دہ شت گردی کے اسباب اور نتائج ۔ تحریر: رحمت عزیز خان
چترال ٹائمز
ہم یہ سوچتے سوچتے ایک عمر بھید گئی کہ یہ دہ شت گرد کون ہیں اور کہاں سے اتے ہیں تو ایک دھندلا سا عکس نظروں کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ جیسا کہ بادل فضاء پر چھانے سے اندھیرا سا چھا جاتا ہے اور کچھ صاف طور پر دکھائی نہیں دیتا تھا۔ کبھی ہم سوچتے تھے کہ دہشتگردی کے زمہ دار بیرونی انتہا پسند تنظیمیں ہیں۔ کبھی ہم یہ شک کر رہے تھے کہ پاکستان میں دہشت پھیلانے کا زمہ دار بھارت ہے اور کبھی ہماری سوچ افغانستان کی طرف جاتی تھی کہ یہ سب کچھ بارڈر پاس سے دہشتگرد پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کشمکش کے عالم ایک عرصہ گزر گیا۔ اہستہ اہستہ بادل چھٹنے لگے اور ان بادلوں میں چھپی ہوئی عکس بھی دکھائی دینے لگی
عینک لگا کر دیکھنے سے پتہ چلا کہ اصل دہشتگردی کا کردار ہمارے اپنے لوگ ہیں جو پاکستانی پر امن عوام، اہم شخصیات، سکیوریٹی اداروں، فوجی تنصبات، سکول عبادت خانوں اور مدرسوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنا کر اپنی محرومیت کے بدلے میں مذموم مقاصد حاصل کر رہے ہیں۔ جو بیرونی دہشتگرد تنظیموں، پاکستان دشمن قوتوں کی تعاون اور کچھ اندرونی انتہا پسندوں کی حمایت سے دہشتگردی میں برسر پیکار ہیں۔ ملک کے اندر اور باہر بھی دہشتگرد تیار کرنے کے خفیہ سینٹرز ہوں گے جہاں محرومیت کے شکار زندگی سے مایوس لوگوں کو ٹرینینگ دے کر دہشت گرد بناتے ہیں۔ ان کو ہیاں تک برین واش کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی موت اور دوسرے لوگوں کو مرنے کےلئے تیار ہوتے ہیں۔ خودکش کو بٹن دبا کر بلاسٹ ہوتے ہی جنت فردوس میں داخلے کی ضمانت دی جاتی ہے۔ اس کام کےلئے نوجوانوں کو جو اٹھارہ سال سے تیس سال عمر کے درمیاں ہوتے ہیں۔
سبز باغ دکھا کر خودکش کےلئے تیار کرتے ہیں۔ ان کو یہ پتہ نہیں ہوتا ہے کہ دہشتگرد بٹن دبانے سےسیدھا جہنم میں چلا جاتا ہے۔ وہ دنیا کی مشقت زندگی سے چٹکارہ حاصل کرنے اور جنت فردوس کی نعمتوں کی لالچ میں خودکش جیکٹ پہن کر اپنے بڑوں کی ہدایت پر عمل کرکے اپنی اور انسانیت کی زندگی کو قتل کر دیتے ہی۔
یہ وہ انتہا پسند سوچ ہیں جو مجموعی طور پر خدادا پاکستان کے پر سکون ماحول کو نقصان پہنجا کر ترقی کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ان کی وجہ سے خوشحال ملک غربت، بد امنی، بیرونی قرضوں تلے ڈوب کر غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے۔ ملک میں ترقیاتی کام رکے ہوئے ہیں۔ بیرون ملک سے سرمایہ کار پاکستان کا رخ نہیں کرتے ہیں۔ یہاں کے مقامی سرمایہ کار اپنے کاروبار کو بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ہنر مند افراد ملک چھوڑ کر بیرون ملک روزگار کی تلاش میں جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ملک میں دہشت اور وخشت کی وجہ سے ہیں جو ملک دشمن عناصر دہشتگردی کو بنیاد بنا کر ملک کو کمزور کرنے اور اس کے اداروں کے درمیان ہم اہنگی کو توڑنے پر امدہ ہیں۔ جب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا پاکستان کمزور سے کمزور تر ہوتا جائے گا اور عالمی ملکوں میں ہمارے امیج کو مزید نقصان پہنچے گا۔ اس تناظر میں قانون سازی جامع منصوبہ بندی سے دہشتگرد سوچوں کو دانائی اور حکمت سے بدلنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ دہشتگرد تیار کرنے والے تنظیموں کو قانون کے شکنجے میں لا کر یا طاقت کے استعمال سے سخت سے سخت سزا دیے کر بیخ کنی کی ضرورت ہے۔ اگر طاقت کا استعمال کرنا ہو تو اس سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے تاکہ ائندہ کوئی دہشتگردی کا سوج بھی نہ سکے۔ ملک میں خوشحالی اور امن لوٹ کے آئے۔ جو لوگ محرومی سے مایوس ہوگئے ہیں ان کے ساتھ مذاکرات کرکے ان کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اخر یہ دہشت پھیلانے والے لوگ کون ہیں۔ یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں جو انتہا پسندی کو ملک میں پروان چڑھاتے ہیں۔ اس کی وجہ سابقہ نا اہل حکمران اور حکومتی نظام ہیں جو غلط پالیسیوں سے ملک کے لوگوں کو خوشحال اور یکجا رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ حکومت ریاست کو چلاتی ہے۔ اس کی زمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کے فلاح و بہبود کےلئے کام کرے۔ بنیادی سہولیات ملک کے ہر کونے میں شہری کے دہلیز پر پہنچائے۔ ملک میں خوشحال اور پر سکون معاشرے کو ترقی دے۔ ملک کی قومی امدنی کا منصفانہ تقسیم کرے۔ پاکستان کا ہر علاقہ ایک جیسی ترقی کرے۔ عوام پر کڑی نظر رکھے کہ کوئی ریاست کے خلاف منصوبہ سازی میں ملوث نہ ہو۔ جو شک و شبہات اور مایوسی کا اظہار کریں۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مسائل حل کرکے ان کو مطمین کرے۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑ کر تماشائی نہ بنے جس سے انتہا پسندی کو تقویت ملتی ہو۔
دہشتگردی سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں، غفلت نا اہلی ،دور اندیشی کا نہ ہونے، دیر پا ملک کے مفاد میں پالیسی سازی کا فقدان، ذاتی مفاد کو ملکی مفاد پر ترجیح دینے، اغیار کی انگلیوں پر ناچنے پسماندہ علاقوں کی ترقی پر توجہ نہ دینے، پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات قائم نہ کرنے کے ثمرات ہیں جس سے لوگوں میں محرومی اور مایوسی پھیلنے لگی۔ اس کے نتیجے میں دہشتگردی ملک میں اپناقدم جمانے لگی اور حالات یہاں تک پہنچے کہ یہی محروم اور مایوس افراد منظم تنظیم سازی کرکے انتہا پسندی کی چوٹی پر پہنچ گئے۔ نوبت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اپنے ساتھ بم باندھ کر خود بھی بلاسٹ ہو رہے ہیں اور دوسرے لوگوں کی جان بھی لیتے ہیں۔
دہشتگردی میں ملوث ملکی تنظیموں میں علحدہ پسند، مذہبی جنونی فرقے، سیاسی مخالفیں علاقائی متعصب ٹولے اور ذاتی مفاد پرست گروہ شامل ہیں جن کو بیرونی دہشتگرد تنظیموں اور پاکستان دشمن عناصر کی طرف سے ہدایات اور امداد مل رہے ہیں۔ جن کے بل بوتے پر ملک میں دہشتگردی کو ہوا دے رہے ہیں۔ ایک فرقے کو دوسرے سے لڑاتے ہیں۔فوج اور عوام کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو بھی اقتدار میں اتا ہے اس کو گرانے ایک صوبے کو دوسرے صوبے سے لڑانے مذہبی تصادم پیدا کرنے، پاکستان کی وحدت کو توڑنے،املاک کو نقصان پہنچانے، فوجی تنصبات کو نشانہ بنانے، مذہبی عبادت خانوں، مدرسوں سکولوں کو نقصان پہنچانے، علمائے کرام، سیاسی شخصیات سرکاری افیسرز، محافظ نوجوانوں،قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کا کردار ادا کرتے ہیں۔
اگرچہ بیرونی دشمنوں کا ہاتھ بھی پاکستان میں دہشتگردی کو پھیلانے کی طرف دراز ہے تو ان کا الہ کار بھی یہی لوگ ہیں۔ اگر ملک میں ایک دوسرے سے اتفاق اور ہم اہنگی ہو تو کیا مجال کہ کوئی بیرونی قوت ملک کے اندر پھوٹ ڈالنے اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو۔ جب تک ان کے سہولت کار اور الہ کار اپنوں میں موجود نہ ہوں۔
ان حالات پر قابو پانے کےلئے اب وقت پاکستانیوں سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ حکومت فوج اور عوام پاکستان کی بقا اور اپنے نسل کے خاطر متحد ہو کر دہشتگردی کے بیجوں کو نکال کر ان کی بیخ کنی کرکے ملک میں امن اور سکون کی فضاء قائم کرے۔ جہاں مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے۔ وہاں مذاکرات کے ذریعے ان کے موقف سننے کے بعد مسلے کا حل نکالا جائے اور جہاں طاقت کا استعمال نا گزیر ہے۔وہاں طاقت کا استعمال کیا جائے۔ طاقت کا استعمال ان مراکز اور خفیہ سینٹرز پر کرنا چاہئے جہاں ٹریننگ دے کر دہشتگرد پیدا کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ طاقت کے استعمال سے بہتر ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ان کے تحفظات کے پیش نظر مسائل کو حل کیا جائے اور ان کے مایوسیوں کا ازالہ ہو۔ پاکستان کے جس علاقے میں دہشتگرد پیدا ہوتے ہیں وہاں نوجوانوں کےلئے روز گار اور لوگوں کےلئے بنیادی ضرورتوں کو یقینی بنانے سے لوگ انتہا پسندانہ سوچ ترک کرکے دوبارہ با عزت اور پر امن زندگی کی طرف لوٹ ائیں گے۔ تو اس سے مستقبل میں دیرپا امن قائم ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پڑوسی ممالک کو دہشتگردی کے خلاف اپنی حمایت میں لے کر موثر اقدامات کیا جا سکتا ہے۔
ارض پاکستان ہمارے اسلاف کی بڑی جانی اور مالی قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے۔ اس کے بانیوں نے اس کا جو خواب دیکھے تھے وہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔ اس ملک پر ایک ایسا نظام مسلط کر دیا گیا جو اس ملک کے لوگوں کے لئے سود مند ثابت نہیں ہوئی۔ جو ایک حد تک ترقی کی راہ پر گامزن رہنے کے بعد تنزل کا شکار ہوا۔ طرح طرح کے مسائل سر اٹھانے لگے۔ ان کے حل کی طرف حکمران توجہ دینے کے بجائے اپنی عیاشیوں میں مصروف رہے۔ اقتدار کا نشہ ان کی انکھوں میں پردہ ڈال کر ملک اور عوام کے مفاد میں کام کرنے کے جذبے اور شوق کو ان سے چھین لیا۔ ان نا عاقبت اندیش حکمرانوں کی وجہ سے ملک اس نہج کو پہنچا کہ اب یہاں جان و مال اور ابرو بھی محفوظ نہیں۔
پاکستان ایک چمن ہے جس میں مختلف مذاہب، نسل، قبیلے اور زبان کے لوگ مختلف رنگ و بو کے پھول ہیں۔ سب کو اسی گلشن میں پرورش پانے اور پھلنے پھولنے کا حق حاصل ہے۔ ان پھولوں سے اسی چمن کی زینت اور رنگا رنگی ہے۔ یہ تنوع انسانی زندگی میں نکھار پیدا کرتی ہے۔ اور ہمیں سب ملکر اس گلشن سے چھبنے والے کانٹوں کو ہٹا کر قائد کے فرمودات اور اقبال کے تصورات کے مطابق اپنا چمن کو آباد رکھنا ہے۔ یہ چمن ہمارا ہے اس کے پاسبان ہیں ہم ۔نفرتوں اور اپس کے بعض کو مٹا کر ہمیں اور ہماری نسل کو امن اور محبت سے اس چمن میں رہنا ہے۔ اس چمن کو ابیاری کی زمہ داری حکومت کے پاس ہے۔ اگر وہ ہوش کی ناخن لیں۔ اپنی زمہ داریوں کا احساس کرکے اپنے اپ کو عوام اور خدا تعالی کے سامنے جوابدہ بنائے۔عوام کو انصاف اور بنیادی ضرورت کے ساتھ روزگار مہیا کرے تو ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔ اسی طرح دوسرے جرائم بھی غربت اور بیروزگاری سے جنم پاتے ہیں۔ اگر لوگ روزگار اورخوشحال ہوں گے تو ملک سے تمام جرائم ڈکیتی، چوری، خودکشی، اغوا برائے توان ،بچوں کی فروخت وغیرہ خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ پاکستان پائندہ باد