The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 21 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

طلبہ وطالبات کی مستقبل سازی – ڈاکٹر ساجد خاکوانی

Chitral Times

طلبہ وطالبات کی مستقبل سازی – ڈاکٹر ساجد خاکوانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

طلبہ وطالبات کی مستقبل سازی – ڈاکٹر ساجد خاکوانی

اللہ تعالی کے ہاں سے ہرانسان کوکچھ نہ کچھ بناکر بھیجاجاتاہے،قدرت کے ہاں سے کوئی شاعر بن کرآتاہے توکوئی ادیب بن کر اس دنیامیں وارد ہوتاہے،کسی کو طبیب بناکر بھیجاجاتاہے توکوئی فطری طورفوجی و سپاہی بن کر اس دنیامیں جنم لیتاہے،کوئی طبعاََ مدرس و معلم ہوتاہے تو کسی کی فطرت میں آلات کاجوڑتوڑ اورکل پرزوں کی شکست وریخت وادھیڑ بن موجودد ہوتی ہے اوراسی طرح کسی میں منصف وقاضی کی صلاحیت توکسی میں قیادت وسیادت کاوصف اس کی تخلیق میں پوشیدہ ہوتاہے۔یہ پوشیدہ جوہرکبھی نقاشی و مصوری و غنا کی صورت میں پایاجاتاہے توکبھی فلسفہ،منطق،ریاضی،الجبرا اور طبعیاتی و معاشرتی علوم وفنون میں بہت گہری و عمیق وبارک بینی کی حدتک ذوق و شوق میں پنہاں ہوتاہے۔پس خالق کے ہاں سے ہر بچہ کسی نہ کسی صلاحیت سے مالامال کرکے اس دنیاکی طرف روانہ کیاجاتاہے ۔اسی حقیقت کو قرآن مجید نے ان الفاظ میں بیان فرمایاکہ ” إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا “ترجمہ:”بے شک ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیداکیاتاکہ ہم اسے آزمائیں، پس ہم نے اسے خوب سننے والااوراچھی طرح دیکھنے والا بنایاہے”۔(سورۃ دھر)۔چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کاارشادپاک ہے کہ ” اَتَحْسِبُ اِنَّکَ جِرْمٌ صَغِیْرٌ وَفِیْکَ اِنْطَوَی الْعَالَمُ الْاَکْبَ “ترجمہ:”اے انسان کیاتویہ گمان کرتاہے کہ توایک چھوٹاساجسم ہے،حالانکہ تیری عظمت کایہ عالم ہے کہ تیرے اندر عالم اکبرسمٹاہواہے”۔ان حقائق کی روشنی میں ثابت ہوتاہے کہ کوئی بچہ کندذہن،نکما،نالائق،لاپروا،بے فکرا یاغیرذمہ دارنہیں ہوتا۔جب انسان کاخالق خود کہ رہاہے کہ ہم نے اسے سمیعاََ بصیرابنایاہے تو پھرآدم زادوں پر اس طرح کی تہمتیں دھرنا خلاف حقیقت ہے۔

بچوں میں پوشیدہ کسی خاص جوہر کی تلاش پر اس کے مستقبل کادارومدارہوتاہے۔اگر فطری صلاحیت کے مطابق تعلیم کا صیغہ مل گیااوراسی کے مطابق پیشہ بھی میسرآگیاتوبچہ آسمان پرسورج چاندستاروں کی طرح چمکتاہے  اوراگر تعلیم اور پیشہ خلاف فطرت مل جائے تو ساری عمر بچہ دہری شخصیت کاحامل رہتاہے،اس کی فطری دلچسپیوں اور اس کی تعلیم اورپیشے میں بعدالشرقین واقع رہتاہے اور تعلیم اورپیشے میں اس کی عدم دلچسپی وعدم توجہی کو مارپیٹ،سختی،زبردستی  اورزورآوری کے ذریعے موڑنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اسے مذکورہ القابات بد سے باربار نوازاجاتاہے جب کہ فطرت سے ٹکراکر کوئی مثبت نتائج کاحصول ناممکنات میں سے ہے۔جب بچے کے فطری رجحان اور دی جانے والی تعلیم کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہوگی تو وہ نفسیاتی فراراختیارکرے گا،آخروہ کیونکر تعلیم یااپنے پیشے پر توجہ دے سکے گاجواس کے فطری لگاؤ کے عین برخلاف ہے؟؟؟۔ایسے میں جوانی گزرجانے کے بعدجب خلاف فطرت تعلیم کی بیڑیوں سے وہ آزادہوچکتاہے تواپنی فطری ذوق و شوق کی طرف راغب ہوکر پلٹ آتاہے پھر یہ عام مشاہدہ ہے کہ فوجی افسران شاعری اور ناول نگاری کرتے ہیں،اطباء کوطب و جراہت کی بجائے مذہب اورقیادت وسیاست اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں،اساتذہ کرام،مزدور،وکیل  اورتاجرساری عمرحقوق کی جنگ لڑ کراپنے فطری شوق کوپوراکرتے رہتے ہیں،اورہندسہ،فلسفہ اوردیگرفنی و معاشرتی علوم کے سندیافتہ صحافت،تعمیرات،جائدادکی خریدوفروخت  اورکارخانہ داری میں اپناقیمتی وقت لگاکر اپنے ذوق  کی تسکین کررہے ہوتے ہیں۔اس طرح گویا معاشرہ اپنے نوجوانوں کی آدھی عمر ضائع کردیتاہے اوربقیہ آدھی عمر وہ خود داؤ پر لگادیتے ہیں اور ایک نسل ہے جوآدھی تیتراورآدھی بٹیر کی تصویر بنی ہوتی ہے۔اورکچھ نوجوان  تواس صورتحال سے تنگ آکراوردل برداشتہ ہوکر ملک ہی چھوڑ جاتے ہیں۔

چین میں بہت کم و بیش تین سال کی عمرکے بچوں کوایک بہت بڑے کمرے میں داخل کردیاجاتاہے جہاں مختلف میزوں پر آلات طب و جراہت،کتب و قلم و قرطاس،آلات حرب،کھیل کے سامان،آلات موسیقی،نقاشی و تصویرگری کاسامان،کھانے پکانے کی چیزیں اور تکنیکی پرزے وغیرہ دھرے ہوتے ہیں۔ہربچہ ایک دفعہ ساری میزوں کی طرف دیکھتاہے اورپھراپنی دل پسندمیزپر سدھارجاتاہے۔وہاں ماہرین تعلیم ونفسیات دان کھڑے ہوتے ہیں وہ بچے کوپکڑلیتے ہیں ساری عمرکے لیے اسی کام پرلگادیتے ہیں چنانچہ آج چین کی ترقی چاردانگ عالم سرچڑھ کربول رہی ہے۔سویڈن سے آئے ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی،انہوں نے بتایاکہ وہ اپنی تین سالہ بیٹی کو سکول میں داخل کرانے گئے توانہوں نے والدین کوبھی بلالیا۔ایک چھوٹی سی بچی اوراس کے والدین پر پر سکول والوں نے کم و بیش چار گھنٹے صرف کیے  اور نتیجہ نکالاکہ اس بچی میں خطاطی کاجوہرہے،وہ بزرگ اس لیے آئے تھے کہ ان کی بیٹی  نیشل کالج آف آرٹس لاہور کے امتحانات میں اول انعام کی حق دار ٹہرائی گئی تھی،وجہ صاف ظاہرہے کہ فطری رجحان کے مطابق تعلیمی میدان کی فراہمی۔جاپان میں ایک بچے کو ایک مختصرسےاحاطے میں چھوڑ دیاجاتاہے جہاں

جہاز،بندوق،ٹینک،کتاب،برش،پلاسٹک کے برتن ،علاج کرنے کاسامان وغیرہ جیسے کھلونے موجودہوتے ہیں،بچہ باربار جس کھلونے کی طرف متوجہ ہوتاہے اسی میدان کے ساتھ اسے منسلک کردیاجاتاہے۔ماضی بعیدمیں پنہاں گوہر کی تلاش کے لیے قیافہ شناسی،علم نجوم،علوم ہندسہ،ہاتھوں کی لکیریں اور پیدائش کے وقت ستاروں کی چالوں سے اندازہ لگالیاجاتاتھا اب وقت کے ساتھ ساتھ عصری مستندعلوم کے  ذریعے اس رازکوپاجانا بہت آسان ہوچکاہے۔اس مقصدکے لیے ماہرین تعلیم اور نفسیات دانوں کے پاس ہر عمرکے بچوں کے لیے خاص طرح کی آزمائشیں ہوتی ہیں جن کے ذریعے فطری میلان کا پتہ لگالینا بہت آسان ہوجاتاہے اور معلومات پختہ ہوتی ہیں۔

بچہ اپنے شعور کے آغازمیں چونکہ صیغہ تعلیم کے سپردکیاجاتاہے اس لیے اساتذہ کرام اور ماہرین تعلیم کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بچے کے فطری رجحان کی بابت درست معلومات والدین کو فراہم کریں۔اوروالدین کی اس سے زیادہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ معاشرے میں بھیڑچال کے مطابق بچے کو کہیں جھونکنے کی بجائے اساتذہ کی رائے پراعتمادکریں کیونکہ بچے کے بارے میں آخری فیصلہ بہرحال والدین نے ہی کرناہے۔والدین اپنی کم فہمی یا بچے سے بے پناہ محبت کے باعث چاہتے ہیں کہ معاشرے میں جن علوم و فنون کاعام چلن ہے اور ان کے اسنادیافتہ بہت بھاری رقوم میں  وظیفہ ومشاہیرحاصل کررہے ہیں توہمارابچہ بھی اسی نظم میں داخل ہوجائے،جب کہ یہ رویہ خالصتاََ غیرمنطقی اور غیر حقیقت پسندانہ ہے اور بچے کے مستقبل سے کھیلنے اوراسے ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ہرامتحان کے ساتھ بچے کے فطری رجحان کانفسیاتی امتحان لیاجائے،پھردیکھاجائے کہ گزشتہ دس سالہ تعلیمی تاریخ میں بچہ کس مضمون میں بہت اچھی کارکردگی دکھارہا ہے اوراگلے تعلیمی میدان کے انتخاب میں ان سب سے زیادہ اہم تررائے اس بچے کے معلم کی ہوگی۔اگر نظام  تعلیم بوجوہ اس خدمت سے معذورہوتو والدین بذات خود اپنے بچوں کو ماہرین نفسیات کے پاس لے جاکر معمولی معاوضے کے عوض اس طرح کے مستندنتائج حاصل کرسکتے ہیں۔نظام تعلیم میں بچے کی کارکردگی،اس کی ذہانت،قابلیت اور اس کے لائق فائق ہونے اورکامیابی و ناکامی کادارومدارامتحان میں اس کی حاصل کردہ فیصدی شرح سے لگایاجاتاہے جو کہ خالصتاََ دورغلامی کی باقیات میں سے ہے اور اسی شرح کو معیاربناکر اگلے کسی تعلیمی یافنی نظم میں داخلہ دینا انتہائی درجے کا قوم دشمن رویہ ہے۔امتحان میں کسی بھی شرح سے کامیابی کایہ مطلب قطعاََ بھی نہیں وہ بچہ اگلے مطلوبہ نظم تعلیم کے لیے موزوں ہے ۔کس بچے کو کس مضمون کی تعلیم یاکس فن کی تربیت کی طرف جاناہے ،اس کاحق صرف بچے کے فطری میلان کوہے خواہ وہ امتحانی نظام سے بہت کم شرح سے کامیاب ہواہو۔اب یہ ریاست کی اورنظام تعلیم کے فرائض منصبی میں شامل ہے کہ نونہالان قوم کے بارے میں درست فیصلے کیے جائیں تاکہ معاشرے کاقبلہ درست ہو اور  مستقبل روشن ہوسکے۔

محسن انسانیت ﷺکی زندگی سے بھی اس طرح کی متعددمثالیں ملتی ہیں کہ شخصی خواص کے مطابق ذمہ داری سونپی جاتی تھی جیسے “حضرت دحیہ کلبی”رضی اللہ تعالی عنہ بہت زیادہ شخصی وجاحت کے مالک تھے،بلندقامت،چوڑاچکلاسینہ ،لمبے لمبے بمطابق سنت سرکے بال،سرخ و سفید رنگ اور بڑاساعمامہ جب باندھتے تھے تو دیکھنے والے خوامخواہ مرعوب ہوجاتے تھے۔آپ ﷺ نے انہیں اپناسفیرمقررفرمایاتھا۔چنانچہ جب وہ دنیاکے بادشاہوں کے دربارمیں داخل ہوتے تولوگ دیکھتے رہ جاتے اورسوچتے کہ اتناشاندارانسان جس حکمران کا سفیرہووہ حکمران خود کس قدر اونچی شان کابرحق مالک ہوگا!!!۔غزوہ خیبرمیں حضرت علی کرم اللہ وجہ کاانتخاب بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتاہے کہ فطری جوہرکے مطابق ذمہ داری عطاکی گئی ۔آپﷺ کی زندگی میں متعددایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ آپﷺسے منصب و عہدہ مانگاگیالیکن دربارنبوی ﷺسے انکارمیسر آگیا جس کی جہاں کئی وجوہات ہوسکتی ہیں اورایک وجہ ذمہ داری سے شخصیت کی عدم مطابقت بھی  ہوسکتی ہے۔اس دنیامیں اللہ تعالی کی تقسیم ہماری سمجھ سے باہرہے کیونکہ ہماری سمجھ اللہ تعالی کی باریکیوں کو سمجھنے سے کلیتاََ قاصر ہے؛نیچوں کو دولت مل گئی،ناخلفوں کواقتدارمل گیا،جہلاء کو تعلیم کی بڑی بڑی اسنادمل گئیں،اپنی ذات تک کاخول نہ توڑ سکنے والوں کودانش منداورعقل منداورمستقبل بین گرداناگیا ،نااہل لوگوں کو بڑے بڑے مناصب مل گئے،ظالم وفاسق و فاجر لوگوں کو دنیاکی عزت کے سارے پیمانے میسر آگئے لیکن ان سب کے باوجو ایک منصب اللہ تعالی مطلقاََ معیار کے عین مطابق دیا اوروہ منصب جن کوملا وہ اس کے اہل بھی ثابت ہوئے اورانہوں نے اس کا حق بھی اداکیااور وہ منصب نبوت ہے۔پس اللہ تعالی کی اس سنت کے مطابق اگر معاشرہ بھی اپنے نوجوانوں کو وہی منصب و مقام دے جس کے وہ فطری امین ہیں تو وہ ضرور اس کاحق اداکرنے کی حتی الامکان سعی جمیلہ کریں گے،ان شااللہ تعالی۔

[email protected]