The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

دینی جماعتوں کی اونٹوں کا کروٹ؟۔۔ تحریر: ظہیرالدین 

Chitral Times

دینی جماعتوں کی اونٹوں کا کروٹ؟۔۔ تحریر: ظہیرالدین 

دینی جماعتوں کی اونٹوں کا کروٹ؟۔۔ تحریر: ظہیرالدین 

دینی جماعتوں کی اونٹوں کا کروٹ؟۔۔ تحریر: ظہیرالدین

چترال میں اس وقت تمام سیاسی نگاہیں دینی جماعتوں کی اونٹوں کے کروٹ لینے کی سمتوں کا اندازہ لگا نے میں منہمک ہیں۔ اردو کہاوت ‘دیکھو اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے’  کا اطلاق آسانی کے ساتھ اس وقت چترال میں دینی جماعتوں، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے انتخابات کے نتائج پر بااسانی کیاجاسکتا ہے۔  جماعت اسلامی کے ارکان نے ووٹ ڈال دیا ہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام کی پولنگ 20 اکتوبر تک متوقع ہیں جوکہ لاہو رمیں جلسہ عام کی وجہ سے موخر کئے گئے تھے۔ جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کے انتخابی نتائج  چترال میں مستقبل کی سیاسی خدوخال کو شکل دینے کے لئے اہم ہیں جن پر تمام سیاسی حلقوں کی گہری نظر ہے۔ ضلع کی سطح پر یہ انٹرا پارٹی نتخابات اس لئے اہمیت کا حامل ہیں کہ آنے والے بلدیاتی انتخابات ہوں یا عام انتخابات، دونوں کے نتائج کا انحصار ان انتخابات کے نتائج پر ہے۔
جمعیت علمائے اسلام میں ضلعی امارت کے لئے  چار امیدوار اس وقت میدان میں ہیں جن میں سابق امیر اور ایم پی اے مولانا عبدالرحمن، سابق نائب ضلع ناظم مولانا عبدالشکور، معروف عالم دین قاری جمال عبدالناصراور مولانا عبدالسمیع آزاد شامل ہیں جوکہ سب کے سب پارٹی کے سینئر رہنما ہیں لیکن پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق آخری مرحلے میں قاری جمال عبدالناصر اور مولانا عبدالسمیع آزاد الیکشن سے ریٹائر ہوں گے اور میدان میں مولانا عبدالرحمن اور مولانا عبدالشکور رہ جائیں گے۔  مولانا عبدالرحمن کے ساتھ جنرل سیکرٹری شپ کے لئے حافظ انعام میمن اور مولانا عبدالشکو ر کے ساتھ سابق تحصیل ناظم مولانا محمد الیاس اس عہدے کے لئے امیدوار ہیں جوکہ پارٹی صفوں میں مقبول اور اثرو نفوذ رکھتے ہیں اور اپنے اپنے امارتی امیدوار کے لئے ووٹ حاصل کرنے میں برابر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پارٹی کے اندر باوثوق ذرائع کے مطابق اس وقت امارت کے امیدوار قاری جمال عبدالناصر اور مولانا عبدالسمیع آزاد دونوں مولانا عبدالرحمن کے حق میں دستبردار ہوں گے جس سے ان کی قوت میں زبردست اضافہ ہوگا جبکہ دوسری طرف مولانا عبدالشکور کے سپورٹروں میں شیخ الحدیث مولانا حسین احمد جیسی شخصیت شامل ہے جوکہ جماعت کے اندر بہت ہی معتبر اور قد آور شخصیت ہے اور سابق ضلعی امیر قاری عبدالرحمن قریشی کی حمایت بھی مولانا شکور کو حاصل ہے  جوکہ پارٹی کے اندر عزت واحترام کا مالک ہونے کے ساتھ اپنی حسن اخلاق کی وجہ سے ایک وسیع حلقہ احباب رکھتا ہے۔
جماعت اسلامی کی دستور کے مطابق اس کے کسی بھی سطح کی الیکشن میں نامزدگی نہیں ہوتی اور کوئی امیدوار لنگوٹی کس کر میدان میں نہیں اترتا بلکہ ارکان جماعت کو ضلعے کے تمام ارکان کی فہرست بیلٹ پیپیر کے ساتھ فراہم کیا جاتا ہے تاکہ وہ ان ارکان میں سے کسی کے بھی حق میں اپنا ووٹ استعمال کرسکتا ہے اور تمام ووٹرز امیدوار بھی ہوتے ہیں اور نتائج کے اعلان تک ‘ وہ سب امید سے ‘ہوتے ہیں۔ اس سب کے باوجود چند ارکان ہی نمایان ہوتے ہیں ن جن کے بارے میں کہا جاسکتاہے کہ ان ہی میں سے کوئی ایک  امیر منتخب ہوگا۔ لویر چترال میں اس وقت جماعتی ذرائع کے مطابقچار ارکان میں سے کوئی ایک امیر منتخب ہوگا جن میں  موجودہ امیر مولانا جمشید احمد  کے علاوہ سابق ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی، سابق ضلع ناظم مغفرت شاہ اور وجیہ الدین شامل ہیں۔ ٭اس وقت صورت حال یہ ہے کہ لویر اور اپر چترال کے اضلاع میں امرائے اضلاع کے لئے ووٹ کاسٹ ہوچکے ہیں اور اب نظریں منصورہ پر لگی ہیں جہاں امیرجماعت کی منظوری کے بعد صوبائی دفتر سے صوبے کے تمام اضلاع کی نتائج کا اعلان ایک ساتھ کیا جاتا ہے۔
اب واپس آتے ہیں ان دو جماعتوں کی انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کی چترال کی عمومی سیاست پر اثر پذیر ی کی طرف۔ یہ بات سال2001کے عام انتخابات سے جیومیٹر ی کے مسئلہ اثباتی کی طرح ثابت شدہ ہے کہ جب بھی جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے انتخابی اتحاد کیا ہے تو انہیں ناکامی نہیں ہوئی ہے۔ 2001ء کے عام انتخابات میں ایم ایم اے کے تینوں امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ2008 ء میں جماعت اسلامی نے بائیکاٹ کیا تو جے یو آئی ہار گئی جبکہ 2013ء  کے الیکشن میں جے یو آئی اورجماعت اسلامی ایک دوسرے کے مدمقابل میں آکر دونوں ہار بیٹھے  اور 2018ء   میں پھر ایم ایم اے کی پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ کر دونوں جیت گئے جبکہ بلدیاتی انتخابات میں بھی یہی صورت حال دیکھنے میں آئی جب  2015ء  میں مقامی سطح پر جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے درمیاں اتحاد ہوا تو پہلے مرحلے میں اس اتحاد کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی جب غیر منقسم چترال کے ضلع کونسل کی چوبیس جنرل نشستوں میں سے چودہ نشستیں اس اتحاد کے امیدواروں نے جیت کر دوسرے مرحلے میں ضلع میں حکومت بنائی اور دونوں تحصیل نظامت بھی ان کے ہاتھ آئی اور گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں جب یہ دونوں (دینی) جماعتیں الگ الگ الیکشن لڑ کے پی ٹی آئی کے سامنے خس وخاشاک کی طرح بہہ گئے جبکہ 2015ء میں ان کی اتحاد کے سامنے پی ٹی آئی نہیں ٹھہر سکی تھی۔ اُس وقت یعنی 2015ء میں جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے درمیان اتحاد کے وقت قاری عبدالرحمن قریشی اور مغفرت شاہ اپنی اپنی جماعتوں کے امراء تھے اور اس اتحاد میں انہیں مولانا عبدالشکور اور شیخ الحدیث مولانا حسین احمدکی حمایت حاصل تھی۔
اس وقت چترال کے سیاسی حلقوں کی نظریں لویر چترال میں ان دو جماعتوں کے امراء کے نتائج پر لگی ہوئی ہیں۔ تمام دوسری جماعتیں مغفرت شاہ اور مولانا عبدالشکور کے انتخاب سے خوف میں مبتلا ہیں کیونکہ اس صورت میں دینی جماعتوں کا اتحاد پھر میدان میں آکر دوسری جماعتوں کو ٹف ٹائم دینے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ اپر چترال میں جے یو آئی کے لئے مولانا یوسف پہلے ہی امیر منتخب ہوچکے ہیں جوکہ 2015ء میں تحصیل مستوج (غیر منقسم) کا ناظم رہ چکا ہے اور مغفرت شاہ کے ساتھ ان کی قریبی تعلقات وابستہ ہیں۔  اسی طرح لویر چترال میں مولانا جمشید احمد یا وجیہ الدین کا انتخاب ہونے کی صورت میں بھی ان جماعتوں کا انتخابی اتحاد مقامی سطح پر جے یو آئی کے ساتھ ہونا عین ممکن ہے کیونکہ ان دونوں کا مغفرت شاہ کے ساتھ قریبی روابط ہیں اور  جماعتی امور کے بارے میں تقریباً ایک جیسے نقطہ ہائے نظر رکھتے ہیں۔ مولانا چترالی صاحب کا جے یو آئی کے ساتھ کبھی قلبی لگاؤ نہیں رہا حالانکہ ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے وہ وہ دومرتبہ قومی اسمبلی کے فلور پر پہنچ چکے ہیں اور ان کا امیر ضلع منتخب ہونے کی صورت میں دینی جماعتوں کا اتحاد ممکن دیکھائی نہیں دے رہا جوکہ سخت گیر اور اصولی موقف رکھتے ہیں جس سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ اپر چترال میں امیر ضلع جو بھی منتخب ہوجائے، اس اتحاد پر مثبت اثر پڑے گا جہاں ریٹائرڈ پرنسپل عبدالکبیر، ریٹائرڈ اساتذہ اسد الرحمن (کوشٹ)، اکبر الدین (ریشن)  اور عنایت الرحمن (بونی) کا نام امارت کے لئے لیا جارہا ہے جبکہ موجود ہ امیر ضلع مولانا جاوید حسین علاقے میں مقبول عام لیڈر ہیں لیکن وہ شائد جماعتی دستور میں ترمیم کے تحت امیر نہ بننے پائے گا جس کے مطابق کوئی بھی رکن تواتر کے ساتھ دو سے ذیادہ مرتبہ امیر ضلع یا امیر صوبہ منتخب نہیں ہوسکے گا۔ اس کے باجود بھی اگر مولانا جاوید صاحب امیرمنتخب ہوتے ہیں تو اتحاد کے وہ بھی حامی ہیں جوکہ اپنی نرم مزاجی اور سیاسی تدبر کی وجہ سے جے یو آئی کے لئے  ذیادہ قابل قبول رہا ہے۔سیاسی حلقوں کے مطابق اگر جے یو آئی کے لئے مولانا عبدالرحمن اور جماعت اسلامی کی طرف سے مولانا چترالی امیر منتخب ہوتے ہیں تو یہ اتحاد کسی بھی صورت ممکن نہیں ہوگا۔ 2015ء کی بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مولانا عبدالرحمن اور ان کے قریبی حلقوں نے اس اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی لیکن قاری عبدالرحمن قریشی (اُس وقت کے امیر) چٹان کی طرح ڈٹے رہے اور بعض ذرائع کے مطابق آخری وقت میں مرکزی امیر کے حکم کو بھی پس پشت ڈال دیا تھا۔