا ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق دیہاتوں میں 5 سے 10 مرلہ گھر پر 200 روپے ماہانہ کوڑا ٹیکس لگانے کی منظوری دی گئی ہے۔ دس مرلہ سے ایک کنال یا بڑے گھر پر 400 روپے ماہانہ کوڑا ٹیکس لگایا گیا ہے۔ دیہاتوں میں چھوٹے کاروبار اور دکانوں وغیرہ پر 300، درمیانے درجے کے کاروبار پر 700 جبکہ بڑے بزنس، فیکٹری، کارخانوں اورپیٹرول پمپس وغیرہ پر 700 روپے کوڑا ٹیکس لگایا گیا ہے۔لاہور شہر پر کوڑاٹیکس کی شرح دیہاتوں کی نسبت بڑھائی گئی ہے۔ شہری آبادی میں 5 مرلہ گھر پر 300، 5 سے 10 مرلہ گھر تک 500 روپے ماہانہ لیا جائے گا۔ دس مرلہ سے ایک کنال گھر پر 2 ہزارجبکہ اس سے بڑے گھر پر 5 ہزار ماہانہ ٹیکس لگایا گیا ہے۔شہروں میں دکانوں وغیرہ پر 500 روپے، درمیانے درجے کا کاروبار کرنے والوں سے ایک ہزارٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ شہروں میں فیکٹریوں، کارخانوں اور بڑے کاروبار کرنے والوں سے تین ہزار روپے ماہانہ ٹٰیکس لگایا گیا ہے۔