ذرا سوچیے ۔ گلگت بلتستان کی سیر( قسط 1) ۔ تحریر: ہما حیات سید
پانچویں یا چھٹی اردو کی کتاب میں ایک سبق ہوا کرتا تھا جس میں سارا اور علی مردان چھٹیاں گزارنے کے لیے اتے تھے کہاں سے اتے تھے اور کس موسم میں اتے تھے یاد نہیں ارہا لیکن وہ جس مزے سے اپنی کہانی بتاتے تھے اور استانی صاحبہ جس انداز میں پڑھاتی تھی بچپن کا شوق بن گیا کہ بڑی ہو کر اس والے شعبے میں جانا ہے (شعبے کے انتخاب پر کسی اور دن لکھیں گے) اور ساتھ میں سیاحت بھی کرنی ہے تاکہ میں بھی اپنی کہانی کسی کو بتا سکوں.
خیر بڑی ہونے کے ساتھ جدوجہد اور ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں یہ بات بعد میں پتہ چلا اور ہم صرف جون ایلیا کی شعر؛
نوکری کر رہے ہو مدت سے
تم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟
کا اسٹیٹس ہی لگاتے رہ گئے.
بہرحال کسی دوسرے ملک سیاحت کا موقع تو ابھی تک نہیں ملا ہے لیکن
AKRSP نے EXPOSURE VISIT OF GOVERNMENT OFFICIAL AND CIVIL SOCIETY REPRESENTATIVES TO GILGIT BALTISTAN
کے ذریعے گلگت بلتستان جانے کا موقع ضرور دیا جس میں میں نے ایک نئے صوبے کا ہی نہیں بلکہ ایک نئی سوچ، نئی جدت، بھائی چارہ اور اپنے کمزوری کو کیسے اپنی طاقت بنانی ہے سب کا دورہ کیا۔ ویسے اس دورے کے بہت سارے مقاصد تھے لیکن جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے وہ کمیونٹیز کی طرف سے اپنائے گئے وہ طریقے ہیں جو ایک معاشرے کو اگے بڑھنے میں مددگار ثابت ہوئی ہیں۔ جن سے خواتین اور نوجوانوں کو اگے انے کا موقع ملا ہے لیکن یہاں میں دنگ رہ گئی کہ ہم جن تندرست وتوانا خواتین اور نوجوانوں کو اگے لے جانے کے لیے اتنے جتن کر رہے ہیں وہاں تو انہوں نے معذور افراد کو بھی پیچھے رہنے نہیں دیا ہے.
شندور پاس سے ہوتے ہوئے گلگت اور پھر اسکردو پہنچنے پر AKRSP کے RPM صاحب نے ہمارا استقبال کیا۔ گرم چائے کی پیالیوں کے ساتھ گول میز پر بیٹھ کر انہوں نے ہمیں AKRSP کے حوالے سے بتایا۔ علاقے میں جن ترقیاتی کاموں پر کام جاری ہے اس سے بھی اگاہ کیا۔ ان تمام پروجیکٹس کے بارے میں بھی تفصیلی بات ہوئی جو گلگت اور چترال میں ایک ساتھ شروع ہوئے تھے لیکن افسوس کے ساتھ وہ چترال میں اتنے کامیاب نہ ہوئے جتنا گلگت بلتستان میں ہوئے۔ یہ پروجیکٹس کیوں ناکام ہوئے؟ ان کی وجوہات کیا تھی؟ یہ معلوم کرنے کی ذمہ داری انہوں نے ایک اور چائے کے کپ کے ساتھ ہمیں دے دی. گلگت بلتستان میں ان پروجیکٹس کی کامیابی کا سوچ کر مجھے جس قدر جلن ہو رہی تھی وہ میرے خلق میں اترنے والے گرم چائے سے کئى زیادہ تھی۔
اس کے بعد وہ ہمیں مختلف جگہوں پر لیے گئے جہاں AKRSP نے کام شروع کیا تھا اور وہ اتنے کامیاب ہوئے کہ نہ صرف AKRSPبلکہ دوسرے فلاحی ادارے بھی اب ان میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ سب سے پہلے ہم نے KDF (KARAKORUM DISABILITY FORUM ) کا دورہ کیا۔ جب ہم اندر داخل ہوئے تو یہ کسی کا گھر معلوم ہو رہا تھا۔ ایک گھر، کشادہ چار دیواری کے ساتھ اور اس میں کئی کمرے۔ ہمیں بھی ایک کمرے میں بٹھایا گیا اور کلام پاک کی تلاوت کے بعد ادارے کے حوالے سے ہمیں اگاہی دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ معذور افراد کے لیے ہے جو کسی بھی طرح کی معذوری چاہے وہ جسمانی ہو یا ذہنی کے لیے کام کرتی ہے تاکہ وہ معاشرے کی ترقی میں اپنے ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے بہترین کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے کبھی بھی کسی کی معذوری کو اس کی کمزوری نہیں سمجھا ہے بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی فرد DISABLE نہیں ہوتا بلکہ وہ DIFFERENTLY ABLE ہوتا ہے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپ کسی چیز کو دیکھنے کے لیے اپنی انکھوں کا استعمال کرتے ہیں تو ایک نابینا شخص اپنی انگلیوں کی پوروں سے اسے اس طرح محسوس کر سکتا ہے جیسے وہ اسے دیکھ رہا ہو اور اس کے محسوس کرنے کی حس ایک بصیرت والے شخص سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ اسے DISABLE نہیں کہہ سکتے کیونکہ اگر اپ دیکھنے کے لیے اپنی انکھوں کا استعمال کرتے ہیں تو وہ دیکھنے کے لیے اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتا ہے۔ اسی صلاحیت کی بنیاد پر وہ لکھ بھی سکتا ہے اور پڑھ بھی سکتا ہے اس ادارے کو چلانے والے افراد بھی کسی نہ کسی طرح کی معذوری کا شکار ہیں لیکن پھر بھی وہ ایک تندرست ادارہ چلا رہے ہیں۔ یہ ادارہ معذور افراد کی تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع پر کام کرتی ہے۔ جب تعلیم کے حوالے سے ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان افراد کو خاص تعلیم دی جاتی ہے جس کے لیے انہوں نے 20 خواتین کو ٹریننگ دی ہے۔
ان کا نصاب اور تربیت ہر فرد کی معذوری کے مطابق ہوتا ہے۔چونکہ یہ ایک فلاحی ادارہ ہے تو اس میں نہ صرف AKRSP بلکہ ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ, HANDS PAKISTAN اور پاک ارمی بھی تعاون فراہم کرتی ہے. اس کے علاوہ علاقے کے با اثر شخصیات اور وہ لوگ جو شہر یا ملک سے باہر ہیں وہ بھی اپنی بساد کے مطابق مدد کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں نہ صرف معذور افراد بلکہ وہ بچیاں جو میٹرک کے بعد یا بارہویں کے بعد گھروں پر ہے ان کو بھی جدید ٹیکنالوجی جیسے فری لانسنگ،ایم ایس والڈ، ایکسل وغیرہ کا بھی ڈپلومہ کرایا جاتا ہے اور اس کے لیے پاک ارمی نے انہیں تیز ترین انٹرنیٹ بھی فراہم کیا ہے۔ ساتھ ہی دوسری خواتین جو پڑھ تو نہیں سکتی لیکن وہ رضاکارانہ طور پر اس ادارے میں موجود معذور بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ اس علاقے کا ہر شخص خواہ وہ علاقے سے باہر ہی کیوں نہ ہو، ہر تندرست و معذور شخص جو اس ادارے میں موجود ہے اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا رہا ہے۔
اب جب میں اس عمارت سے باہر نکل ائی اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی گھر نما عمارت نہیں تھی۔ وہ ایک مضبوط ادارہ تھا۔ جسے پوری ایمانداری اور جوش و جذبے کے ساتھ چلایا جا رہا تھا۔ وہ ایک ایسا ادارہ تھا جو اپنی کمزوری کو اپنی ہنر بنانا سکھاتی تھی۔ اگر ہمارے ہاں خدانخواستہ کوئی معذور ہو تو اول تو انہیں گھر کے کسی کونے میں بٹھایا جاتا ہے یا پھر وہ ہمت کر کے باہر بھی نکل ائیں تو انہیں ایسے القابات سے پکارا جاتا ہے کہ وہ دل شکست ہو کر خود گھر کے کسی کونے میں بیٹھ جاتے ہیں۔ لیکن یہاں اس چار دیواری میں ان کی ایسی تربیت کی جاتی ہے کہ وہ پر وقار طریقے سے معاشرے میں ایک خود مختار زندگی جی سکیں۔ گاڑی میں بیٹھ کر میں نے محسوس کیا کہ ان کی ترقی سے جو میرے اندر جلن تھی وہ کافی حد تک کم ہو چکی تھی اور میرے اندر ہمدردی جاگ چکی تھی ( جاری ہے…)
