دھڑکنوں کی زبان – “اے سی صاحب کا امتحانی مرکز کا دورہ”- محمد جاوید حیات
جب سے ہم نے امتحان دینا شروع کیا پشاور بورڈاس نظام کا ذمہ دار تھا ۔۔ ہمارے زمانے میں “نقل ” نہیں ہوتی تھی صلاحیت اور محنت جانچی جاتی تھی ۔۔ہم سر ہلا ہلا کے رٹ لگاتے نصابی کتاب کے علاوہ اور کسی چیز کا پتہ نہ تھا استاذ کتاب پڑھاتا آگے کاپی لکھواتا ہمارا کل اثاثہ لکھی ہوٸی کاپی ہوتی تھی ۔۔امتحانی عملہ آسماں سے اتری ہوئی مخلوق لگتے ۔پھر ہم ٹیچر بن گئے ۔۔بورڈ کا وہ نظام اس معیار پہ نہیں رہا کہیں سے نقل کی لت آگی کہنے والے ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ اساتذہ کرام اسی نقل کے سہولت کار رہے اس لیے کہ ہر طبقہ فکر بال کی کھال نکالنے کے لیے استاذ کو أڑے ہاتھوں لیتا ہے ۔۔۔
وہ والد جو اپنے بچے کی کامیابی کی “ناجائزسفارش” کرتا ہے اس کو جرم نہیں سمجھتا اور استاذ کی طرف سے نقل دینے کو “تعاون” اور “مدد ” (gentle help) کہتا ہے پھر یہی والد استاذ کو سہولت کار بھی کہتا ہے ۔چترال میں ایک دور ایسا بھی آیا کہ امتحانی ڈیوٹی کے ارڈر مافیا گروپ میں تقسیم ہوتے ۔۔مافیا گروپ کی ہر سال ڈیوٹی لگتی ایک استاذ ساری سروس میں ایک بار بھی امتحانی ڈیوٹی نہ کر سکتا ایک استاذ ساری سروس امتحانی ڈیوٹی ہی کرتے گزارتا ۔امتحانی ہال اس مافیا کے ہاتھوں تباہ و برباد ہوجاتے پھر آئی ٹی کا دور آیا تو “لکی ڈرا ” متعارف ہوا ساتھ کیمپ ارڈر بھی چلتے رہے ۔۔میری تیس سال کی سروس میں” لکی ڈرا” میں ایک بار بھی نام نہ آیا اس سال پہلی اور آخری بار “لکی ڈرا “میں نام آیا تو قبول کرلیا گیا ۔۔۔
اس سال پشاور بورڈ نقل کی روک تھام کے لیے چیرمین بورڈ ،سیکریٹری بورڈ کنٹرولر امتحانات اور بورڈ کا سارا عملہ متحرک نظر آیا اس کا ایک ثبوت شاید” لکی ڈرا” ہی ہو کہ تیس سال بعد کسی کی قسمت ڈیوٹی کے حوالے سے جاگی ہو ۔۔پشاور بورڈ نے انتظامیہ کو مدد کے لیے پکارا پولیس کو متحرک کیا اساتذہ سے سپأس گزارہوا کہ نقل کی تباہی روکا جاۓ ۔اس حوالے سے انتظامیہ کی طرف سے اساتذہ کی تضحیک بھی سوشل میڈیا پہ آتے رہتے ہیں کہ کسی اے سی صاحب نے امتحانی سنٹر کا دورہ کیا اساتذہ کی کارکردگی سے مطمین نہیں ہوا ۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ سسٹم میں کمزوری کیوں آئی ہے کہ اساتذہ پہ اعتبار تک اٹھ گیا ہے اور اساتذہ بھی ایسے عمل کا مرتکب ہو رہے ہیں جن پر اس وجہ سے انگلی اٹھائی جاتی ہو ۔
کیا بورڈ کو کبھی یہ تجربہ کرنے کی زحمت نہیں ہوئی کہ فرئض کی انجام دیہی میں سنجیدہ اساتذہ کون ہیں اور مافیا کون ہیں ۔۔۔بورڈ کے اس سال کے اقدامات تعریف کےقابل ہیں کہ نقل کی روک تھام کیلئے سنجیدہ کوشش کی گٸی ہے ۔۔اگر بورڈ اساتذہ ہی کےحوالے سے سنجیدہ کوشش کرتا تو اساتذہ کی کارکردگی پہ انگلی اٹھائی نہ جاتی ۔۔۔گورنمنٹ ہائی سکول کشم کے امتحانی سنٹر میں ہفتہ 11 اپریل کو اسسٹنٹ کمشنر تورکھو موڑکھو عیسی صاحب کی تشریف أوری ہوئی ۔۔اے سی صاحب روایتی اے سی نہیں لگے ۔حلیم الطبع ،مطین ،سنجیدہ ،اپنے فرائض کی ادائیگی میں مخلص دوسروں کو احترام دینے والا ۔۔۔۔اچھا لگا کہ ایک نوجوان أفیسر کو یہ احساس ہے کہ دوسروں کے فرائض میں بےجا مداخلت سے بندہ خود بے معیار ہوجاتا ہے۔ان کو اس بات کا ادراک ہے کہ کمزوری کہاں ہے ان کو امتحانی ہال کے تقدس کا احساس ہے ان کو بچے کی عزت نفس کا احساس ہے ۔
عیسی صاحب کی سکولنگ دی لینگ لینڈ سکول چترال میں ہوئی وہ پرنسپل لینگ لینڈ کے چہیتے طلبا میں شامل تھے پھر اپنی گریجویشن مکمل کرنے کے بعد بھی اسی ادارے میں پڑھانے لگے اپنے شاگردوں اور پرنسپل کے مزید محبوب بن گئے پھر سیکٹریٹ پشاور میں ذمہ دار پوسٹ پہ گئےوہاں اپنی خداداد صلاحیت اور جان فشانی سے پی ایم ایس افیسر بن گئے ان کا پورا خاندان محنت کی علامت ہے ان کی بہن پروفیسر شمشاد پورے چترال کی بچیوں کے لیے ایک مثال ہیں کہ ان کی شادی کالج میں پڑھنے کے دروان ہوئی لیکن انہوں نے اپنے بچوں کو بھی سنبھالا کالج یونیورسٹی بھی پڑھی کمیشن پاس کرکےلکچرر بھی بن گئی اور آگے ایم فل سکالر بھی ہیں ۔۔۔
اے سی صاحب کو اس بات کا قلق تھا کہ امتحانی سنٹروں کا دورہ اور امتحان کی نگرانی ہمارا کام نہیں ہمارے اپنے کام ہیں وہ سراپا سوال تھے کہ پیارے پاکستان میں ہر ایک پہ اعتبار کیوں اٹھتا جارہا ہے ۔عوام کو حکمران پہ اعتبار نہیں باشندوں کو محافظوں پہ اعتبار نہیں گاہک دکاندار پہ اعتبار نہیں کرتا ۔مسافر ڈرائیور سے بے اعتبار ۔۔شاگرد استاذ سے مایوس ۔۔باپ بیٹے سے نالان ۔۔۔اے سی صاحب نے مجھےمخاطب کرکے کہا ۔۔۔سر ! میں آپ کے امتحان ہال میں ہوں میرے دفتر کے سامنے اگر 302کا مجرم میرے فیصلے کا انتظار کررہا ہو تو اس کے ساتھ ڈیل کون کرے گا ۔۔۔میں نے کہا عیسی خان ہم سب اس ملک کے مجرم ہیں۔۔۔اس سمے پروفیسر عالمزیب چیرمین پشاور بورڈ کی آواز کانوں سے ٹکرائی جو کسی امتحانی ہال میں بچوں سے فون میں مخاطب تھے۔۔ کہہ رہے تھے ۔۔۔بچے نقل نہ کرنا ۔۔اگر نقل نہ کرو گے بے شک ایک سال فیل ہوجاوگے لیکن اگر نقل کرو گے تو تمہاری پوری زندگی تباہ ہوجاۓ گی ۔۔۔
میرا دل پروفیسر کے لیے تڑپا کہ اگر بندہ خلوص سے کچھ کرنے پہ أجاۓ تو کرکے دیکھاتا ہے ۔۔۔اساتذہ کو چاہیۓ کہ پروفیسر عالمزیب کی أواز بن جائیں ۔۔۔بورڈ کو اپنی کارکردگی پر سوچنا ہوگا اور ایک معیار بنانا ہوگا کہ أئیندہ امتحالی ہال ایسے بن جائیں کہ کوئی اےسی صأحب بھی اس میں داخل ہوتے ہوۓ سہم جاۓ اس لیے کہ قوم کی پود اسی ہال سے پنپتی ہے اور اے سی صاحب بھی اسی ہال سے ہو گزرے ہیں ۔۔میانہ قد کے وجیہ صورت اے سی عیسی کو اپنی قوم کی فکر ہے نو نہالان قوم کے روشن مستقبل کا خواب دیکھ رہےہیں اور آگے اساتذہ کے مقام کا پاس لحاظ ہے ۔۔۔اس لیے اے سی صاحب اپنا لگا اور ان کے لیے بھی امتحالی ہال اجنبی نہ لگا ۔۔۔۔