ریشن شادیر میں دریا کے کنارے حفاظتی پشتوں کی تعمیرکا معمہ، عوامی احتجاج کے بعد انتظامیہ کی طرف سے کل سے کام شروع کرنے کی ایک بار پھر یقین دہانی، مشینری پہنچادی گئی
اپر چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز) ریشن شادیر میں دریا کے کنارے حفاظتی پشتوں کی تعمیر کا کام کل سے باقاعدہ شروع کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ آج ریشن کے عمائدین کے ساتھ اپرچترال انتظامیہ کے ذمہ داروں کی کامیاب مذاکرات کے بعد کیا گیا، مذاکرات میں اے ڈی سی اپر چترال، اسسٹنٹ کمشنرمستوج، پی ٹی آئی ترجمان اپرچترال افگن رضا، خواتین ونگ اپر چترال کی صدر راشدہ ضیاء اور پاکستان تحریک انصاف تحصیل مستوج کے نائب صدر ابراہیم پناہ بھی موجود تھے۔ مقامی خواتین نے اپنے مسائل تفصیل سے بیان کیے، جنہیں نے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا فیصلہ کیا۔انتظامیہ اور پی ٹی آئی نمائندوں نے مقامی خواتین سے کامیاب مذاکرات کیے، جس کے نتیجے میں فوری طور پر مشینری پہنچا دی ہے اور انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
احتجاجی خواتین وحضرات کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ریشن میں منعقدہ میٹنگ میں ایک کمیٹی تشکیل دیدی گئی جو مذکورہ کام کی نگرانی کریگی، جبکہ محکمہ سوائل کنزرویشن کی طرف سے پشتے کی تعمیر کےلئے فنڈ مہیا کیاجائیگا، ریشن کے متاثرین پہلے چارسو فٹ پشتے کی تعمیر پر بضد تھے اج کامیاب مذاکرات کے بعد ایک سوفٹ پشتے کی تعمیر پر متفق ہوگئے۔
یادرہے کہ گزشتہ ہفتے ریشن کے متاثرین نے خواتین اور بچوں کے ہمراہ اپنی مدد آپ کے تحت احتجاج کرتے ہوئے پروٹیکشن وال کی تعمیر کا آغاز کر دیا تھا۔ ۔ جس کے نتیجے میں بات چیت کا عمل شروع ہوا اور عملی پیش رفت کی راہ ہموار ہوئی۔ افگن رضا نے متاثرین کے ساتھ روزانہ ملاقاتیں اور مذاکرات کیے، تاکہ مسئلے کا دیرپا اور مؤثر حل نکالا جا سکے۔
حکومتی اقدامات کے نتیجے میں پروٹیکشن وال کی تعمیر کے لیے مشینری پہنچا دی گئی ہے اور کل سے باقاعدہ کام کا آغاز ہوگا۔ ریشن کی خواتین نے اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائیگا اور مطالبات پر عملی قدم اٹھایا جائیگا،اور اس امید کااظہار کیاگیا کہ پہلے کی طرح سیاسی لولی پوپ دیکر ٹرخانے سے گریز کیا جائیگا۔





