ریشن کے عوام گزشتہ ایک ہفتے سے سراپا احتجاج، مگر انتظامیہ کےساتھ منتخب نمائندگان بھی خاموش تماشائی
ریشن اپر چترال کے عوام پچھلے ایک ہفتے سے بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے سراپا احتجاج ہیں اور ان کا احتجاج حق بجانب ہے۔ لیکن یہ مسلہ صرف ریشن کا نہیں بلکہ اپر چترال کے ہر علاقے میں بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں نے لوگوں کی زندگی کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ کوہ، بونی، مستوج، اور تورکھو موڑکھو اور دیگر علاقوں کے عوام بھی اسی تکلیف سے گزر رہے ہیں۔ بجلی کے نرخ 4 روپے فی یونٹ سے بڑھ کر 28 روپے فی یونٹ تک پہنچ چکے ہیں، جو کہ ایک عام شہری کے لئے برداشت سے باہر ہے۔ اس صورتحال میں، جب سردیاں شدت اختیار کر رہی ہیں، ہیٹر اور گیزر جیسے بنیادی ضروریات کا استعمال بھی لوگوں کی پہنچ سے دور ہو گیا ہے۔
معاہدے کے باوجود اپر چترال اور کوہ کو گولن پاؤر ہاؤس سے مسلسل بجلی نہیں مل پا رہی ہے، اور اس کے بجائے نہ صرف لوڈ شیڈنگ بلکہ مہنگے بلوں کی صورت میں عوام کو مزید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس مسئلے کے حل میں تاخیر عوامی زندگی پر برے اثرات ڈال رہی ہے۔
محترمہ ثریا بی بی، محترم عبد اللطیف، محترم فتح الملک، اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت خصوصاً شاہزادہ افتخار الدین اور محترمہ غزالہ انجم کائی سے گزارش ہے کہ اپر چترال کے اس اہم مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ صرف ریشن کی سطح پر خصوصی ریلیف کے بجائے پورے اپر چترال اور لویر چترال کے لئے سستا سبسیڈایزڈ بجلی ، یکساں نرخ اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
اپر چترال کے لئے خصوصی طور پر بجلی کے نرخوں کو پرانی سطح یا کم از کم قابل برداشت سطح پر واپس لایا جائے۔ اسی طرح گولن پاؤر ہاؤس سے اپر چترال کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے۔ اپر چترال کے لئے مستقل بنیادوں پر بجلی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے منصوبے بنائے جائیں، جن میں نئے گرڈ اسٹیشنز کی تعمیر، ٹرانسمیشن لائنوں کی بہتری، اور بجلی کی فراہمی کے عمل میں شفافیت شامل ہو۔
نوید بن شاہ
ٹیک لشٹ بونی


