سرکاری ملازم اور عوام ۔ تحریر : محب العارفین
سرکاری ملازمین یعنی سرکار کے نوکر کام کرنے والے اور عوام کے خادم خدمت گار جنہیں عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس لیکر سرکار کی طرف سے ان سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دیے جاتے ہیں اس کے علاؤہ انہیں مختلف قسم کے مراعات سے بھی نوازا جاتا ہے تاکہ ان کی مالی وسائل میں کمی نہ ہو وہ بد عنوانی کرپشن رشوت ستانی کی طرف راغب نہ ہو اور اپنی فرائض منصبی ایمانداری جانفشانی سے ادا کریں۔مگر اس کے باوجود سرکاری ملازمین چاہے جن کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو بائیس گریٹ کا افسر ہو یا گیٹ پر معمور چپڑاسی سب اپنے بساط کے مطابق اس ملک کی غریب عوام کی گوشت نوچنے کے لیے ہمہ وقت تیار بیٹھتے ہیں اکثر سرکاری ملازمین کو دیکھ کر لگتا ہے کہ انہیں سرکار نے عوام کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ عوام کی تضحیک کرنے کی تنخواہوں دے رہا ہے انکی دفتروں کے سامنے سائلین کی قطاریں لگے ہوئے ہوتے ہیں مگر کلاس فور سے بیس بائیس گریٹ تک کا بابو دفتری اوقات سے ایک دو گھنٹے لیٹ آنا اپنی فرائض منصبی کا اہم حصہ سمجھتے ہیں اور پھر لاڈلے بچے کی طرح انکی فرمائشیں اور روٹھنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہڑتالیں کرنا انکا وطیرہ بن چکا ہے
مختلف تنظیمیں بناکر تعلیمی اداروں ،ہسپتالوں ،بیوروکریسی عدالتوں سمیت تمام ڈپارٹمنٹ میں مافیا کا روپ دار چکے ہیں ۔یہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں انہیں لگتا ہے کہ اگر حقوق ہیں تو بس انہیں کے ہیں باقی عوام جائے بھاڑ میں ۔ سرکاری ملازمین اپنی زاتی مفادات کے حصول کے لیے اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ انہیں عام عوام کا احساس ہی نہیں رہتا اگر کوئی انکی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھیں تو انہیں نوچ کھانے کو آتے ہیں اسکا تازہ ترین مثال ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹرز اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹشن کے مابین زاتی چپ خلش ہے جس سے عوام کا دور تک کا کوئی وسطہ نہیں مگر ان دونوں گروہوں میں رنجشوں کا خمیازہ چترال کے عوام بھگت رہے ہیں دونوں گروہ خود کو حقدار سچا اور مظلوم ثابت کرنے کے کوششوں میں مصروف ہیں ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں لیکن کسی نے بھی یہ سوچنے کی سمجھ نے کی کوشش نہیں کی کہ روزنہ بیسیوں لوگ چترال کے دور افتادہ گاؤں سے ہزاروں روپے خرچ کرکے اپنے پیاروں کو علاج کی عرض سے چترال لاتے ہیں انکا کیا بنے گا کس کے در پر وہ اپنے مریض لیکر جایں وہ تو اللّٰہ تعالیٰ کے بعد ان ڈاکٹروں سے امید لگائے میلوں سفر طے کرکے ان کے پاس شفایاب ہونے آتے ہیں ہسپتال سے تو لوگوں کی زندگیاں جوڑی ہوئی ہے نجانے کتنے لوگوں کے پیارے علاج نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رہے ہونگے کتنے لوگ اللّٰہ کو پیارے ہوئے ہونگے کتنے لوگ اس مہنگائی کے دور میں لوگوں سے ادھار لیکر آئے ہوئے ہونگے اور بغیر علاج کے واپس گئے ہونگے یا انکی پرایئوٹ کلینکس میں علاج کروانے پر مجبور ہوئے ہونگے مگر ہمارے ان تعلیم یافتہ ڈاکٹرز اور ڈسٹرکٹ اینڈ منسٹریشن کو اس کا احساس تک نہیں ہو رہا ۔انکی تعلیم صرف اپنی زات کی مفادات مراعات کے حصول کے لیے ہے اگر آپکے آپس میں مسلے ہے تو عدالت جائیں ڈیوٹی کے بعد انکی دفتر کے سامنے دھرنا دین یہ کہاں کا انصاف اور مہزب تعلیم یافتہ طبقے کا شیوہ ہے کہ وہ اپنی زاتی مسائل کے حل کے لیے لوگوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگائے اس لئے ان دونوں فریقین کو سوچنا چاہیے خاص طور ڈاکٹرز کو یہ ہڑتالیں زیب نہیں دیتے اسلئے انہیں ہڑتالوں کی بجائے قانونی راستے اختیار کرنے چاہیے اور دیگر تمام سرکاری ملازمین کو تعلیم یافتہ ہونے کا انسان دوست ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی زاتی مفادات اور حقوق کے حصول کے عوام کے حقوق کو سلب کرنے سے گریز کریں ۔