معدنیات سے متعلق فیصلہ سازی کےلئے اسٹیک ہولڈرز اور سرمایہ کاروں پر مشتمل بااختیار کمیٹی تشکیل دی جائے۔ منرل ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) منرل ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے صدر افسر خان نے وزیراعلی سے مطالبہ کیا ہے کہ کانوں اور معدنیات سے متعلق فیصلہ سازی کےلئے اسٹیک ہولڈرز اور سرمایہ کاروں پر مشتمل بااختیار کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ اس سیکٹر کی ترقی کےلئے حقیقی معنوں میں کچھ کیا جاسکے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبائی قانون ساز اسمبلی سے قانون سازی کرائی گئی ہے جس میں لیز ہولڈرز اور سرمایہ کاروں کی منرل ایسوسی ایشن سے مشاورت کے بغیر معدنیات پر زیادہ ٹیکس عائد کیا گیا ہمارے منتخب ایم پی اے نے ہم سے، اپنے حلقوں سے مشاورت کیے بغیر اس قانون سازی کو ووٹ دیاجس پر ہمیں تحفظات ہیں انہوں مزید کہا کہ کسی بھی قانون پر بحث کرنے سے پہلے متعلقہ ایم پی اے کو اپنے حلقے سے مشورہ کرنا چاہیے،کوئی بھی ایم پی اے جو اپنے حلقے سے مشورے کے بغیر کوئی رائے ایسی دیتا ہے جو لوگوں کی زندگیوں اور تقدیر پر اثر انداز ہونے والے فیصلوں میں حصہ ڈالے تو یہ پارلیمانی نظام جمہوریت میں غیر جمہوری ہے۔
افسر خان نے مطالبہ کہ صوبائی حکومت نے جو قانون پاس کیا ہے اسے واپس لیا جائے کیونکہ اس حوالے سے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی گئی۔علاوہ ازیں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں 50 فیصد ممبران منرل ایسوسی ایشن اور 50 فیصد ممبران محکمہ مائنز اینڈ منرلز سے ہوں۔ اس کمیٹی کو پارلیمنٹ سے پاس کرکے قانونی حیثیت دی جائے اور اسے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2017 کا حصہ بنایا جائے اور اس کمیٹی کو کانوں اور معدنیات سے متعلق ہر چیز پر فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے۔بصورت دیگر احتجاج پر مجبور ہونگے۔