The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

سپریم کورٹ کا چترالی نوجوان کے حق میں فیصلہ اور صوبائی محکمہ کو دو لاکھ روپے جرمانہ

Chitral Times

سپریم کورٹ کا چترالی نوجوان کے حق میں فیصلہ اور صوبائی محکمہ کو دو لاکھ روپے جرمانہ

سپریم کورٹ کا چترالی نوجوان کے حق میں فیصلہ اور صوبائی محکمہ کو دو لاکھ روپے جرمانہ
Pakistan's Supreme Court picture

سپریم کورٹ کا چترالی نوجوان کے حق میں فیصلہ اور صوبائی محکمہ کو دو لاکھ روپے جرمانہ

چترال ( چترال ٹائمزرپورٹ ) چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں آج تین رکنی بنچ نے چترال سے تعلق رکھنے والے نوجوان مسمی امجد الرحمان کے سروس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے بے جا مقدمہ بازی پر متعلقہ محکمہ کو دو لاکھ روپیہ جرمانہ اور نوجوان کو ملازمت دینے کا دبنگ فیصلہ سنایا دیا۔ سپریم کورٹ سے میڈیا رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس نے بے جا مقدمہ بازی کرنے اور نوجوان کی زندگی کے ساتھ کھیلنے اور وقت ضائع کرنے پر متعلقہ محکمہ کو خوب ڈانٹا اور دو لاکھ کی رقم بطور جرمانہ امجد الرحمان کو ادا کرنے کے ساتھ ساتھ فوراً اس کی ملازمت کا آرڈر جاری کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالتی حکم کو 31 دسمبر سے پہلے پہلے فافذ کرانے کا بھی فیصلہ سنا دیا۔ رپورٹ کے مطابق 31 دسمبر سے پہلے فیصلے کو نافذ نہ کرنے کی صورت میں محکمہ کے زمہ دار افسروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی چلائی جائے گی۔

یاد رہے امجد الرحمان سی ٹی آئی ٹی کی پوسٹ کے لیے 2018ء میں سارا پروسیجر پورا کرنے بعد میرٹ کے ٹاپ پوزیشن پر تھے، تاہم انہیں “اوور کوالیفائیڈ” گردان کر تعیناتی نہیں کرائی گئی تھی، کیونکہ اس کے پاس کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر ڈگری تھی۔ جس پر اس نے پشاور ہائیکورٹ کے دارالقضاء بنچ میں مقدمہ دائر کیا جو اس کے حق میں فیصلہ ہوا تھا۔ بعد میں اس فیصلے کو متعلقہ محکمہ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔ سپریم کورٹ نے آج کی سماعت میں مذکورہ بالا فیصلہ سنا دیا۔ امجد الرحمان کے بقول وہ مالی مشکلات اور سپریم کورٹ کے وکلاء کی بھاری فیسوں کے وجہ سے وکیل نہیں کر پایا اور بہ نفس نفیس پیش ہوکر اپنے کیس کا دفاع کیا، جس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے اس کے حق میں مذکورہ بالا  فیصلہ سنا دیا۔