صوبائی کابینہ کا اجلاس، صوبہ بھر کے شہریوں کے لیے بغیر کسی امتیاز کے لائف انشورنس سکیم اور ملاکنڈ و ہزارہ ڈویژن میں عرصہ دراز سے پڑی لکڑی کو استعمال میں لانے کی منظوری دیدی گئی
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) خیبر پختونخوا کابینہ کا 32 واں اجلاس جمعرات کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکریٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل نے شرکت کی۔اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہاہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر پاک افواج کو خراج تحسین پیش کیا اور شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے خیبر پختونخوا کے شہداء کے لواحقین کے لیے 50 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 10 لاکھ روپے فی کس امدادی پیکیج کا اعلان کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ارکان اسمبلی ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ شہداء کے گھروں کا دورہ کریں اور امداد کی فوری ادائیگی کو یقینی بنائیں۔کوہستان میں مالی بے ضابطگیوں کے کیس پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے نیب کی کارروائی کو خوش آئند قرار دیا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں جو بھی ملوث ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔بدعنوانی کے اس کیس میں ملوث عناصر کے خلاف کسی اور ادارے سے زیادہ سخت کاررائی صوبائی حکومت خود کرے گی۔انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئر مین عمران خان کے وژن کا خصوصی ذکر کیا اور بدعنوانی کے خلاف ان کی زیرو ٹالرنس پالیسی کو دہرایا اور اس کیس کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا، جس کی سربراہی خود وزیر اعلیٰ کریں گے۔
بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کابینہ اجلاس میں ضلع کرم کی صورتحال پر دی گئی بریفنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابینہ اجلاس میں ضلع کرم میں امن کی بحالی کے لیے فورسز، انتظامیہ اور جرگہ اراکین کی کاوشوں کو سراہا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کرم صورتحال کے دوران ہیلی کاپٹر کی 338 پروازوں کے ذریعے 29140 کلو گرام ادویات اور 9290 افراد کو علاقے سے منتقل کیا گیا۔ 979 مورچے تباہ کیے گئے، بھاری اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا، جبکہ 86 دیہات کو غیر مسلح کر دیا گیا ہے۔مزید تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹل پاراچنار روڈ کی مرمت کے لیے 10 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، جبکہ 9.6 ارب روپے کی لاگت سے سڑک کی توسیع کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ بازاروں کی تزئین و آرائش پر 728 ملین روپے کے منصوبے میں سے 300 ملین سے زائد روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے صوبہ بھر کے شہریوں کے لیے بغیر کسی امتیاز کے لائف انشورنس سکیم کی منظوری دی ہے، جس پر سالانہ 4.5 ارب روپے لاگت آئے گی۔ اسی طرح صحت کارڈ سکیم میں بھی ایک سال کی توسیع کی منظوری دی گئی۔دیگر فیصلوں کی تفصیل بتاتے ہوئے بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ کابینہ نے ڈیجیٹل ادائیگی اور فِن ٹیک حکمتِ عملی 2030 کی منظوری دی ہے، جس کا مقصد حکومتی ادائیگیوں کو ڈیجیٹلائز کرنا اور مالی شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کابینہ نے وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی جانب سے 29 جنوری کو پشاور پریس کلب کی منتخب کابینہ کی حلف برداری موقع پر کئے جانے والے تمام اعلانات پر فوری عملدرآمد کی بھی منظوری دی ہے۔ ان اعلانات میں رواں مالی سال کے دوران پشاور پریس کلب کے لئے 5 کروڑ روپے کی ون ٹائم سپیشل گرانٹ کا اجراء، صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے خیبرپختونخوا جرنلسٹس ویلفیئر انڈوومنٹ فنڈ کی سیڈ منی 12 کروڑ 80 لاکھ روپے سے بڑھا کر 20 کروڑ روپے کرنے، نیو پشاور ویلی سٹی میں پلاٹ لینے والے صحافیوں کو پرویژنل الاٹمنٹ لیٹرز کی جگہ اوریجنل الاٹمنٹ لیٹرز کا اجراء، پشاور پریس کلب کے 100 صحافیوں کے بچوں کے لئے ایک سال تک دس دس ہزار روپے کے ماہانہ وظائف کا اجراء اور پشاور پریس کلب کے صحافیوں کے مستحق خاندانوں کو قرعہ اندازی کے ذریعے مفت سولر سسٹم دینے کے اقدامات شامل تھے۔
کابینہ کے اجلاس میں کم از کم اجرت کے مطابق پروفیشنل ٹیکس میں ترمیم لاتے ہوئے 36 ہزار روپے تک اجرت لینے والے صنعتی مزدوروں کو پروفیشنل ٹیکس سے استثنیٰ دینے کی منظوری دی گئی۔اسی طرح ضم اضلاع کے خاصہ داروں اور لیویز کی مدت ملازمت کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کی روشنی میں ان کی ریٹائرمنٹ کی توثیق کر دی گئی۔ضلع ہنگو میں درسمنڈ کمیونٹی گیم ریزرو کے قیام، آئینی ترمیمی بل برائے جنوبی پنجاب صوبے پر غور کے لیے کمیٹی، اور ملاکنڈ و ہزارہ ڈویژن میں عرصہ دراز سے پڑی لکڑی کی قواعد و ضوابط کے تحت استعمال میں لانے کی منظوری دی گئی تا کہ اسے خراب ہونے سے بچایا جائے اور صوبائی خزانے کو 1.2 ارب روپے آمدن حاصل ہو۔
خیبرپختونخوا ہائیر ایجوکیشن سکالرشپ فنڈ میں 12.4 کروڑ روپے اضافے، اور چینی جامعات میں زیر تعلیم 460 طلبہ کی اسکالرشپ کی مد میں خیبرپختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو 5 کروڑ روپے سے زائد کی گرانٹ کی فراہمی کی منظوری دی گئی جبکہ ضلع کولائی پالس میں ضلعی ہسپتال کے منصوبے کی لاگت میں اضافے اور جلد تکمیل کی ہدایت دی گئی۔کابینہ نے دو خواتین مریضوں کے لیے جگر اور بون میرو ٹرانسپلانٹ کی مد میں مالی امداد کی منظوری دی، جبکہ ہیلتھ کیئر کمیشن کے پرائیویٹ ممبران کے تقرر کے لیے سرچ کونسل کے ممبران کی منظوری دی گئی۔لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ڈائریکٹر جنرل سمیت عملہ کی آسامیوں کی تخلیق، واساہری پور کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل، منشیات کے عادی افراد کے لیے جاری منصوبے کے فیز تھری کے لئے 50 ہزار روپے فی کس فنڈ کی گرانٹ، اور سمال انڈسٹریز بورڈ و بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے بورڈز کی تشکیل کی منظوری دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ منصوبے کی جلد تکمیل پر زور دیا گیا اور پی سی ون کی رویژن کی منظوری دی گئی جبکہ اجلاس میں فلسطینی مسلمانوں کی حمایت میں وفاق سے آواز بلند کرنے کی سفارش پر مبنی صوبائی اسمبلی کی قرارداد وفاق کو بھیجنے کی منظوری بھی دی گئی۔
کابینہ اجلاس میں 29 مارچ کو ابا خیل پہاڑی، تحصیل کاٹلنگ، مٹہ اور بابوزئی کی حدود میں واقع علاقے میں جاں بحق ہونے والے 9 افراد کے لیے 50 لاکھ روپے فی کس خصوصی امداد کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح ٹی ڈی پیز کے لیے 35 کروڑ 93 لاکھ روپے کے فنڈ کی ایکس پوسٹ فیکٹو منظوری دی گئی جو ماہانہ خوراک اور وظیفہ کی مد میں فراہم کئے جا چکے ہیں۔اجلاس میں ضلع جنوبی وزیرستان کے ججز کے لیے گاڑیوں کی خریداری پر پابندی میں نرمی اور 2 کروڑ روپے سے زائد کی گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی۔

