فوڈ اتھارٹی کی دس روزہ سیمپلز کلکشن اور ٹیسٹنگ مہم اختتام پذیر، ٹیسٹ کیے گئے نمونے میں 93 فیصد دودھ غیر معیاری جبکہ صرف 7 فیصد تسلی بخش قرار پائے گئے، رپورٹ
دودھ کی شکل میں زہر بیچنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، آئل اینڈ گھی، مصالحہ جات اور دیگر خوراکی اشیاء کی بھی صوبہ بھر میں لیبارٹری سے ٹیسٹنگ کی جائے گی، وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو
پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے پہلی مرتبہ سب سے بڑی دودھ سامپلز کلکشن اور ٹیسٹنگ مہم چلائی اورصوبہ بھر سے بڑے اور درمیانی سطح کے دودھ سے وابستہ کاروباروں سے 583 دودھ کے نمونے ٹسٹ کیے جن میں سے 93 فیصد یعنی 541 نمونے ملاوٹی، غیر معیاری اور مضر صحت ثابت ہوئے جبکہ صرف 7 فیصد تسلی بخش قرار پائے گئے۔فوڈ اتھارٹی کی جانب سے خصوصی دس روزہ دودھ سامپلنگ کلکشن اور ٹیسٹنگ مہم اختتام پذیر ہونے پر تفصیلی رپورٹ جاری کر دی گئی۔رپورٹ کے مطابق مہم کیلئے صوبہ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کی سربراہی میں 26 ٹیمیں تشکیل دی گئیں جنہوں نے بڑے اور متوسط لیول کے دودھ سے منسلک کاروباروں سے 583 نمونے جمع کیے اور ٹیسٹنگ کیلئے حیات آباد پشاور میں فوڈ اتھارٹی کی قائم سٹیٹ آف دی آرٹ لیبارٹری بھجوا دی،
تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹوٹل نمونے تقریباً 3 لاکھ 24 ہزار لیٹر دودھ سے لیے گئے، جن میں سے صرف 7 فیصد یعنی 42 نمونے معیاری اور تسلی بخش قرار پائے گئے۔ مزید برآں، 417 نمونوں میں پانی، 106 میں گلوکوز، 17 میں فارمل ڈی ہائیڈز کی ملاوٹ، 224 میں فیٹس اور 488 میں پروٹین اور دیگر نمکیات کی کمی پائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق کل نمونوں کے 18.18 فیصد میں خشک پاؤڈر دودھ، 15.7 فیصد میں سکروز، 4.1 فیصد میں نمک، 2.91 فیصد میں فارمل ڈی ہائیڈ اور 1.3 فیصد میں سوربیٹول کی ملاوٹ رپورٹ ہوئی۔مزید تفصیلات میں یہ بھی بتایا گیا کہ ڈویژنل سطح پر پشاور میں 94 فیصد، مردان میں 87 فیصد، کوہاٹ میں 88 فیصد، ملاکنڈ میں 97 فیصد، ہزارہ ڈویژن میں 84 فیصد جبکہ بنوں اور ڈی آئی خان میں 100 فیصد دودھ کے نمونے غیر معیاری ثابت ہوئے۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے اس خصوصی مہم کے اختتام پر اپنے دفتر سے جاری بیان میں کہا کہ پہلی مرتبہ سٹیٹ آف دی آرٹ لیبارٹری میں بڑے پیمانے پر ملکو سکین (Milko Scan) سے دودھ کے نمونوں کا معائنہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دودھ کے نمونوں کو سٹیریلائزڈ بوتل میں آئس پیک کیساتھ تمام ضروری ایس او پیز کیساتھ لیبارٹری میں ٹسٹ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دودھ میں ملاوٹ مافیا کیخلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا گیا ہے اور رپورٹ میں دودھ میں ملاوٹ کے مرتکب بلیک اور ریڈ کیٹگری کے پشاور ڈویژن میں 12 اور ملاکنڈ میں آٹھ دودھ فروشوں کی دوکانیں سیل جبکہ لائسنس منسوخ اور بھاری جرمانے عائد کیے گئے اسکے علاوہ مزید کاروائی صوبہ بھر میں جاری ہے۔
صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ نے کہا ہے کہ دودھ کی شکل میں زہر بیچنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئل اینڈ گھی، مصالحہ جات اور دیگر خوراکی اشیاء کی بھی صوبہ بھر میں لیبارٹری سے ٹیسٹنگ کی جائے گی ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کو ملاوٹ سے پاک معیاری خوراک کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں ملاوٹ مافیا کا صوبے سے صفایا کیا جائے گا اور کسی کو بھی شہریوں اور خاص کر بچوں کی صحت سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔