The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 8 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

محمد طلحہ محمود فاونڈیشن نے جو بھی وعدے چترال کی عوام کے ساتھ کیے تھے وہ سب شرمندہ تعبیر ہو کر رہیں گے۔ ترجمان طلحہ محمود فاونڈیشن

Chitral Times

محمد طلحہ محمود فاونڈیشن نے جو بھی وعدے چترال کی عوام کے ساتھ کیے تھے وہ سب شرمندہ تعبیر ہو کر رہیں گے۔ ترجمان طلحہ محمود فاونڈیشن

محمد طلحہ محمود فاونڈیشن نے جو بھی وعدے چترال کی عوام کے ساتھ کیے تھے وہ سب شرمندہ تعبیر ہو کر رہیں گے۔ ترجمان طلحہ محمود فاونڈیشن

محمد طلحہ محمود فاونڈیشن نے جو بھی وعدے چترال کی عوام کے ساتھ کیے تھے وہ سب شرمندہ تعبیر ہو کر رہیں گے۔ ترجمان طلحہ محمود فاونڈیشن

چترال ( چترال ٹائمز رپورٹ )محمد طلحہ محمود فاونڈیشن ٹیم کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے،کہ طلحہ محمود فاؤنڈیشن جس طرح سے پورے چترال میں انسانیت کی خدمت اور چترال کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کر رہی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ طلحہ محمود فاؤنڈیشن چترال کے طول و عرض میں پہنچ کر انسانیت کی خدمت میں مصروف ہے۔ بحیثیت انسان اور مسلمان ہونے کے یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اچھے کام کی تعریف کریں اور اپنی بساط کے مطابق اس میں حصہ ڈالنے کی کوشش کریں۔

انسانی خدمت کی اس سفر میں کچھ لوگ اپنی سیاسی مفادات، ذاتی مفادات اور قومی مفادات کے لیے نیک کاموں میں بھی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں شامل فیس بک میں ایک پیج میں آئے روز سینٹر طلحہ محمود اور ان کی سیاست کے بارے میں مختلف قسم کے پوسٹ ہوتے رہتے ہیں۔ یہ پیج جو بھی چلا رہا ہے یہ اپنے آپ کو سینٹر طلحہ کے قریبی رشتہ داروں میں دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس حوالے سے سینیٹر محمد طلحہ محمود کے فرزند مصطفی بن طلحہ نےوضاحتی بیان دیا تھا کہ اس پیج کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

آج ہم اپنی طرف سے یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس پیج کا نہ ہمارے فاؤنڈیشن اور نہ ہمارے فاؤنڈیشن کے چیئرمین سینٹر محمد طلحہ محمود کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ ہے بلکہ یہ ایک فیک پیج ہے جو کہ صرف اور صرف معاشرے میں منفی اثرات مرتب کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ بحیثیت ادارہ ہم اس پیج کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور جو بھی پوسٹ اس پیج سے کی گئی ہیں ان سب سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ محمد طلحا محمود فاؤنڈیشن کی سرگرمیاں اسی طرح پورے چترال میں چلتی رہیں گی۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود نے جو بھی وعدے چترال کی عوام کے ساتھ کیے تھے وہ سب شرمندہ تعبیر ہو کر رہیں گے۔