The Voice of Chitral since 2004
Friday, 26 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

طبقاتی نظام تعلیم ……..محمد شریف شکیب

Chitral Times

طبقاتی نظام تعلیم ……..محمد شریف شکیب

طبقاتی نظام تعلیم ……..محمد شریف شکیب


وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومت کا یہ عزم دھرایا ہے کہ ملک کے تعلیمی نظام میں طبقاتی تفریق کو ختم کرناان کی اولین ترجیح ہے انہوں نے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ یکساں نصاب تعلیم مرتب کرنے اور ملک بھر میں اس کے نفاذ کی کوششیں مزید تیز کی جائیں، مدارس کو قومی دھارے میں لانے اور وہاں زیر تعلیم بچوں کو جدید علوم کی تعلیم سے آراستہ کرنے اور انکو ہنر مند بنانے کے حوالے سے مدارس کے ساتھ طے شدہ لائحہ عمل پر عمل درآمدشروع کیاجائے انہوں نے صوبائی وزرائے تعلیم کو ہدایت کی کہ باہمی مشاورت سے تعلیمی و تدریسی عمل کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دی جائے،تعلیمی اداروں کی مالی مشکلات اور فیسوں کے حوالے سے والدین کے تحفظات دور کرنے کے لئے بھی طریقہ کار وضع کیا جائے۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ پہلی سے پانچویں جماعت تک کو متفقہ نصاب تشکیل دیا گیا ہے جس کا اپریل 2021میں نفاذ کر دیا جائیگاچھٹی سے آٹھویں جماعت کا نصاب مرتب کرنے کے لئے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جا رہی ہے۔ ملک کے دور دراز علاقوں میں طلباء کی تعلیم کیلئے ریڈیو پاکستان کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ قوم کی لوٹی گئی دولت واپس لانے،بے رحمانہ احتساب، وی آئی پی کلچر اور طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور کے اہم نکات ہیں انہی کی بنیاد پر پی ٹی آئی کو 2013کے انتخابات میں خیبر پختونخوا میں مینڈیٹ ملا۔ تاہم وفاق اور دوسرے صوبوں میں دیگر جماعتوں کو اقتدار ملنے کی وجہ سے پی ٹی آئی اپنے منشور پر عمل درآمد نہیں کرسکی۔2018کے انتخابات میں وفاق کے ساتھ پنجاب اورخیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کا موقع ملا جبکہ بلوچستان میں بھی وہ مخلوط حکومت میں شامل ہے۔اقتدار حاصل کرنے کے دو سالوں کے اندر تحریک انصاف کو اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے کی مہلت نہیں ملی ہے۔ بلاشبہ 71سالوں سے رائج اشرافیہ کے نظام کو ختم کرنا کوئی آسان کام نہیں، سٹیٹس کو کی پیداوار تمام سیاسی جماعتیں اور بیوروکریسی نظام کی تبدیلی میں بڑی رکاوٹیں ہیں اب کورونا وائرس کی عالمی وباء کی وجہ سے ملک میں ہنگامی صورتحال ہے ایسے میں آئین میں ترمیم، قوانین بدلنق اور اداروں میں اصلاحات لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ تاہم جو لوگ کچھ کرگذرنے کا عزم رکھتے ہیں ان کے سامنے کوئی رکاوٹ زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتی۔حکومت نے احتساب بیورو کو چوروں اور لٹیروں کو پکڑنے، انہیں قرار واقعی سزا دلوانے اور لوٹی گئی رقم واپس لانے کے اختیارات تو تفویض کئے ہیں مگر نیب کا کہنا یہ ہے کہ قومی دولت لوٹنے والوں نے کوئی ثبوت نہیں چھوڑے اس لئے ان کو عدالتوں سے سزا دلوانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔پاکستان سٹیل ملز کو سیاسی جماعتیں بھی سفید ہاتھی قرار دیتی رہی ہیں سپریم کورٹ نے جب حکم دیا کہ تین سالوں سے بند سٹیل ملز کے ہزاروں ملازمین کو قومی وسائل پر پالنے کا کوئی جواز نہیں، حکومت تمام ملازمین کو برطرف کرکے جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے سٹیل ملز کو دوبارہ فعال کرنے کے لئے اقدامات کرے، جب حکومت نے ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دے کر فارع کرنے اور ادارے کی نجکاری کا فیصلہ کیا تو سیاسی جماعتیں خم ٹھونک کر اس کے خلاف میدان میں نکل آئیں اور بہت سے لوگ عدالتوں میں پہنچ گئے۔عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت معاشی عدم استحکام کا ملبہ سابقہ حکومتوں پر ڈال کر دو سال کا عرصہ گذار چکی ہے مگر یہ بہانہ مزید نہیں چل سکتا۔اپنے دور اقتدار کے تیسرے سال کے دوران حکومت کو معاشی استحکام کے لئے معمول سے ہٹ کر کچھ کرنا ہوگا۔وی آئی پی کلچر کو ختم کرنے کی بات شاید حکومت بھول چکی ہے مگر لوگوں کو یہ وعدہ اس لئے یاد ہے کہ اس ملک کے عوام سات دہائیوں سے اس نظام سے تنگ آچکے ہیں عوام کا خادم کہلانے والے ان پر مطلق العنان حاکم بن کر بیٹھے ہوئے ہیں اسی طرح طبقاتی نظام تعلیم ختم کرنے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔گذشتہ دوسالوں کے اندر تعلیمی فیسوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری یونیورسٹیوں نے حکومت کی طرف سے ملنے والی گرانٹ میں کمی کے باعث نہ صرف ٹیوشن فیسوں میں اضافہ کردیا ہے بلکہ سیلف فنانس سکیم کے ذریعے غریبوں پراعلیٰ تعلیم کے دروازے ہی بند کر دیئے ہیں۔تعلیم کے لئے وفاقی بجٹ میں مختص کی گئی رقم مجموعی قومی پیداوار کے چھ فیصد کے مساوی ہے اتنے قلیل بجٹ سے ملک میں تعلیمی انقلاب لانے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔اورتعلیم کے فروغ کے بغیر فلاحی اور ترقیافتہ معاشرے کے قیام کے دعویٰ دیوانے کا خواب ہے۔