The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 1 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

لواری ٹنل ٹول ٹیکس: قومی ترقی یا سیاسی نعرہ بازی – تحریر: خیرالدین شادانی

Chitral Times

لواری ٹنل ٹول ٹیکس: قومی ترقی یا سیاسی نعرہ بازی – تحریر: خیرالدین شادانی

لواری ٹنل ٹول ٹیکس: قومی ترقی یا سیاسی نعرہ بازی – تحریر: خیرالدین شادانی

لواری ٹنل ٹول ٹیکس: قومی ترقی یا سیاسی نعرہ بازی – تحریر: خیرالدین شادانی

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کی جانب سے لواری ٹنل پر ٹول ٹیکس نافذ کرنے کے فیصلے کو جماعت اسلامی (JI) اور پاکستان تحریک انصاف (PTI) نے ایک سیاسی مسئلہ بنا دیا ہے۔ دونوں جماعتیں عوام میں یہ تاثر دے رہی ہیں کہ چترال کے لوگوں پر غیر ضروری بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ ٹیکس سڑکوں کی دیکھ بھال اور طویل مدتی ترقی کے لیے ایک ضروری اقدام ہے۔

\

پاکستان میں تمام بڑی شاہراہوں، ٹنلز اور موٹرویز پر ٹول ٹیکس لاگو ہوتا ہے تاکہ ان کی مرمت، سیکیورٹی اور اپ گریڈیشن کو ممکن بنایا جا سکے۔ سوات موٹروے، ہزارہ ایکسپریس وے، ایم 2 اور ایم 3 پر بھی یہی طریقہ کار رائج ہے، پھر لواری ٹنل پر اعتراض کیوں؟ تحریک انصاف نے جب حکومت میں تھی تو انہی بنیادوں پر مختلف شاہراہوں پر ٹیکس نافذ کیے۔ اب اسی نظام کی مخالفت کرنا محض سیاسی موقع پرستی ہے۔

یہ دعویٰ کہ چترالی عوام غریب ہیں، اس لیے انہیں استثنیٰ دیا جائے، حقائق کے منافی ہے۔ چترال ایک ابھرتی ہوئی معیشت رکھتا ہے جہاں زراعت، تجارت اور سیاحت کو بہتر سڑکوں سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔ لواری ٹنل کی بدولت سفر کا وقت اور ایندھن کے اخراجات پہلے ہی کم ہو چکے ہیں، جس سے مقامی افراد کو مالی فائدہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ٹنل سی پیک اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کا حصہ بھی ہے، جس سے چترال کی معیشت کو مزید استحکام ملے گا۔

تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے اس معاملے کو عوامی فلاح کی بجائے سیاسی نعرہ بازی کے لیے استعمال کیا ہے۔ اگر یہ جماعتیں واقعی عوامی مفاد میں کام کر رہی ہوتیں، تو وہ لوکل ٹرانسپورٹرز اور ضروری خدمات فراہم کرنے والی گاڑیوں کے لیے خصوصی رعایت کی بات کرتیں، نہ کہ ٹیکس کے مکمل خاتمے کا مطالبہ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بھر میں تمام سڑکوں پر عوام ٹول ٹیکس ادا کرتے ہیں، تو پھر چترال کو خصوصی رعایت کیوں دی جائے؟ سیاستدانوں کو اس رقم کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ بے بنیاد احتجاج پر۔

ٹول ٹیکس کی مخالفت کرنے کے بجائے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے صحیح استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ مزید برآں، مقامی کاروباری حضرات، عوامی ٹرانسپورٹ، اور ایمرجنسی سروسز کے لیے رعایت دی جا سکتی ہے، جیسا کہ دیگر علاقوں میں ہوتا ہے۔ اس سے قومی ترقی اور مقامی عوام کے مفادات میں توازن قائم ہوگا۔

چترال کے عوام طویل عرصے سے بہتر سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اب جب کہ حکومت نے اس پر اربوں روپے خرچ کیے ہیں، تو سیاسی مخالفت کے بجائے اسے مثبت انداز میں لینا چاہیے۔ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ چترال کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے تعمیری اقدامات کریں، نہ کہ ترقی کے عمل کو سیاست کی نذر کریں۔