شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری، اسد عمر، عمر سرفراز چیمہ، سینٹر فلک ناز چترالی سمیت پی ٹی آئی کی ٹاپ لیڈرشپ گرفتار، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کو نظر بند کردیا گیا
اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ )عمران خان کے بعد تحریکِ انصاف کی ٹاپ لیڈرشپ کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد میں گلگت بلتستان ہاؤس سے، فواد چوہدری کو سپریم کورٹ کے باہر سے پکڑا گیا۔اسد عمر، عمر سرفراز چیمہ اور علی حیدر زیدی کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اسلام آباد میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے علاوہ اب تک کن دیگر تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے۔اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے ترجمان کے مطابق جلاؤ، گھیراؤ اور پْرتشدد مظاہروں پر اکسانے والوں کی نقصِ امن کے خطرے کے تحت گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے بتایا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے جمشید اقبال چیمہ، فلک ناز چترالی، مسرت جمشید چیمہ، ملیکہ بخاری اور سابق ایم پی اے اجمل صابر راجہ کو بھی گرفتار کیا ہے۔اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تمام گرفتاریاں قانونی تقاضوں کو مکمل کر کے عمل میں لائی گئی ہیں۔ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں، عوام میں افواہ اور اشتعال پھیلانے سے گریز کیا جائے۔اسلام آباد پولیس نے رات گئے کارروائیاں کرتے ہوئے مزید 80 افراد کو گرفتار ر لیا۔ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق گزشتہ رات سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے مزید 80 افراد کو گرفتار کیا گیا۔اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ترنول ریلوے اسٹیشن کو آگ لگانے، فائرنگ کرنے اور ریلوے کی پٹریاں اکھاڑنے والے ملزمان بھی گرفتار کیے گئے ہیں۔ترجمان اسلام آباد پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ دارالحکومت میں گزشتہ 2 روز میں گرفتار افراد کی کل تعداد 250 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
شاہ محمود قریشی،اسد عمر،فواد چوہدری کو اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا
اسلام آباد(سی ایم لنکس)کیپیٹل پولیس کی جانب سے گرفتارپی ٹی آئی رہنماؤں شاہ محمود قریشی،اسد عمر،فواد چوہدری،جمشید اقبال چیمہ، فلک ناز چترالی، مسرت جمشید چیمہ اور ملیکہ بخاری کوتین ایم پی او کے تحت اڈیالہ جیل بھیج دیاگیاہے۔پولیس ترجمان کاکہناہے کہ تمام گرفتاریاں قانونی تقاضوں کومکمل کرکیعمل میں لائی گئی ہیں جب کہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ابھی تک مجموعی طور پر کل سے رات گئے تک املاک کونقصان پہنچانے پر80 افراد کوگرفتارکیا جاچکاہے۔انہوں نے کہاکہ عوام میں افواہ اور اشتعال پھیلانے سے گریزکیاجائے۔پولیس کے مطابق اسلام آباد میں آمدورفت کے تمام راستے کھلے ہیں۔ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔ تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ قانون کا احترام کریں۔اسلام آباد میں دفعہ 245 نافذ ہے۔کسی بھی قسم کی غیر قانونی عمل کرنے والوں کے خلاف پولیس، ایف سی، رینجرز اور پاک افواج کارروائی کرنے کے مجاز ہیں۔
آئی ایس پی آر کے اعلامیے پر پی ٹی آئی کا وضاحتی اعلامیہ
راولپنڈی(سی ایم لنکس)انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے اعلامیے پر تحریک انصاف نے بھی وضاحتی اعلامیہ جاری کر دیا۔تحریک انصاف نے اعلامیے میں کہا ہے کہ آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز زمینی صورتحال کے ادراک پر مبنی نہیں، پی ٹی آئی نے ہمیشہ آئین وقانون سے انحراف کی حوصلہ شکنی کی ہے۔پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد عوامی ردعمل بہت سے عوامل سے جڑا ہے، ماورائے قانون اقدامات اور معیشت کی تباہی نے بھی تلخی پیدا کی۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی اپنی ساخت، نظریے اور منشور کے اعتبار سے ایک جمہوری جماعت ہے جو پرامن، غیرمتشدد اور آئین و قانون پر کار بند رہ کر مقاصد کے حصول پر یقین رکھتی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے کہا تھا کہ عمران خان کو قانون کے مطابق حراست میں لیا گیا، گرفتاری کے بعد منظم طریقے سے آرمی املاک اور تنصیبات پر حملے کرائے گئے۔9 مئی سیاہ باب، سازش ناکام بنادی، جو کام ابدی دشمن 75 سال میں نہ کرسکا وہ عمران کی گرفتاری کے بعد اقتدار کی ہوس میں مبتلا سیاسی لبادہ اوڑھے گروہ نے کردکھایا، پاک فوجایک بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا کہ 9 مئی کا دن ایک سیاہ باب کی طرح یاد رکھا جائے گا، عمران خان کی گرفتاری کے بعد فوج مخالف نعرے بازی کرائی گئی۔آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ شرپسند عناصر عوامی جذبات کو محدود اور خود غرض مقاصد کی تکمیل کے لیے ابھارتے رہے۔آئی ایس پی آر اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ دشمن جو 75 سال میں نہ کرسکا وہ اقتدار کی ہوس میں مبتلا ایک سیاسی لبادہ اوڑھے گروہ نے کر دکھایا۔
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کو نظر بند کردیا گیا
گلگت بلتستان(چترال ٹایمز رپورٹ)گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ خالد خورشید کو جی بی ہاؤس میں نظر بند کردیا گیا۔وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے مطابق رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری جی بی ہاؤس کے باہر تعینات کردی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق خالد خورشید کی نقل و حرکت پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ پولیس نے صبح سویرے انہیں گرفتار کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے مطابق نقص عامہ کی صورتحال کے پیشِ نظر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو نظر بند کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ داخلہ جی بی شمس لون اور وزیرِ قانون سہیل عباس بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ ہیں۔