سپریم کورٹ فیصلہ؛ پی ٹی آئی کو پنجاب میں مزید 27نشتیں اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں 25 مخصوص نشستیں ملنے کا امکان
لاہور(سی ایم لنکس)مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب میں تحریک انصاف کو مزید 27نشتیں ملنے کا امکان ہے۔پنجاب اسمبلی کا ایوان 371 ممبران پر مشتمل ہے جس میں 297اراکین جنرل نشستوں پر منتخب ہوتے ہیں۔ خواتین کی مجموعی طور پر 66 مخصوص جبکہ اقلیتی 8 نشتیں ہیں۔تحریک انصاف کے پنجاب اسمبلی میں 108ارکان ہیں اور عدالتی فیصلے کے بعد پی ٹی ا?ئی کو پنجاب اسمبلی میں خواتین کی 24 اور 3 اقلیتی نشستیں مل سکتی ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 13 رکنی لارجر بینچ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے جسٹس منصور علی شاہ نے سنایا۔عدالت نے 13مئی کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن غیر آئینی قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انتخابی نشان سے محروم رکھ کر کسی پارٹی کو انتخابی عمل سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں 25 مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو ملنے کا امکان
پشاور( چترال ٹائمزرپورٹ )سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد خیبر پختونخوا میں 25 مخصوص نشستیں پی ٹی آئی (سنی اتحاد کونسل) کو ملنے کا امکان ہے۔انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن نے خواتین کی پانچ نشستیں تقسیم کیں جس میں دو ن لیگ اور دو جے یو ائی کو ملیں جبکہ ایک نشست پیپلز پارٹی کو ملی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کو 21 خواتین جبکہ اقلیت کی چار نشستیں مل جائیں گی جس کے بعد صوبائی اسمبلی کے 145 نشستوں کے ایوان میں پی ٹی آئی کے 118 نشستیں ہو جائیں گی۔جے یو آئی اور مسلم لیگ ن کی 9، 9 سیٹیں، پیپلز پارٹی کی 5، پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین کی 2 اور اے این پی کی اس وقت ایک نشست ہے جبکہ باجوڑ کو گزشتہ رات اے این کے امیدوار کے اعلامیہ کے بعد اے این پی کی سیٹیں دو ہو جائیں گی۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 13 رکنی لارجر بینچ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے جسٹس منصور علی شاہ نے سنایا۔عدالت نے 13مئی کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن غیر آئینی قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انتخابی نشان سے محروم رکھ کر کسی پارٹی کو انتخابی عمل سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے مخصوص نشستوں کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے صوبائی کابینہ اراکین، پارٹی قائدین اور کارکنان کو مبارکباد دی ہے۔ جمعہ کے روز صوبائی کابینہ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلی نے مذکورہ فیصلے کو حق کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے مخصوص نشستوں کے معاملے پر ایک اصولی مؤقف اختیار کیا تھا،آج سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہمارا موقف درست ثابت ہوگیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مخصوص نشستیں ہمارا حق تھا ، ہمیں ہمارا حق مل گیا اور یہ ثابت ہوگیا کہ ہمارا حق کسی اور کو دیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ مخصوص نشستیں نہ ملنے کی وجہ سے ہمیں اسمبلیوں میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ہم سب نے ایک ٹیم بن کر کام کیا اور کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا اس دوران بھر پور ساتھ دینے پر میں سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہم صوبے اور صوبے کے عوام کے حقوق کےلئے اسی طرح ایک ٹیم بن کر کام کرتے رہیں گے۔