شعبہ انجینئرنگ کی تعلیم کو ملکی و عالمی صنعت سے ہم آہنگ ہونا چاہئے، حاجی غلام علی
موجودہ دور کے چیلینجز سے نمٹنے کیلئے انجینئرنگ،ٹیکنالوجی سمیت دیگر جدید علوم میں قابل عمل تحقیق کی ضرورت ہے، گورنر
گورنر کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے سالانہ کانووکیشن 2024 میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت، شعبہ انجینئرنگ اینڈ الائیڈ سائیبسز میں تعلیم مکمل کرنیوالے 482طلباء وطالبات میں ڈگریاں تقسیم کیں، 19 طلباء و طالبات کو گولڈ میدلز پہنائے
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہاہے کہ شعبہ انجینئرنگ کی تعلیم کو ملکی و عالمی صنعت سے ہم آہنگ ہونا چاہئے،انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے معاشرے کو تیز تر، مربوط اور انسانی زندگی کو آسان بنا دیا ہے، موجودہ دور کے چیلینجز سے نمٹنے کیلئے انجینئرنگ،ٹیکنالوجی سمیت دیگر جدید علوم میں قابل عمل تحقیق کی ضرورت ہے،ہمارے نوجوان عالمی ممالک کے نوجوانوں سے کسی بھی شعبہ میں قابلیت و صلاحیت میں کم نہیں ہیں،تمام شعبوں میں جدید تحقیق سے ترقی کی ڈور میں آگے نکلا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہو ں نے جمعرات کے روز نیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے سالانہ کانووکیشن 2024 سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قیصر علی، وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر جہان بخت، رجسٹرار،کنٹرولر امتحانات، فیکلٹی اراکین، سینٹ و سنڈیکیٹ کے ممبران سمیت طلباء و طالبات اور والدین نے شرکت کی۔ گورنر نے کانووکیشن میں اکیڈیمک سیشن 2023 کے شعبہ انجنینئرنگ اینڈ الائیڈ سائنسز میں ڈاکٹر آف فلاسفی، ماسٹر اور بیچلر کی تعلیم مکمل کرنیوالے 482 طلباء وطالبات میں ڈگریاں تقسیم کیں اورتعلیمی میدان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنیوالے 19 طلباء و طالبات کو گولڈ میدلز پہنائے۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرقیصرعلی نے گورنراوردیگرمہمانوں کا خیرمقدم کیا اور یونیورسٹی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنرنے تعلیمی کامیابی حاصل کرنیوالے طلبہ، والدین، فیکلٹی اراکین کو مبارکبادپیش کی اور کہاکہ یونیورسٹیوں کے کانووکیشن اور طلبہ سے ملاقات کر کے انہیں دلی مسرت ہوتی ہے۔شعبہ انجینئرنگ سمیت تمام تعلیم یافتہ نوجوان ملک و قوم کا روشن مستقبل ہیں۔نوجوان انجنئیرنگ، ٹیکنالوجی سمیت جدید علوم پر اپنی دسترس برقرار رکھیں، انہوں نے کہا کہ دنیا میں 19ویں اور 20ویں صدی میں کم سہولیات کے باوجود اگر انجنئیرنگ کے شعبہ میں کمال مہارت پر مبنی ایجادات متعارف کرائی جا سکتی ہیں تو موجودہ 21ویں صدی جو جدید ٹیکنالوجی کی صدی ہے اس میں آپ نوجوانوں نے اپنی تعلیم کا درست استعمال کرتے ہوئے انجنئیرنگ کے شعبہ میں نئی ایجادات متعارف کرا کے ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کرنا ہے۔نوجوان نسل کو اپنے سامنے اہداف مقررکریں اور پھر ان اہداف کے حصول کیلئے بھرپورمحنت اور کوشش کریں۔
انہوں نے نوجوانوں پر زوردیا کہ وہ آپس میں محبتیں بانٹیں اور معاشرے سے نفرتوں کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا کریں۔ گورنرنے یونیورسٹی انتظامیہ پر بھی زوردیا کہ وہ مارکیٹ ضروریات کے مطابق ریسرچ کوفروغ دیناہوگا۔جدید دور میں سماجی تبدیلی وترقی کے حوالے سے یونیورسٹیوں کا کردار بڑا اہم ہے۔ نوجوانوں کو ٹیکنالوجی اور سائنسی علوم سیکھنے چاہئیں تاکہ وہ ملک کی تعمیر و ترقی میں اپناحصہ ڈال سکیں۔گورنرنے طلبہ سے کہاکہ آپ کے والدین بھی آج کانووکیشن ہال میں موجود ہیں جنہوں نے دوعشروں سے زیادہ آپ کے روشن مستقبل کی خاطر سختیاں اورتکالیف اوراخراجات برداشت کیں جس پر گورنرنے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ انتہائی خوشی ہوئی کہ 400 سے زیادہ طلباء وطالبات کو ڈگریاں اس خوبصورت موسم میں دے رہاہوں، آپ طلباء بھی پھولوں کی کلیوں کی طرح ہیں اور باہر نکل کرپھول بن کرمعاشرے میں خوشبوپھیلائیں گے۔انہوں نے طلباء کی عملی زندگی میں بھی کامیابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہارکیا۔ تقریب کے اختتام پر گورنرکانووکیشن ہال سے نکل کر گیٹ تک طلباء کیساتھ پیدل آئے، طلباء نے گورنرکیساتھ تصاویرنکالیں اور سیلفیاں لی اورشاندار خطاب پر گورنر کو خراج تحسین پیش کیا۔
