The Voice of Chitral since 2004
Friday, 6 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبائی حکومت پولیس سمیت دیگر تمام فورسز کے شہداءکے لواحقین کو پلاٹس دے رہی ہے جبکہ پولیس میں بھرتی کیلئے شہداءکے بچوں کا کوٹہ 5 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ

Chitral Times

صوبائی حکومت پولیس سمیت دیگر تمام فورسز کے شہداءکے لواحقین کو پلاٹس دے رہی ہے جبکہ پولیس میں بھرتی کیلئے شہداءکے بچوں کا کوٹہ 5 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ

صوبائی حکومت پولیس سمیت دیگر تمام فورسز کے شہداءکے لواحقین کو پلاٹس دے رہی ہے جبکہ پولیس میں بھرتی کیلئے شہداءکے بچوں کا کوٹہ 5 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ

صوبائی حکومت پولیس سمیت دیگر تمام فورسز کے شہداءکے لواحقین کو پلاٹس دے رہی ہے جبکہ پولیس میں بھرتی کیلئے شہداءکے بچوں کا کوٹہ 5 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈا پورنے اتوار کے روز سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے سی ٹی ڈی کی استعداد کو بڑھانے کیلئے نو تعمیر شدہ انوسٹی گیشن اور انٹیلی جنس بلاک کا افتتاح کیا۔جدید سہولیات سے آراستہ انوسٹی گیشن اینڈ انٹیلی جنس بلاک میں جدید طرز کے آڈیٹوریم ، کانفرنس روم ، لائبریری ، دفاتر اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف ، چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری، انسپکٹر جنرل پولیس اختر حیات گنڈا پور ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجیداور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ پولیس حکام کی جانب سے وزیراعلیٰ کو سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے کیلئے موجودہ صوبائی حکومت کے اقدامات پر بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سی ٹی ڈی کو موجودہ حالات کے تقاضوں کے مطابق مستحکم بنانے اور دہشت گردی کے مقدمات میں تکنیکی معاونت کیلئے ڈیٹا کلیکشن سیکشن، ڈیٹا مائننگ سیکشن ، کرائم سین یونٹ اور سائبر کرائم یونٹس قائم کئے گئے ہیں۔

انٹیلی جنس کے نظام کو موثر بنا نے کیلئے سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جبکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور بھتہ خوری کی روک تھام کیلئے کاونٹر ٹیرازم فنانسنگ ایند ایکسٹارشن یونٹ قائم کیا گیا ہے۔اسی طرح سی ٹی ڈی کی تحقیقاتی اور تکنیکی استعداد کو بڑھانے کیلئے ڈی جی آئی ٹی اورڈی جی ریسرچ انالسسز کی آسامیوں کی منظوری دی گئی ہے ۔سی ٹی ڈی کا دائرہ کار بڑھانے کیلئے صوبہ بھر میں سی ٹی ڈی کے ریجنل ہیڈکوارٹر اور تمام ضم شدہ اضلاع میں سی ٹی ڈی کے دفاتر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔دہشت گردی کے مقدمات کی مو ¿ثر پیروی کیلئے 18 پبلک پراسکیوٹرز کی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔سی ٹی ڈی انٹیلی جنس کو بہتر بنانے کیلئے 314 ڈیٹکٹیو آفیسر کی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیںجبکہ آپریشن کی استعداد کو بہتر بنانے کیلئے تمام اضلاع کی سطح پر جدید ہتھیاروں اور آلات سے لیسSWATٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔مزید بتایا گیا کہ فارنزک لیب میں جدید آلات کی فراہمی اور تربیت یافتہ ماہرین کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے،سی ٹی ڈی کی 30 عدد گاڑیوں میں جیمرز نصب کئے گئے ہیں۔ انٹیلی جنس اور انوسٹی گیشن عملے کی استعداد بہتر بنانے کیلئے جدید لیپ ٹاپس اور موبائل فونز فراہم کئے گئے ہیں،

حساس اضلاع میں سی ٹی ڈی کو سات عدد بلٹ پروف گاڑیوںفراہم کر دی گئی ہیں اور دہشت گردوں کی نقل و حمل کی نگرانی کیلئے جدید ڈرونز ، نائٹ وژن آلات اور تھرمل گنز فراہم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح سی ٹی ڈی کی افرادی قوت میں مجموعی طور پر 1263 افرادکا اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے سی ٹی ڈی عملے کی تعداد 3167 سے بڑھ کر 4430 ہوگئی ہے۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ موجودہ صوبائی حکومت کے ان اقدامات سے سی ٹی ڈی کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے،سی ٹی ڈی نے انٹیلی جنس بنیادوں پر کئی کامیاب کاروائیاں کی ہیں جن سے دہشت گردی کے کئی منصوبے ناکام ہو گئے ،۔ سی ٹی ڈی کو مستحکم کرنے کے اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردی کے مجرمان کو سزا دلانے کی شرح 50 فیصد بڑھ گئی ہے،سال2022 میں عدالتوں سے دہشت گردوں کو سزا دلانے کی شرح 13 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 38 فیصد ہو گئی ہے،انوسٹی گیشن کے عمل کو بہتر بنانے سے اب ملزمان کی ریمانڈاوسطاً 1.4 دن سے بڑھ کر اب 25 دن ہو گئی ہے اور 2022 میں عدالتوں سے ملزمان کی 55 ضمانتیں مسترد ہوئیںجبکہ سال2024 میں 123 درخواستیں مسترد ہوئیں۔

اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ سال2023 میں خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی سیٹ اپ نہ ہونے کے برابر تھا۔گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں سی ٹی ڈی کو ہنگامی بنیادوں پر مستحکم کیا گیا ہے اوراس دوران سی ٹی ڈی کی کارکردگی میں بہت زیادہ بہتری آئی ہے ۔اُنہوں نے کہاکہ سی ٹی ڈی کو اس حد تک مستحکم بنانے پر میں پولیس کی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، سی ٹی ڈی کو مزید مستحکم کرنے کیلئے کل ہی مزید ایک ارب روپے جاری کئے جائیں گے ،فارنزک لیب کے حوالے سے اب خیبرپختونخوا کو کسی اور صوبے سے مدد لینی نہیں پڑرہی،سی ٹی ڈی کے تمام اسٹیشنز کیلئے 20 بم پروف گاڑیاں جلد ہی خریدی جائیں گی اس کے علاوہ سی ٹی ڈی کیلئے مزید ہائی ٹیک کٹس ، سنائپر گنز ،ہائی ٹیک ڈرونز اور تھرمل آلات بھی خریدے جائیں گے ۔

پولیس کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ملک کیلئے جانیں دینے والے پولیس شہداءاور اُن کے لواحقین کو سلام پیش کرتے ہیں۔خیبرپختونخوا پولیس پورے ملک کی جنگ لڑرہی ہے اورپولیس شہداءکے لواحقین کو ہر ممکن سپورٹ فراہم کیا جائے گا۔علی امین گنڈا پور نے کہاکہ صوبائی حکومت پولیس سمیت دیگر تمام فورسز کے شہداءکے لواحقین کو پلاٹس دے رہی ہے جبکہ پولیس میں بھرتی کیلئے شہداءکے بچوں کا کوٹہ 5 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ پولیس کی تمام ضروریات ترجیحی بنیادوں پر پوری کی جائیں گی اور اس سلسلے میں فنڈز کی کمی کو آڑے نہیں آنے دیا جائے گا۔ قبل ازیں سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹر اور پولیس کے چاق و چوبند دستے نے وزیراعلیٰ کو گارڈ آف ہانر پیش کیا۔ وزیراعلیٰ نے سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹر کے مختلف شعبوں کا تفصیلی دورہ بھی کیا ۔

دریں اثنا وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بنوں کے علاقہ بکاخیل میں دہشتگردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوراں ایک کیپٹن اور ایک سپاہی کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ یہاں سے اپنے تعزیتی بیان میں وزیر اعلی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ وزیر اعلی نے کامیاب آپریشن کرکے پانج دہشتگردوں کو اپنے انجام تک پہنچانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیپٹن محمد زوہیب اور سپاہی افتخار حسین نے دہشتگردوں کا بڑی بہادری کے ساتھ مقابلہ کرکے جام شہادت نوش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز نے لازوال قربانیاں دی ہیں،قوم کو سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی ان قربانیوں پر فخر ہے، سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہے۔

chitraltimes cm kp ali amin gandapur visit cdt police station with cs and igp chitraltimes cm kp ali amin gandapur visit cdt police station