The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

داد بیداد ۔ سرحدی گاوں کا سکول ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Chitral Times

داد بیداد ۔ سرحدی گاوں کا سکول ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ سرحدی گاوں کا سکول ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ سرحدی گاوں کا سکول ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

اخباری رپورٹر وں کا ایک وفد پا ک افغا ن سرحد پر واقع گاوں کا دورہ کر رہا ہے گاوں کے لو گ اس بات پر کا فی رنجیدہ ہیں کہ حکومت نے ان کے سرکاری سکول کو کسی سیٹھ سا ہو کار کے ہا تھ فروخت کرنے کی منظوری دی ہے گاوں والوں کا پہلا غم یہ ہے کہ سر حد پار دشمن کو اس سکول پر پا کستان کا قومی پر چم نظر آتا ہے تو وہ غصے سے لا ل پیلے ہو کر اپنے دانت چبا نے لگتا ہے اس سکول کو ہم حکومت پا کستان کی نشا نی سمجھ کر اپنے ملک اور اپنی حکومت پر فخر کر تے تھے یہ بھی نہ رہا تو ہمارے پاس کیا رہ جا ئے گا، صحا فیوں نے کہا سیٹھ سا ہو کار بچوں سے بھا ری فیس نہیں لے گا، بچوں اور بچیوں کی فیس والدین پر بوجھ نہیں ہو گی، بچوں اور بچیوں کو پبلک سکو لوں کی طرح معیا ری تعلیم ملے گی، تعلیم کی خا طر والدین اپنے گھر بار، گائے، بیل اور گھوڑے، گدھے بیج کر فیس برداشت کر لینگے مگر یہ بات لو گوں کی سمجھ میں نہیں آئی، جس کی سمجھ میں آگئی اُس نے پسند نہیں کیا،

ایک ستم ظریف نے کہا غریبوں کے ساتھ کھلا مذاق ہے ہم نے کہا فکر کی کوئی بات نہیں بعض اوقات غلط لو گوں کے اکسا نے پر حکومت غلط فیصلہ کر تی ہے اور پھر اپنا فیصلہ واپس لیتی ہے ابھی حال ہی میں حکومت نے سستے اشیائے صرف بیجنے والے یو ٹیلیٹی سٹوروں کو بند کر نے کا فیصلہ کیا لیکن عوام کی طرف سے حقیقت سامنے آنے کے بعد حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا سردست ہمیں ان حلقوں کو تلا ش کرنا چاہئیے جو حکو متوں کو اوٹ پٹانگ قسم کے مشورے دیتے ہیں، اور پیچھے کسی کونے کھدرے میں جا کر چھپ جا تے ہیں ایسے فیصلوں کے منفی نتا ئج حکومتیں اور بر سر اقتدار جما عتیں بھگت لیتی ہیں یہ کسی سرحدی گاوں تک محدود بات نہیں پشاور کے مضا فات میں پشتخرہ اور بڈ ھ بیر تک چکر لگا نے سے پتہ چلتا ہے کہ جہاں پا کستان کا سبز ہلا لی قومی پر چم لہرا تا ہے وہ سرکاری سکول ہی ہے یہ وہ عمارت ہے جس کے دروازے سے پا کستان اور قومی پر چم سے محبت کرنے والوں کے لئے کھلے ہوئے ہیں

اندرون شہر آجا ئیں تو ڈھکی سے لیکر گنج تک پا کستان کا پیارا پر چم سرکاری سکولوں پر ہی نظر آتا ہے شا ید کوئی ہے جس کو یہ پر چم اور اس کا نظا رہ اچھا نہیں لگتا ایک ہی جست میں سرکاری سکول سیٹھ سا ہو کار کے حوالے کر کے سارے ”پر چموں میں عظیم پر چم“ سے جا ن چھڑا نا چاہتا ہے، مشورہ شا ید مفت ہے اس لئے سر کار کو پسند آیا ہو گا ویسے خدا لگتی کہئیے تو سکولو ں کی نجکاری ایک اچھوتی تجویز ہے اس تجویز کا کوئی سر پیر نہیں، حکومت اپنے کاروباری اداروں کی نجکاری اُس وقت کر تی ہے جب یہ ادارے 30یا 40سالوں سے مسلسل خسارے میں جا رہے متبا دل پرو گرام نہ ہو، سکول، ڈاک خانہ اور ہسپتال کاروباری ادارے نہیں ہیں ان کا شمار لا زمی خد مات میں ہو تا ہے اپنے شہری کو شنا ختی کارڈ دینے کے ساتھ ہی ریا ست کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ مفت تعلیم کی سہو لت فراہم کرے شہری کے بچوں کو گھر کی دہلیز پر سرکاری سکول سے مفت تعلیم حا صل کرنے کے مواقع حا صل ہوں،

یہ بنیا دی ضرویات میں سے ایک اہم ضرورت ہے 2024میں ترقی یا فتہ دنیا کو چھوڑ کر ہمارے پڑو س میں واقع ہماری طرح پسماندہ، غریب اور ترقی پذیراقوام نے بھی شرح خواندگی میں ہم پر سبقت حا صل کی ہے یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ عوامی جمہوریہ چین میں شرح خواندگی 99فیصد، بھارت میں 77فیصد، ازبکستان میں 100فیصد ہے قابل ذکر بات یہ ہے کہ خا نہ جنگی سے متا ثر ملک سری لنکا میں بھی شرح خواندگی 88فیصد ہے جبکہ وطن عزیز پا کستان میں یہ شرح بمشکل 62فیصد کی شرح تک آگئی ہے ہمارے بڑے شہروں کے ساتھ چھوٹے قصبوں اور دیہات کے سرکاری سکول شرح خواندگی میں بنیا دی کر دار ادا کر تے ہیں یہ ہمارے سرکاری سکول ہیں جو معا شرے کے غریب اور نا دار طبقے کے بچوں اور بچیوں کو مفت تعلیم دیتے ہیں اگر یہ سکول کسی سیٹھ ساہو کار نے خرید لئے تو مفت تعلیم کا یہ نظا م ختم ہو جا ئے گا،

پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم صرف امیر اور دولت مند طبقہ برداشت کر سکتا ہے غریب طبقہ بر داشت نہیں کر سکتا، اقتصادی سروے اور مر دم شماری کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطا بق پا کستان میں غر بت کی شرح سال بہ سال بڑھ رہی ہے 1970میں 30%آبادی غر بت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی تھی 2024ء میں یہ شرح 47فیصد ہو گئی ہے وجہ یہ بتا ئی جا تی ہے کہ مڈل کلا س یا درمیانہ طبقے کا سفید پوش حلقہ غر بت کی لکیر کو کر اس کرتا جا رہا ہے اور کسی بھی ملک کے لئے یہ مشکل صورت حا ل ہو تی ہے ان حالات میں اُمید ہے حکومت اپنے فیصلے پر ضرور نظر ثا نی کرے گی، کم از کم سر حدی دیہات کے عوام کو ما یو س نہیں کریگی۔