زندگی “کرداروں کے کشمکش” – تحریر: صوفی محمد اسلم
ڈرامہ ایک خاکہ ہوتا ہے جس میں ایک کہانی کی مناسبت سے اداکار اپنے کردار نبھاتے ہیں تاکہ حاضرین و ناظرین کو پرلطف انداز میں اپنے پیعام پہنچاسکے ۔ اگرچہ ڈرامہ حقیقت نہیں ہے مگر اس کی کہانی اور پیعام میں کہی نہ کہی حقیقت ضرور ہوتی ہے۔ جبکہ زندگی ایک حقیقت ہے جہاں انسان اپنے اپنے حصے کا کردار چن لیتے ہیں، کردار میں اپنے مرضی کے کارکردگی دکھاتے ہیں اور دوسروں کیلئے کہانی چھوڑ جاتے ہیں۔
ڈرامہ میں تین چیزیں لازم ہوتی ہیں کہانی، کردار اور اداکار۔ ان تین چیزوں سے ایک ڈرامہ تیار ہوتا ہے۔ صرف کہانی یا اداکار اچھے ہونے سے ڈرامہ بہترین ڈرامہ تصور نہیں ہوتا بلکہ سب اپنی جگہ معیاری ہونا ضروری ہے ۔ ڈرامہ میں ہر چیز کا ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ ڈرامائی کہانی میں ایک مرکزی کردار ہوتا ہے جس کے گرد یہ کہانی گھومتی رہتی ہے اور اسی مرکزی کردار کو آپ بدل نہیں سکتے اگر بدل دی جائے تو کہانی ہی مٹ جائے گی۔ اداکاروں کو اپنے حصے کا کردار کہانی کے مطابق نبھانا پڑتا ہے۔ آخر میں جو بھی انجام افسانہ نگار نے کہانی میں لکھا ہے وہی پہ ڈرامہ ختم ہوتا ہے۔
زندگی کوئی ڈرامہ نہیں بلکہ حالات اور کرداروں کا کشمکش ہے۔ یہ ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں، کھبی کردار حالات کو بہتر یا بدتر بنا دیتا ہے تو کھبی حالات کرداروں کو متاثر کر دیتی ہیں۔حالات سے مراد کوئی بھی حالات لیجئے چاہے قدرتی ،مصنوعی،مستقل یا عارضی ۔ سوسائٹی میں انسانوں کی زندگیاں ایک دوسرے سے جوڑی ہوئی ہوتی ہیں، کسی ایک کی کردار اور کارکردگی دوسرے کی کہانی کو متاثر کرسکتے ہیں ۔اپنے کردار اور کارکردگی سے اپنے اور دوسروں کے زندگیوں میں بہتری لایا جاسکتا ہے۔ اپنے کارکردگی سے اپنے گھر اور سوسائٹی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اپنی رہن سہن میں تبدیل لایا جاسکتا ہے ۔اسی طرح ہر کردار ایک کہانی بناتا ہے اور وہ اپنی کارکردگی سے اس کہانی میں بہتری بھی لا سکتا ہے، اسی کہانی کا چاہے ہیرو بنے یا ویلن یہ اس کے اختیارات میں شامل ہیں ۔ زندگی میں چند ہدایات اور اختیاطی تدابیر کے ساتھ انسانوں کو ہر قسم کے آزادی حاصل ہے۔
زندگی میں انسانی کردار کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اللہ تبارک و تعالی نے حالات اور وقت کے مناسبت سے رہنما اصول جاری کرتا رہا ہے اور مختلف ادوار میں اپنے رسول زمین پر مبعوث فرمایا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ انسانی وجود میں بھی بہت سے صلاحیتوں کو شامل فرمایا ہے جیسے سوچھنے سمجھتے کی طاقت، برائی اچھائی میں تمیز کرنے والا ضمیر، دیکھنے،سننے اور احساسات کو سمجھنے کی صلاحیت اور مشقت اٹھانے والا بدن ان سب کو بروئے کار لاتے ہوئے مختص کردہ دائرہ اختیار کے حدود میں اپنی زندگی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
خلاصہ مضمون یہ ہے کہ زندگی کرداروں اور حالات کے کشمکش کا ایک منظر کشی ہے یا زندگی ایک دھاگہ ہے جس میں انسان اپنی کارکردگی پروتے جاتے ہیں۔ ڈرامہ اور زندگی میں یہ فرق ہے کہ زندگی میں انسان کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی کہانی خود اپنی مرضی سے لکھ سکے اور ڈرامہ میں بنی بنائی کہانی اسے دیا جاتا ہے۔ انسان کو یہ صلاحیت دیا گیا ہے کہ وہ اپنی زندگی، ماحول اور حالات خود بہتر بناسکے۔ تو کیوں نہ ہم کوشش کرے اور قدرت کی طرف سے عطاء کردہ نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ اپنی کہانی اپنے ہی قلم سے لکھے اور ایسے قلم سے لکھ لے جسے مٹانے کی کوئی جرات نہ کرے۔ ہماری کہانی ہم سے بہتر کوئی نہیں لکھ سکتا ہے۔ یہ یاد رکھیں جب بھی کوئی کسی اور کی کہانی لکھی ہے انہیں غلام ہی لکھی ہی لکھی ہے۔انکے گلوں میں طوق غلامی ،انکے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پیروں میں بیڑیاں ہی پہنائے ہیں۔
اسلئے اب وقت ہے خود کو سبنھالنے کی اپنی کہانی خود لکھنے کی اگر یہ وقت بھی حسب معمول گزر گیا تو نہ ہم رہینگے نہ ہماری کہانی۔
وماعلینا الاالبلاغ