مختصر سوانح حیات چترال کے اور ملک پاکستان کے عظیم علمی و روحانی شخصیت حضرت مولانا عبد الرحیم چترالی صاحب نورہ اللہ مرقدہ
تحریر: محمد نعمان بن مولانا عبد الرحیم چترالی نوراللہ مرقدہ
مرشدِ چترال حضرت مولانا خواجہ محمد مستجاب خان صاحب نقشبندی نور الله مرقدہ کے حقیقی علمی و روحانی جانشین شیخ التفسیر والحدیث استاذ العلماء درویشِ زمانہ سراپا شفقت و محبت حضرت مولانا عبدالرحیم چترالی صاحب نور الله مرقدہ سابق استاذ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور کا تعلق پاکستان کے خوبصورت علاقہ ضلع چترال سے تھا
آپ رح بالائی چترال کی مردم خیز وادی،،، اویر،،، میں آباد ایک نہایت معزز قبیلے (جس کا سلسلہ نسب محمود غزنوی سے جاملتا ہے)کے قدیم علمی خاندان میں حضرت مولانا خواجہ محمد مستجاب خان صاحب رح کے چھوٹے بھائی جناب عیدا خان مرحوم کے ہاں 1954 میں پیدا ہوۓ
آپ رح غالباً تین سال کے ہی تھے جب آپ کے والد محترم کا انتقال ہو گیا اور آپ شفقتِ پدری سے محروم ہو گئے
آپ نے غالباً گیارہ سال کی بہت چھوٹی عمر میں پشاور کی طرف پہلا سفر کیا
آپ کے کچھ قریبی رشتہ داروں کا یہ ارادہ تھا کہ آپ پشاور میں کچھ کام وغیرہ سیکھ لیں تاکہ گھر کے حالات کچھ بہتر ہو سکیں
اور آپ نے ابتداءً اپنے ایک عزیز کی دکان پر کچھ کام سیکھنا شروع بھی کیا تھا لیکن الله سبحانہ وتعالی آپ سے کچھ اور ہی کام لینا چاہتے تھے نہ صرف آپ کا عالم باعمل بننا طے ہو چکا تھا بلکہ آپ کا سینکڑوں علماء حفاظ و قراء کے لیے ذریعہ بننے کا فیصلہ بھی کیا جا چکا تھا
ہزاروں شاگردوں کا استاذ اور ہزاروں متعلقین کا مربی بننا آپ کے نصیب میں لکھ دیا گیا تھا،
اور پھر آپ نے دینی علوم کی ابتدا اپنے تایا جان خواجہ محمد مستجاب صاحب رحمہ اللہ سے کی پھر اس کے بعد مزید علم حاصل کرنے کے ارادے سے پشاور کے قدیمی دینی درسگاہ دارالعلوم سرحد میں داخلہ لے لیا
اور درجہ خامسہ تک کی تعلیم پشاور کے مختلف مدارس میں اپنے وقت کے جید علماء کرام سے حاصل کی۔۔
آپ کے مشہور استاتذہ میں حضرت مولانا فضل الرحمن فاضل مدرسہ امینیہ دھلی، حضرت مولانا محمد عمر فاضل دارالعلوم دیوبند، اور آپ کے محبوب استاذ حضرت مولانا عبدالرحیم چترالی سابق ایم این اے چترال شامل ہیں،،
آپ رح اپنے محبوب استاذ شیخ القرآن حضرت مولانا عبدالرحیم چترالی رح کے علوم سے بہت ہی متاثر تھے ان کا تذکرہ بہت ہی اونچے الفاظ کے ساتھ فرمایا کرتے تھے،
دارالعلوم سرحد کے زمانے میں کوئی ایک کتاب آپ نے خطیب اعظم حضرت مولانا محمد امیر بجلی گھر مرحوم سے بھی پڑھی تھی،،
اس زمانے میں کچھ عرصہ آپ شدید بیماری کی وجہ سے دوبارہ چترال بھی منتقل ہوۓ اس موقعے پر آپ اپنے تایا جان حضرت مولانا خواجہ محمد مستجاب خان صاحب رح کے ہاں ایون گاؤں میں ٹھہرے اور اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سی کتابیں اپنے تایا جان سے پڑھیں،،
آپ بتایا کرتے تھے کہ فنون کی ابتدائی بہت سی کتابیں آپ نے دو دو تین تین مرتبہ بھی پڑھی تھیں۔۔ مثلاً نحو کی ابتدائی مشہور کتاب نحو میر آپ نے تین مرتبہ پڑھی تھی

اسی وجہ سے فنون کی اکثر کتابوں کی عبارت بھی آپ کو زبانی یاد تھی، میں نے والد صاحب سے بہت سی کتابیں خارجی وقت میں پڑھنے کی سعادت حاصل کی ہے مثلاً کریما سعدی، تیسرالمبتدی ، پند نامہ، تیسر المنطق ،ایساغوجی مرقات ، قدوری نحومیر ھدایۃ النحو شرح مأۃ عامل ، ، مقامات حریری ،قطبی شرح جامی،شرح وقایہ، حسامی ، مختصر المعانی ، ،شرح عقود رسم المفتی وغیرہ ،،آپ لیٹے رہتے میں آپ کے پاس کتاب لیکر بیٹھ جاتا تھا اور آپ اکثر ہی زبانی پڑھاتے تھے۔۔۔
درجہ خامسہ مکمل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے آپ مرکزِ علم و عرفان شہر لاہور وارد ہوۓ یہ 1971 کی جنگ کا زمانہ تھا
کچھ دن ٹھہر کر آپ واپس پشاور چلے گئے جب جنگ اپنے اختتام کو پہنچی تو آپ دوبارہ لاہور آ گئے لاہور میں اسوقت آپ کے عزیز حضرت مولانا حاجی مبارک شاہ صاحب رح خادمِ خاص (حضرت مولانا مفتی محمد حسن امرتسری رح بانی جامعہ اشرفیہ) موتی مسجد گنگا رام میں مقیم تھے، آپ سیدھے ان کے پاس پہنچے انہوں نے آپ کو جامعہ اشرفیہ میں داخل کروا دیا
\
1972 کے اوائل میں آپ نے جامعہ اشرفیہ لاہور میں درجہ سادسہ میں داخلہ لیا،
فنون کی باقی کتابیں وقت کے اکابر اور جید اساتذہ کرام سے پڑھیں
آپ کے فنون کے اساتذہ کرام میں غزالئ دوران حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی البازی رح پیر طریقت جنیدِ زمانہ حضرت مولانا صوفی محمد سرور صاحب رح، امام المنقول والمعقول حضرت مولانا محمد یعقوب خان سواتی صاحب رح، استاذ الفنون والحدیث حضرت مولانا نور محمود صاحب رح، کے نام شامل ہیں۔
کچھ کتابیں آپ نے فاضل دیوبند حضرت مولانا نور کمال حزین رح سے بھی پڑھی ہیں۔
مشکوۃ شریف خصوصی طور پر آپ نے استاذ الکل فی الکل
حضرت مولانا محمد عبیداللہ قاسمی صاحب رح مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور سے پڑھی۔
مہتمم صاحب رح نے آپ کو مشکوۃ شریف پڑھا کر موقوف علیہ ترک کروا کر دورہ حدیث میں داخل کر دیا
اور وجہ یہ بیان کی کہ امام المحدثین حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رح شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ بہت ضعیف ہو چکے ہیں لہذا تم اس سال دورہ پڑھ لو موقوف علیہ کی کتابیں دورہ کے بعد پڑھ لینا۔۔
چنانچہ آپ نے حضرت مہتمم صاحب رح کے حکم پر دورہ حدیث کی کلاس میں داخلہ لے لیا
حدیث شریف کے اسباق میں سے آپ نے امام المحدثین حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رح سے بخاری شریف اول البتہ حضرت کاندھلوی رح کے انتقال کے بعد آخری کچھ حصے کی تکمیل حضرت مولانا محمد عبید اللہ قاسمی صاحب رح نے کروائی،،،، حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانوی صاحب رح سے بخاری جلد ثانی، حضرت مولانا صوفی محمد سرور صاحب رح سے ابوداؤد، حضرت مولانا عبدالرحمن اشرفی صاحب رح سے مسلم شریف، حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی البازی رح سے ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، موطا امام محمد،، اور استاذ الکبیر حضرت مولانا محمد عبیداللہ قاسمی صاحب رح سے طحاوی شریف پڑھی۔۔۔
جبکہ مہتمم دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی صاحب رح سے موطا امام مالک پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔۔۔
اور یوں آپ نے مادر علمی جامعہ اشرفیہ سے 1974 میں دورہ حدیث شریف پڑھ کر سندِ فراغت حاصل کی۔
اگلے سال آپ نے موقوف علیہ کی باقی ماندہ کتب پڑھیں اور اس سلسلے میں حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی رح سے بھی شرف تلمذ حاصل کرنے کا موقع ملا۔۔۔ حضرت مولانا مالک کاندھلوی صاحب رحمہ اللہ کو بھی آپ کے علم پر اتنا اعتماد تھا کہ فرمایا کرتے تھے کہ بخاری شریف پڑھاتے ہوئے مولانا والد صاحب نے اس مقام پر کیا ارشاد فرمایا تھا جب والد صاحب انکو حضرت شیخ الحدیث مولانا ادریس کاندھلوی صاحب رحمہ اللہ کی تقریر سناتے تو بہت خوش ہوتے اور درس میں ارشاد فرماتے ۔
\
پھر آپ نے ایک سال تجوید پڑھی اپنے زمانے کے مشہور استاذ استاذ القراء قاری رحیم بخش صاحب اور قاری محمد صدیق صاحب سے پڑھی
تدریس۔۔۔۔ تقریبا 1976 میں حضرت مہتمم صاحب رح کے حکم سے مادر علمی جامعہ اشرفیہ میں ہی تدریس کا آغاز فرمایا
ابتدا میں آپ جامعہ اشرفیہ مسلم ٹاؤن اور جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد انارکلی دونوں جگہ پڑھاتے رہے
بعد میں نیلا گنبد کی تدریس چھوڑ دی
آپ 1978ء میں اپنے تایا جان اپنے شیخ حضرت مولانا محمد مستجاب صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ عمرے کی سعادت حاصل کی وہاں پر آپ کے ایک ساتھی سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے والد صاحب کو کہا کہ میں یہاں مکہ میں پڑھاتا ہوں آپ بھی میرے ساتھ یہاں رہیں ملکر درس تدریس کریں گے اپ نے فرمایا میں اپنے شیخ اور تایا جان کے اجازت کے بغیر کوئی کام نہیں کرتا تو جب اس ساتھی نے حضرت شیخ سے اجازت طلب کی تو حضرت شیخ نے منع فرمایا اور یہ ساتھ جدہ تک ساتھ ایا اور حضرت شیخ سے درخواست کرتا رہا حضرت مولانا محمد مستجاب صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ بیٹا یہاں اگر رہوگے تو خوب عبادت تو کروگے لیکن تمھارے علاقے کے لوگوں کو تم سے فائدہ نہیں ہوگا اور اگر جامعہ اشرفیہ میں رہوگے تو تمھارے علاقے کے لوگ تمھارے پاس آکر علم حاصل کریں گے بزرگوں کی کتنی گہری نظر تھی کہ آج جب ہم دیکھتے ہیں تو پورے چترال میں کوئی علاقہ ایسا نہیں ہوگا جہاں اپ کا شاگرد بالواسطہ یا بلا واسطہ موجود نہیں ہوگا ۔۔
آپ نے اپنی ساری زندگی مادر علمی جامعہ اشرفیہ کے نام کر دی تھی تقریباً 50 سال آپ نے جامعہ اشرفیہ میں دینی علمی روحانی خدمات سرانجام دیں
اس وقت جامعہ کے اکثر شیوخ آپ کے شاگرد ہیں
ان کے علاوہ پاکستان اور بیرون ملک میں آپ کے بے شمار شاگرد دینی خدمات انجام دینے میں مصروف ہیں۔۔
آپ نے تقریباً تمام کتابوں کی تدریس فرمائی ہے اکثر فنون کی مشکل کتابیں مثلاً قطبی، میبذی، مختصر المعانی، شرح ملا جامی، ہدایہ بیوع، وغیرہ
البتہ آخری سالوں میں آپ نے جلالین اور مسلم شریف کے اسباق ہی رکھے ہوئے تھے۔
حدیث شریف۔۔۔ دورہ حدیث میں کچھ سال آپ موطا امام محمد رح پڑھاتے رہے
پھر مسلم شریف جلد اول زیرِ درس رہی اور وفات سے کچھ دن پہلے تک آپ مسلم شریف کے اسباق پڑھاتے رہے
اور یہ آپ کی تمنا بھی تھی کہ حدیث شریف کا سبق پڑھاتے پڑھاتے دنیا سے رخصت ہو جاوں ،
اور اللہ پاک نے اس درویش ولایت کی یہ تمناء بھی پوری فرمائی
میری خوش نصیبی ہے کہ میں نے والد صاحب سے مسلم شریف ساڑھے پانچ سال پڑھتا رہا کیونکہ دورہ حدیث مکمل کرنے کے بعد جب 2020 میں والد صاحب کو فالج کا اٹیک ہوا تو میں ہی انکے ساتھ بیٹا بھی تھا خادم بھی تھا کلاس میں لیکر جاتا تھا اور کلاس مکمل ہونے تک سبق سنتا تھا ۔۔
روحانی تعلق۔۔۔
آپ نے اپنا روحانی تعلق اپنے جلیل القدر تایا جان مرشد چترال حضرت مولانا خواجہ محمد مستجاب خان صاحب نقشبندی نور الله مرقدہ سے قائم کیا ان کے دستِ حق پرست پر بیعت ہو کر سلوک کی منزلیں طے کیں۔۔
حضرت مرشد چترال مولانا خواجہ محمد مستجاب خان صاحب رح پنجاب کے عظیم بزرگ شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ فضل علی قریشی مسکین پوری رح کے خلیفہ مجاز تھے۔۔۔
خدمات۔۔۔۔
درس و تدریس تعلیم و ارشاد کے علاوہ آپ نے مخلوقِ خدا خاص طور پر اپنے چترال اور چترال والوں کی بڑی خدمت کی ھے۔
علمی خدمات۔۔۔ آپ نے صرف اپنے خاندان میں ایسی محنت فرمائی کہ ہمارے خاندان میں 15 فارغ التحصیل مستند علماء ہیں
ہمارے پورے علاقہ اویر کے علماء و حفاظ کی تعداد بے شمار ہے جو آپ کی محنت اور سرپرستی اور تعاون سے علم سے رو شناس ہوۓ۔
آپ کی سرپرستی میں رہ کر علم حاصل کرنے والے اب کوئی استاذ الحدیث کے عہدے پر ہے تو کوئی امام و خطیب ھے
بے شمار علماء و حفاظ دینی خدمات سر انجام دے کر آپ کے لیے صدقۂ جاریہ بن رہے ہیں۔
رفاہی خدمات۔۔۔
آپ اگرچہ نصف صدی سے زائد عرصہ سے لاہور میں مقیم تھے لیکن آپ کی توجہ ہمیشہ اپنے آبائی وطن کی طرف رہی
آپ نے وہاں رفاہ عامہ کے بہت سے اہم کام کرواۓ
کچھ عرصہ پہلے تک آپ اپنے اہل و عیال سمیت سالانہ گرمیوں میں چترال کا سفر کرتے اس سفر میں آپ مختلف جگہوں پر بیانات بھی فرماتے
یعنی کہ چھٹیوں کے ایام میں بھی اپنا آرام ترک کر کے دین کی تبلیغ تعلیم و ارشاد کی ذمہ داری پوری کرتے
اس کے لیے آپ دور دور کے علاقوں کا بھی سفر کرتے، مجھے اور بھائی سلمان حجازی کو بھی کئی مرتبہ آپ کے ساتھ تبلیغی سفر میں،،بونی ،، مژگول،، وادئ کلاش ،وغیرہ علاقوں کی طرف سفر کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔
جب آپ گاؤں جاتے تو علاقے کے مسائل حل کرنے کی طرف خوب توجہ دیتے
لوگ اپنے مسائل اور جھگڑے آپ کے پاس لاتے آپ بہت ہی احسن طریقے سے مسائل و جھگڑے حل فرماتے الله پاک نے آپ کو اس کا خاص ملکہ عطا فرمایا تھا۔۔
یہاں تک چترال میں جب اسی کی دہائی میں سنی اسماعیلی فسادات ہوۓ تھے اس مسئلے کو حل کرنے میں آپ کے جلیل القدر تایا جان حضرت مولانا خواجہ محمد مستجاب خان صاحب رح کے ساتھ ساتھ آپ کا بھی بہت اہم کردار ھے۔۔۔ بلکہ اس جگھڑے کا حل آپ کے ہی سپرد کردیا اور آپ نے بڑے ہی احسن طریقے سے اس معاملے کو حل فرمادیا اور حضرت شیخ مستجاب صاحب رحمہ اللہ جب تبلیغی دورہ فرماتے تو حضرت والد صاحب ساتھ ہوتے اور والد صاحب کو فرماتے کہ میرا مقدمہ تم بیان کرو انکے بیان سے پہلے حضرت والد صاحب انکے دورے کا مقصد بیان فرماتے ۔۔۔
صفات۔۔۔ الله پاک نے آپ کی ذات میں بہت ہی صفات رکھی تھیں ہر ایک صفت اپنی جگہ قابلِ تقلید ھے البتہ اختصار کی وجہ یہاں آپ کی ایک دو صفات کا تذکرہ کروں گا۔
خیرخواہی۔۔۔ یہ صفت آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی
ہر ایک کے ساتھ خیر خواہی کرتے تھے اپنا ہو یا پرایا ہو کسی کی تکلیف آپ سے برداشت نہیں ہوتی تھی
ہر ایک کی کامیابی پر ایسے خوش ہوتے جیسے اپنا کوئی عزیز ہو۔
رقت قلبی۔۔۔ آپ بہت رقیق القلب تھے نماز میں آپ پر رقت طاری ہو جاتی۔۔ حضور ﷺ کے تذکرہ پر آنسو نکل آتے تھے
میں نے خود آپ رح کو تہجد کے وقت بچوں کی طرح اونچی آواز روتے ہوئے دیکھا ہے۔۔۔
شفت و محبت۔۔۔۔ اگر یوں کہا جائے تو ہر گز غلط نہ ہوگا کہ،،، آپ سراپا شفت و محبت تھے،،، خاص طور پر طلبہ پر بہت ہی مہربان تھے۔۔۔ کافی پرانے دور کی باتیں ہیں کہ طلبہ کو بلا بلا کر مالی تعاون کرتے سردیوں میں طلبہ میں رضائیاں تقسیم فرماتے۔ غرض یہ کہ مخلوقِ خدا کے ساتھ تعاون کر کے بہت خوشی محسوس فرماتے اور اس کی ترغیب بھی دیتے۔۔۔
عبادات۔۔۔۔ عبادات کی بہت پابندی فرماتے تھے
صحت کے زمانے میں ہمیشہ پہلی صف کا اہتمام فرماتے تھے
تحیۃ المسجد کا بہت اہتمام تھا ایک مرتبہ مجھے بھی تاکید فرمائی ک تحیہ المسجد کبھی مت چھوڑنا۔
ہر نماز کے بعد تسبیحات فاطمی رض کبھی بھی ترک نہیں کرتے تھے مجھے بھی ایک مرتبہ اس کی خاص تاکید فرمائی تھی
اور فرمایا تھا کہ ان کی پابندی سے خاتمہ بالخیر کی قوی امید ہے۔۔۔
روزانہ ایک سپارہ بلا ناغہ تلاوت کا معمول تھا سفر و حضر میں اپنے اس معمول کو ہر حال میں پورا فرماتے تھے۔
ان کے علاوہ نقشبندی اسباق بھی پورے اہتمام سے کرتے
ہمیں بھی تاکید فرماتے تھے
تہجد کا خاص اہتمام تھا حتی کہ فالج کی بیماری میں بھی ترک نہیں کیا اسی طرح اشراق چاشت اوابین کے نوافل بھی اہتمام سے ادا فرماتے تھے۔۔
اوابین کے بارے میں کئی دفعہ مجھے نصیحت فرمائی کہ اپنے مصلے کے پاس ہی اوابین کے نفل پڑھ کر گھر جایا کرو۔۔
اور اپنا ذکر کرتے کہ اپنے شیخ کے پاس بچپن میں رہتے ہوئے یہ عادت بن گئی تھی کہ کبھی بھی اوابین نہیں چھوڑا ،،،
جمعرات کو آخری سبق پڑھاکر طلباء سے فرمایا اگر زندگی رہی تو کل پڑھیں گے نہیں تو جنت میں مسلم شریف کا سبق ہوگا
وفات۔۔۔۔
23 اگست کو ڈاکٹر کے پاس جانا ہوا اسوقت بیماری شروع ہوچکی تھی ڈاکٹروں کے پاس آنا جانا رہتا ایک دن میں ڈاکٹر صاحب نے ہسپتال میں داخل کیا تھا
پھر حضرت والد رح نے حکم دیا کہ مجھے گھر لے چلو، ان کے حکم پر گھر لے آئے ، میں نے ، مولانا محمد مستجاب،مولانا عبد القادر صاحب ، مولانا کفایت اللہ، اور میرے بہت ہی مشفق چچا جان مولانا غلام حسین صاحب مدظلہ، ) دن رات ان کی خدمت کی۔۔
اور ان حضرات نے خدمت کا حق ادا کیا الله سبحانہ وتعالی ان سب کو دنیا و آخرت میں اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائے آمین۔۔
یہاں میں ان ڈاکٹر صاحباں کا خاض طور پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گا اور انکے کیلئے میری دلی دعا ہیکہ اللہ انکو دونوں جہانوں میں کامیابیان اور خوشیاں عطاء فرمائے
خصوصاً ، ہمارے بڑے ہی قابل صد احترام ڈاکٹر شہریار صاحب ، ڈاکٹر مسعود رشید صاحب ، ڈاکٹر مقصود صاحب ، ڈاکٹر اسد اللہ اعجاز صاحب ، ڈاکٹر مولانا فلک شیر صاحب ، ڈاکٹر مصباح صاحب ، ڈاکٹر صائم صاحب ، ڈاکٹر عباس کھوکھر صاحب ،اور فرشتہ صفات انسان ڈاکٹر فاروق حمید صاحب خاض طور پر قابل ذکر ہیں ۔
والد صاحب کی پوری زندگی سے وفات تک جامعہ اشرفیہ کے اکابر اور انکے اولاد نے خصوصاً ہمارے بڑے ہی مشفق اور مہربان استاذ محترم حضرت مولانا شیخ الحدیث فضل الرحیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ ، ناظم اعلی قاری ارشد عبید صاحب ، حضرت مولانا حافظ اسعد عبید صاحب ، حضرت مولانا اجود عبید صاحب ، محترم امجد عبید صاحب استاذ محترم حضرت مولانا زبیر حسن صاحب ، برادرمکرم مولانا اویس حسن صاحب ، برادرمکرم مولانا سعد اسعد صاحب حافظ سعود صاحب انہوں نے ہر موڑ پر ہرجگہ پر ہمارے ساتھ محبت اور اپنائیت کا احساس دیا ہمیں اپنے خاندان کے فرد کی طرح سمجھا اللہ انکو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے ۔۔۔
جامعہ اشرفیہ کے تمام اساتذہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے پے پناہ محبت دی خصوصاً مولانا مفتی احمد علی صاحب اور ہمارے ہی بڑے معزز ہمسایہ حاجی بشیر احمد صاحب جنہوں نے والد صاحب کی بیماری میں بڑی خدمت کی اللہ تعالیٰ انکو اجر عظیم عطا فرمائے ۔۔۔
آخری جمعرات کے دن فجر کے وقت مجھ سے کہا کہ بیٹا مجھے بیٹھا دو بستر اور نماز شروع کردی فجر کی ، پھر اشراق کے وقت تک یہی کیفیت رہی پھر گیارہ یا بارہ بجے فرمایا پھر مجھے بیٹھادو اور کہا وضو کروادو تو میں پانی اور برتن منگوایا اور وضو کروایا پھر نماز شروع کردی سلام پھیر کر وضائف اور اذکار پڑھنے لگ گئے اور پھر اسوقت سے اخری وقت تک زبان سے ذکر جاری رہا اور جمعے کے دن فجر کے وقت اپنے خالق حقیقی سے جا ملے انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔
قبرستان میں کافی جگہیں دیکھنے کے بعد والد رح کو ان کے محبوب استاذ حضرت مولانا محمد عبید اللہ قاسمی صاحب رح کے بالکل دائیں پہلو میں جگہ مل گئی۔
ساری زندگی جامعہ میں اپنے محبوب استاذ کے ساتھ گزاری اب قیامت تک بھی انہی کے پہلو آرام فرما رہیں گے۔۔۔
والد صاحب کے غسل میں استاذ جی مولانا مفتی محمد زکریا صاحب استاذ الحدیث جامعہ اشرفیہ، چچا جان مولانا غلام حسین صاحب، بھائی مولانا محمد سلمان حجازی صاحب ، بھائی مولانا محمد مستجاب، بھائی مولانا حمید الرحمن، بھائی مولانا عبدالقادر، بھائی مولانا کفایت اللہ، بھائی مولانا عبید الرحمان، اور میں شریک رہا۔۔
جنازہ۔
جمعہ کی نماز کے متصل بعد جامعہ اشرفیہ لاہور میں میرے والدمحترم استاذ العلماء حضرت مولانا عبدالرحیم چترالی صاحب نور الله مرقدہ کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جنازہ میرے تایا زاد بھائی حضرت مولانا سلمان حجازی نے پڑھائی ،،،،
جنازہ میں لوگوں کا بے پناہ ہجوم تھا دور دور سے حضرت رح کے شاگرد متعلقین اور مسلمانوں نے جنازے میں شرکت کی۔
اور جو حضرات جنازے میں وقت کے کمی کے باعث شرکت نہ کرسکے اور فون ، مسیج یا سوشل میڈیا کے ذریعے تعزیت کی انکا نام لینا ممکن نہیں ہے کیونکہ تعداد ہزاروں سے زیادہ ہے اللہ تعالیٰ انکو اپنی شان کے مطابق اجر عظیم عطا فرمائے آمین
حضرت والد رح کی میت کو قبر میں اتارنے کی سعادت مجھے، مولانا محمد مستجاب، چچا جان مولانا غلام حسین، اور بھائی سلمان حجازی صاحب کو حاصل ہوئی۔
تدفین کے بعد استاذ مکرم حضرت مولانا حافظ اجود عبید صاحب نے دعا کی۔۔۔
الله سبحانہ وتعالی میرے والد محترم رح کی قبر کو جنت کا باغ بناۓ ان کی تمام دینی علمی روحانی رفاہی خدمات کو قبول فرما کر جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین یا رب
تمہارے بعد کہاں وہ وفا کے ہنگامے
کوئی کہاں سے تمہارا جواب لاۓ گا
اور
هيهات لا يات الزمان بمثله
ان الزمان بمثله لبخيل
اور
آتی رہیں گی تیرے انفاس کی خوشبو
گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
