صوبائی حکومت سمیت تمام متعلقہ محکمے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز و اختیارات کی منتقلی کیلئے متفقہ طور پر رضا مند ہیں،گورنر حاجی غلام علی
خواہش ہے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اپنے تمام قانونی اختیارات سمیت مطلوبہ فنڈز جلد ازجلد منتقل ہوجائے تاکہ نچلی سطح پر اختیارات کی صحیح معنوں میں منتقلی یقینی بنائی جاسکے، حاجی غلام علی
گورنر سے صوبہ کے 35 تحصیل چیئرمینوں سمیت دیگربلدیاتی نمائندوں پرمشتمل 50 رکنی وفدکی گورنرہاؤس میں ملاقات
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے کہا ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات منتقلی کیلئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کااصل شکل میں بحال ہونا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے صوبہ بھر میں گذشتہ دو سال سے بلدیاتی نظام کو مفلوج کر دیا گیا جس سے تمام اضلاع بشمول ضم ا ضلاع میں نچلی سطح پر عوام کے مسائل حل کرنے میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ گورنر، وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری اورمتعلقہ ادارے اس پرمتفق ہے کہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کو ان کے اختیارات منتقل ہونے چاہئیے۔ صوبائی حکومت، نگران وزیر اعلیٰ، چیف سیکرٹری سمیت تمام متعلقہ محکمہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز و اختیارات کی منتقلی کیلئے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے، ہماری خواہش ہے کہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اپنے تمام قانونی اختیارات سمیت مطلوبہ فنڈز جلد ازجلد منتقل ہوجائے تاکہ نچلی سطح پر اختیارات کی صحیح معنوں میں منتقلی یقینی بنائی جاسکے اور صوبہ بھر کے عوام کی خدمت ہوسکے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے صوبہ کے 35 تحصیل میئرز و چیئرمینوں سمیت دیگربلدیاتی نمائندوں پرمشتمل 50 رکنی وفد سے گورنرہاؤس میں ملاقات کے دوران کیا۔ وفد کی قیادت مردان تحصیل کے میئر حمایت اللہ مایار کررہے تھے جبکہ شاہ ولی تحصیل چیئرمین شیرگڑھ، رفیع اللہ تحصیل چیئرمین دیر،سید باچاخان چیئرمین ثمرباغ اوردیگرشامل تھے۔
وفد کے شرکاء نے گورنر کو بتایاکہ پشاور ہائی کورٹ میں بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز و اختیارات کی منتقلی سے متعلق مقدمے کی سماعت تھی جس میں صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل پیش ہوئے اور بتایاکہ آیندہ سماعت پر معزز عدالت کو بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز کی منتقلی سے متعلق صوبائی حکومت سے معلومات لیکر آگاہ کریں گے۔ وفد کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز و اختیارات نہ ملنے سے مسائل پیش آرہے ہیں اور علاقائی سطح پر مسائل حل نہیں ہوپارہے جس سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہورہاہے۔ انہوں نے کہا کہ جس لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت صوبہ میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے تھے اسی ایکٹ کو اسی اصل شکل میں بحال کرنا ضروری ہے تاکہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اپنے تمام قانونی اختیارات حاصل ہو سکیں۔وفد کے شرکاء نے چیف سیکرٹری سے ملاقات کیلئے گورنر سے درخواست کی جس پر گورنرنے اسی وقت چیف سیکرٹری سے ٹیلی فون پررابطہ کیا اورچیف سیکرٹری نے ملاقات کیلئے وقت فراہم کردیاجس پر تحصیل چیئرمینوں نے چیف سیکرٹری کا شکریہ ادا کیا۔وفد سے گفتگو کرتے ہوئے گورنرنے کہاکہ گورنر، نگران وزیر اعلیٰ، چیف سیکرٹری اور دیگر متعلقہ اداروں کے انتظامی سربراہان بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز و اختیارات کے حق میں ہیں جس کی واضح مثال لوکل گورنمنٹ اور دیگرمتعلقہ حکام کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد کرناہے اورالیکشن کمیشن کوبھی فنڈزکے اجراء سے متعلق آگاہ کیا جا چکا ہے۔ سابق حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں بدنیتی سے ترمیم کی تھی جس سے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو ان کے حقوق واختیارات سے محروم رکھاگیا۔
منتخب بلدیاتی نمائندے اس بات کی تسلی رکھیں کہ موجودہ نگران حکومت ان کے ساتھ ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ صوبے کی تمام منتخب بلدیاتی نمائندوں کو فنڈزواختیارات مل جائے۔گورنرنے کہاکہ آپ لوگوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ آپ نچلی سطح پر عوام اور علاقہ کی خدمت اپنا فرض سمجھ کر ادا کرتے رہیں اور فنڈز و اختیارات کی عدام فراہمی پر احتجاج اور ھڑتال سے گریز کریں۔ اس موقع پر وفد نے گورنر، نگران وزیر اعلیٰ سمیت صوبائی حکومت کا منتخب بلدیاتی نمائندوں کے فنڈز و اختیارات کی منتقلی سے متعلق سنجیدہ سوچ اور اقدامات کا شکریہ ادا کیا۔ علاوہ ازیں ڈنمارک پارلیمنٹ کے ارکان بشمول ڈپٹی ہیڈ مشن ایمبیسی آف ڈنمارک کی5 رکنی وفدنے گورنر ہاؤس پشاور کا دورہ کیا اورگورنر حاجی غلام علی سے ملاقات کی۔ گورنر نے اراکین ڈینش پارلیمنٹ کو گورنر ہاوس آمد اور دورہ پشاور پر خوش آمدید کہا۔ انہوں نے ڈینش اراکین پارلیمنٹ کو گورنر ہاؤس کے آئینی فرائض، روزمرہ کے سرکاری امور سے متعلق آگاہ کیا۔ملاقات میں صوبہ میں معدنیات، سیاحت، شعبہ تعلیم، ہائیڈل پاور سمیت دیگر صوبہ کے قدرتی وسائل پر سرمایہ کاری کے مواقع پرتفصیلی گفتگو کی گئی۔
اس موقع پر گورنر کا کہناتھاکہ پاکستان معدنیات، زراعت، سیاحت، ہائیڈرل پاور سمیت قدرتی وسائل سے مالا مال زرخیز ملک ہے۔عالمی سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے وافر مواقع موجود ہیں،چائنہ کی طرح ڈنمارک سمیت دیگر عالمی ممالک صوبے میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری و جوائنٹ ونچر منصوبوں کا آغاز کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ڈینش حکومت صوبہ بالخصوص ضم اضلاع کے نوجوانوں کو ڈنمارک میں تعلیمی مواقع فراہم کرنے کیلئے سکالرشپس فراہمی میں تعاون کرے۔ڈنمارک کیجانب سے شعبہ تعلیم میں تعاون اور اسکالرشپس فراہمی سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہونگے۔ڈینش ارکان پارلیمنٹ نے اس موقع پر گورنر کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا اور شعبہ تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں تعاون و جوائنٹ ونچر منصوبوں کی تجویز کو ڈنمارک حکومت کے سامنے پیش کرنیکی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے گورنر ہاؤس پشاور کی تاریخی حیثیت اور خوبصورتی دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور گورنر کو ڈنمارک میں نظام حکومت میں مئیرز کے اہم کردار و فرائض سے متعلق بھی آگاہ کیا۔