دھڑکنوں کی زبان۔”چترالی ثقافت میں دوپٹے کا کردار ” ۔محمد جاوید حیات
اسلام سے پہلے عورت آزاد تھی ۔۔ناچ گانے سے لے کرننگے سر پھرنے تک آزادی تھی بلکہ کٸ ہزار سال آگے جایا جاۓ تو مشہور مصری شہزادی قلوپطرہ جس نے کئی شاہوں شہزادوں کو اپنے حسن کا دیوانہ بنایاتھا اپنے سیزر جیسے جنرل کو ٹاسک دی کہ شام فتح کرو میں تم سے شادی کروں گی وہ شام فتح نہ کر سکا مگر بے چارہ ٹنشن میں مرگی کا مریض بن گیا تاریخ کہتی ہے کہ یہی قلوپطرہ کوٸی چاند چہرہ والی نہیں تھیں چہرے مہرے پر جابجا داغ تھے مگر وہ اس وقت بیوٹی کریم بناتی تھی خالص مکھن اور گلاب کے پھول کی پھنکڑیاں ابالتی تھیں کریم بناتی تھی اس کے حسن کا یہ راز کسی کو معلوم نہ تھا یہ خاتون کی پوزیشن تھی اسلام آیاتو قران عظیم الشان میں حکم دیاگیا کہ اپنے گھروں میں قرار پکڑوں اور پہلے والی جاہلیت اختیار نہ کرو ۔۔۔سوال یہ ہے کہ قران نے پہلی والی عریانیت کو جاہلیت قرار دیا ۔ ۔پردے کو آگاہی اور علم قرار دیا ۔۔اسی کو ثقافت اور تہذیب کا درجہ دیا ۔۔
اب پھر سے جدید تعلیم کی بدولت بے پردگی اور عریانی “آگاہی” ہے اور “پردہ “جہالت ہے ۔۔ہم ماڈرن ہورہے ہیں سوال ہے کہ یہ تعلیم ہمیں آگاہی اورہنر دینے کی بجاۓ ہمارے اقدار(values) کو قتل نہیں کررہی ۔۔اس سوال کا جواب جدید تعلیم یافتوں کے پاس نہیں آیٸن باٸین شاٸین ضرور ہے ۔۔اسلام کے اصولوں میں اپنے اختیار کی کوٸی حیثیت نہیں اسلام میں لباس پر کوٸی قدغن نہیں مگر لباس کا مقصد پردہ ہے جس لباس سے پردے کا مقصدزاٸل ہوتا ہے وہ اسلامی لباس نہیں ۔۔چترال ایک ایسا خطہ رہا ہے کہ اس میں اسلام کے آنے کے بعد عین اسلامی کلچر ترقی کرگیا ۔۔خواتین اسلامی اصولوں کی پابندی اپنی تہذیب کے اندر کرتی ہیں ان میں پردہ بہت نمایان وصف ہے اگرچہ چترال کی خواتین محنتی (working women) ہیں اس کے باوجود اپنے مردوں کے ساتھ کھیتوں میں کام کرتی ہوٸی بھی کسی خاتون کو ننگا سرنہیں دیکھا جا سکتا ۔اپنے گھر کے اندر بھی اپنے دوپٹے کی اتنی حفاظت کرتی ہیں جتنی باہر جاتے ہوۓ کرتی ہیں ان کی روایتی برقعہ قبایا ان کے استعمال میں ہوتی یے ۔ابھی تک یہ پردہ چترالی عورت کی پہچان رہی ہے ۔آج کل جو عریانی آگئی ہے یہ یلغار لگتا ہے اور نہھلے پہ دہھلا جدید تعلیم یافتہ جوان جابجا اس کی حمایت کررہے ہیں ۔اس کو خاتون کی مرضی اور اس کے گھرانے کا کلچر کہتے ہیں ۔۔کہتے ہیں کہ وہ ایک ذمہ دار باپ کی تعلیم یافتہ میچور بیٹی ہے ۔۔
کہنے کی بات یہ ہے کہ اس کاخاندان اس کا باپ جو بھی ہےان کی سوچ جس طرح بھی ہے اس پرکلام نہیں کلام اس پر ہے کہ اس عریانی اور فحاشی کی گنجاٸش اسلام اور چترالی کلچر میں ہے کہ نہیں ہے جدید تعلیم اسلامی اور خالص چترالی ثقافت سے متصادم کیوں ہے ؟ ہم نےکالج یونیورسٹیوں میں بھی ایسی بچیوں کو دیکھا ہے جو مکمل پردے میں ہوتی ہیں ان کا تعلق کسی مذہبی جماعت یاخاندان سے ہوتا ہے وہ بڑے بڑے عہدوں پر ہوتی ہیں تب بھی ان کا پردہ ان کی زندگی میں کوٸی رکاوٹ نہیں ۔۔ماننے والی بات ہے کہ وقت کے تقاضے بدلے ہیں لیکن جس اسلام کو ہم مانتے ہیں اس کے زرین اصولوں کو ماننا پڑتاہے ۔اگر پردے کا حکم قران میں ہے تو پھر ہمیں (justification ) کا حق نہیں پہنچتا ۔۔۔ہمیں یا تو طوغا کرہا مانا پڑے گا یا صاف انکار کرنا پڑے گا ۔اب قران کے کسی صریح حکم سے انکار کی صورت میں کیا ہم داٸرہ اسلام میں شامل رہ سکتے ہیں یا باہر ہوتے ہیں
یہ بھی واضح ہے ۔چترال بہت تیزی سے ہمارے نوجوانوں کے ہاتھوں عریانی کی طرف جارہا ہے ۔ہم اپنی روایات کھوتے جارہے ہیں ۔۔ہمارے جو اقدار تھے وہ عین اسلامی تھے ان کی حیثیت ختم ہوتی جارہی ہے ۔دنیا کی ہرقوم اور تہذیب کے اندر عورت کا مقام اور عورت سے منسوب اقدار متعین ہیں عورت ان سے کبھی باغی نہیں ہوٸی ۔۔بغاوت اس وقت جنم لیتی ہے کہ بندہ اپنے اقدار چھوڑ کر بخوشی دوسروں کے اقدار اپناۓ۔۔۔ ہم فخر سے ایسا کر رہے ہیں ۔۔اگر ہماری کوٸی بچی یا بچہ پڑھنے کے لیے کسی دوسرے ملک پہنچتا ہے تو پہلے بچی کے سر سے دوپٹہ اور بچے کی شلوار قمیص بدلتی ہے ۔کیا یہ کلچر اور لباس تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔۔میں خود ہار چکا ہوں پہلے گھر میں عورت کے سر سے دوپٹا گرتا تو وہ گھر کے مردوں کے سامنے شرمندہ ہوتی اب ہم ان کو ننگا سر دیکھ کر شرمندہ ہوتے ہیں ان کو احساس تک نہیں ہوتا ۔۔دارالعلوم کے بچے بچیاں مکمل شرعی پردہ کرتے ہیں کیا وہ زندہ نہیں ہیں ۔۔۔کیا زندگی ان پر بوجھ ہے۔ کیا پردے میں ان کا دم گھٹتا ہے ۔سوال احساس کی ہے ۔
احساس کے انداز بدل جاتے ہیں ورنہ ۔۔۔۔۔انچل بھی اسی تار سے بنتا ہے کفن بھی ۔۔۔۔۔چترالی کلچر میں دوپٹے کی بڑی اہمیت ہے اس سے کسی کو انکار نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ چترالی عورت کی پہچان ہے یاں اگر کوٸی اس سے انکاری ہے تو ڈھنکے کی چوٹ پر کہدے کہ میں نے چترالیت اپنے سر سے اتار پھینکا یے ۔۔۔حدیث شریف ہے ۔۔۔اگر کسی کی حیا مرجاۓ تب اس کی مرضی ہے جو بھی کرے ۔اگر ہم اپنے آپ کو مسلمان کہنے پر مجبور ہیں تو ان حقیقتوں سے انکار نہیں کرنا چاہیے کہ اسلام کے متعین کردہ اصول ہماری اولین ترجیحات ہیں