The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 4 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

نام میں کچھ رکھا ہے….. ڈاکٹر اسماعیل ولی

Chitral Times

نام میں کچھ رکھا ہے….. ڈاکٹر اسماعیل ولی

نام میں کچھ رکھا ہے اس لیے لوگ جذباتی ہو رہے ہیں
کویی بھی نام اوازوں کا مجموعہ ہوتا ہے- بعض اوازیں بہت مانوس ہوتی ہیں- بعض کم مانوس ہوتی ہیں- ناموں سے ایک حد تک ثقافت اور زبان و ادب کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں- ناموں کی اہمیت اس وقت سمجھ میں اتی ہے- جب ہم لوگوں کو اپنے نومولود بچوں یا بچیوں کے لیے نام ڈھونڈتے ہوے سر گرداں پاتے ہیں- وہ ایسے نام کی تلاش میں ہوتے ہیں- جو منفرد ہوں- شاید یہ بھی انسانی جبلت کا کویی حصہ ہو-
لوگ ناموں پہ سیاست کرتے ہیں- ہمارے صوبے کا نام کیوں بدلا گیا- مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کیوں کہا گیا- اداروں کو اپنے پسندیدہ شخصیات کا نام کیوں دیا جاتا ہے- چین اور روس نے جن علاقوں پر قبضہ کیا- ان علاقوں کے ناموں کو بھی بدلنے کی کوشش کی- یعنی ان کو روسیایا گیا یا چینیایا گیا- انگریزوں کا ہم پر ایک احسان یہ ہے- کہ ناموں کو بدل کر ہماری شناخت کو مسخ کرنے کی کوشش نہیں کی-
چند دنوں سے چترال میں ایک نیا ضلع بنانے کی خبریں ارہی ہیں- معلوم نہیں کہ اس اعلان کے عملی مضمرات کیا ہونگے- لیکن نام کے بارے میں زیرین چترال والوں ، تور کہو اور موڑ کہو والوں کی طرف سے ‘مستوج” کے لفظ پر اعتراضات سامنے ارہے ہیں- میں نے اج فیس بک پر ایک پوسٹ لکھا
” چترال کہوار لفظ نہیں ہے- اور نہ چترالی کہوار لفظ ہے- مستو ج کے ذریعے ایک کھوار لفظ کو رسمی طور پر محفوظ کیا جاے گا”
تو فورا تین رد عمل سامنے اےـ محترم پرو فیسر شفیق صاحب نے کہا ” یہ بھت منفی سوچ ہے- ہم مستوج کے نام کو کبھی قبول نھیں کریں گے”
لیکن محترم پرفیسر صاحب نے میری راے میں جو منفی پہلو ہے- اس کو سامنے لانے کے بجاے جذباتی ہو گیۓ- اور “ہم کبھی قبول نہیں کریں گے” کے ذریعے اپنے رد عمل کا اظہار کیا- وہ یہ بھی کہ سکتے تھے- کہ “میں اپ کی راے سے اتفاق نہیں کرتا”- یا یہ مناسب نام نہیں ہے- اس کے بجاے یہ مناسب نام ہوگا- ” لیکن جن الفاظ کے ذریعے پروفیسر صاحب نے میری راے پر تبصرہ کیا- میرے خیال میں ان میں نفی توانایی زیادہ ہے- اور تعصب کی بو ا رہی ہے- میں نے یہ نہیں لکھا” کہ ہم کبھی بھی کسی اور نام کو قبول نہیں کریںگے” ایسے الفاظ فراست سے زیادہ حماقت کو ظاہر کرتے ہیں- کیونکہ یہ حکومت کا کام ہے- کہ وہ لوگوں کی اکثریت کو سامنے رکھ کر کویی فیصلہ کرے گی- کہ کونسا نام مناسب رہے گا- شفیق صاحب کی غلط فہمی یہ ہے- کہ مجھے ضلع تورکہو یا ضلع موڑکہو کہنے پر کویی اعتراض ہے- مجھے اس پر اعتراض نہیں- میری راے میں جو بھی ہو وہ کہوار لفظ ہو- مستوج کا استعمال اسلے کیا- کہ ابھی اس کا نام سب ڈویژن مستوج ہے- ضلع مستوج کھنے سے کسی کے جذبات مجروح ہوے ہوں تو معذرت خواہ ہوں- اگر مستوج کا لفظ ان کے لیے اتنی تکلیف کا باعث ہو-
دوسرا رد عمل محترم عیسی خان صاحب کی طرف سے ایا- کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہویی- لیکن مجھے پسند اس لیے ہیں- اچھی انگریزی لکھتے ہیں- اور منطقی دلایل دینے پر مہارت حاصل ہے-
ساتھ تنقیدی فکر کا بھی حامل ہے- اپنے رد عمل میں میری راے کو “شناختی پریشانی ” سے جو ڑ دیا- چونکہ مستوج بقول عیسی خان صاحب ایک محدود جگے کی نمایندگی کرتا ہے- اور تعارف کرتے ہوے لوگوں کو سمجھنے میں دشوار ہوگی- کہ “مستو چکی” کیا بلا ہے- اور “چترالی” لوگوں کے لیے زیادہ مانوس ہے- لہذا اپر چترال مناسب رہے گا- اس دلیل میں وزن ہے- اگرچہ اس نے “مستوچ” اور “مستوچکی” کے الفاظ کو تھوڑی سی حقارت کے لہجے میں استعمال کیا ہے-
جناب والا، تور غور میرے خیال میں کسی نے سنا بھی نہیں تھا- اب ضلع ہے- اور اہستہ اہستہ یہ شناخت عام ہو رہی ہے- کوی بھی جگہ شروع میں اتنی مشہور نہیں ہوتی جنتا لوگ اس جگے کو مشہور کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں- یونان کو مشہور کرنے والے لوگ ارسطو اور افلاطون ہیں- پھر سکندر اعظم ہیں- انگلینڈ ایک غیر معرو ف جگہ تھی- انگریزوں نے کہاں سے کہاں پہنچایا- سولہ سو بیس میں کچھ زایرین “جنت” کی تلاش میں امریکہ پہنچے- ان کو کیا پتہ تھا- کہ ایک دن ان کے علاقے میں اقوام متحدہ کا دفتر بنے گا- اور ساری دنیا امریکہ والوں کی زیر نگین ہوگی- اج اپ کو مستوج یا تور کہو یا یا موڑکہویا بونی یا ریشن یا یار خون غیر معرو ف لگتا ہے- کل ہی یہاں سے کویی نوبل انعام لے گا- پھر ایک دو دن میں اس گاوں کا نام ساری دنیا میں عام ہو جاے گا- اسلیے کسی علاقے کا کم معروف ہونا اس بات کے لیے کا فی دلیل نھیں ہے- نام پڑنے کے بعد یہ نام خود بہ خود معرو ف ہو جاتے ہیں-
دوسری بات، ابھی ٹھیک ہے اس کا نام “بالایی چترال” یا اپر چترال رکھا”- کل مستوج یا تورکہو یا موڑکہو یا دروش الگ ضلع بنے گا- پھر اپر کا سابقہ یا لاحقہ کام نہیں کرے گا-
تییسری بات، مقامی نام محقیقین کے لیے بھت ضروری ہوتے ہیں- ان کی لسانی اور ثقافتی اہمیت سے کویی انکار نہیں کرسکتا 150 ان میں لسانی اور ثقافتی تاریخ چھپی ہوتی ہے- اپ خود “شناختی کنفیو ژن” کی بات کرتے ہیں- محقق کی دلچسپی “چترال” یا “چترالی” میں نہیں بلکہ “چھترار” اور “چھتراری” میں ہوگی- وہ دو الفاظ اس کو کنفیوز کرینگے-
ایک اور رد عمل کرنل (ر) افتخار کی طرف سے ایا” اگر کہوار نام ہی ضروری ہے-تو مستوج کے جیم کو بھی چ سے بدلنا ہوگا” اگر اس راے میں طنز نہ ہیں- بڑی اچھی سوچ ہے-
خلاصہ، نیے ضلع کا جو نام ہو- وہ کہوار ہو- اور یہی ہماری شناخت ہے- یہ میری راے ہے- باقی اختلاف راے کا حق سب کو حاصل ہے-