سرکاری گندم اور آٹے کا حصول دن بہ دن مشکل؛ چترال شہر سمیت مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے، گندم کی خریداری پر سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ
چترال ( نمایندہ چترال ٹایمز ) جمعہ کے روز چترال شہر سمیت مختلف علاقوں میں سرکاری گوداموں میں گندم عوام کیلے دستیاب نہ ہونے اورسرکاری آٹا نہ ملنے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ، آیون، بکرآباد، جغور سمیت چترال ٹاون میں بھی احتجاجی مظاہرہ ریکارڈ کیا گیا ، جبکہ گزشتہ دن عشریت کے مقام پر چترال پشاور روڈ بلاک کرکے علاقے کے عوام نے احتجاج کیا ۔ احتجاجی مظاہرین کا موقف ہے کہ سرکاری گوداموں میں عام آدمی کیلیے گندم کی خریداری پر پابندی لگاکر لوگوں کو مسایل کا شکار کرکے قدیم دور کو دوبارہ زندہ کیا جارہاہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ حکومت اور انتظامیہ ملز مالکان کو نفع پہنچانے کیلیے غریب عوام کو خوار کررہی ہے ، جبکہ سرکاری آٹے کاحصول عام پبلک یا سفید پوش عوام کیلے جویے شیرلانے کے مترادف ہے۔ صبح سویرے لاینوں میں لگنے کے باوجود بیس کلو آٹا لینا ناممکن ہوگیا ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ سابقہ طریقہ کار کے مطابق سرکاری گوداموں میں گندم کی دستیابی کویقینی بنایں اگر خواہ مخواہ ملز مالکان کو فایدہ پہنچانا ہی مقصود ہے تو عوام کی مرضی کو ملحوظ خاطر رکھا جایے نصف گندم ملزمالکان کو دیا جایے اور نصف سرکاری گوداموں میں عام پبلک کی خریداری کے لیے دستاب ہو۔ انھوں نے نگران صوبایی حکومت سے داد رسی کی اپیل کرتے ہویے کہاہے کہ سابقہ حکمرانوں نے جاتے جاتے چترال کے عوام کو لاینوں میں لگاکر ایک عذاب میں مبتلا کرکے خود چلے گیے ۔ انھوں نے سرکاری گوداموں میں عام پبلک کیلیے گندم کی دستیابی کا مطالبہ کرتے ہویے شنوایی نہ ہونے کی صورت میں احتجاجی مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

