داد بیداد ۔ اسوہ حسنہ اورعہد حا ضر۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی
مسلما نوں کے لئے اللہ تبارک و تعالیٰ کا حکم ہے کہ تمہارے لئے خا تم الانبیا ء محمد مصطفی ﷺ کی زند گی بہترین نمو نہ ہے اس نمو نے پر چلو گے تو اللہ کی رضا اور آخر ت کی کا میابی حا صل ہو گی شارحین نے لکھا ہے کہ دنیوی باد شا ہت، کامیا بی اور کا مرانی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا منطقی نتیجہ ہے اس لئے آ خر ت کے مقا بلے میں اس کا ذکر نہیں آیا اس کو اخفا میں رکھا گیا ہر سال 12ربیع الاول کو اسلا م اباد میں حکومت پا کستان قومی سیرت کا نفر نس کا اہتمام کر تی ہے عام تقا ریر، خطبات اور مقا لا ت کی طرح اس کا نفرنس میں بھی مسلمانوں کی 1400سالہ تاریخ دہرائی جا تی ہے جدید زما نے کے چیلینجوں کا ذکر نہیں ہو تا، عہد حا ضر کو سامنے رکھ کر مطا لعہ سیرت کی دعوت نہیں دی جا تی اور اسوہ حسنہ کی روشنی میں عہد حا ضر کے واضح اور نما یاں خطرات کا مقا بلہ کرنے کی حکمت عملی وضع کرنے پر تو جہ مر کوز نہیں کی جا تی
اس وقت امت مسلمہ کو پوری دنیا میں دو بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے پہلا چیلنج یہ ہے کہ دنیا کی 8ارب آبادی میں دو ارب مسلمان ہیں ان میں سے 80کروڑ کی مسلم آبادی غیر مسلم مما لک میں اقلیت کی حیثیت سے محکوم زند گی گذار رہی ہے جبکہ ایک ارب 20کروڑ مسلم آبادی ایسے مما لک میں رہتی ہے جن کے حکمران مسلمان ہیں اور جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، کسی کے محکوم نہیں مگر 57اسلا می مما لک میں سے ایک ملک بھی ایسا نہیں جہاں معیشت سود سے پا ک ہو، جہاں عام خوراک حرام سے مبرا اور پا ک ملتی ہو عوام پر کسی شخص حکومت کا ظلم و جبر نہ ہو اور جہاں مسلمانوں کو شریعت کے مطا بق زند گی بسر کرنے کی پوری آزادی ہو یہ بہت بڑا خطرہ اور چیلنج ہے ستم یہ ہے کہ اس چیلنج کا کسی کو بھی احساس نہیں علا مہ اقبال نے 100سال پہلے اس پر افسوس کا اظہار کیا تھا ”اے وائے نا کا می متاع کارواں جاتا رہا کارواں کے دل سے احساس زیاں جا تا رہا“ عہد حا ضر کا دوسرا چیلنج یہ ہے کہ جدید دنیا کو علوم و فنون کی تر قی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے موٹر، لا ری، بس، ریل سے لیکر ہوائی اور سمندری جہازتک حمل و نقل کے لئے ذرائع آئے، بجلی اور کمپیو ٹر کے ذریعے لا کھوں اقسام کی آسا نیاں اور سہو لتیں زندگی میں داخل ہو گئیں،
خلا ئی سائنس میں نئے علوم دریافت ہوئے، کمپیو ٹر نے مصنو عی ذہا نت کے نا م سے نیا جا دو ایجا د کر لیا ان تما م ایجا دات و احترا عات میں مسلما نوں کا حصہ صفر کے برابر ہے آنے والی صدیوں کے لئے بھی مسلمانوں کے پا س علوم و فنون میں آگے بڑھنے اور دیگر اقوام کا مقا بلہ کرنے کا کوئی ارادہ، پرو گرام یا منصو بہ نہیں ہے، مذکورہ بالا دونوں خطرات یا چیلنج ایسے ہیں جو ہمیں اسوہ حسنہ کی طرف خلو ص نیت اور خلو ص دل سے رجو ع کرنے کی دعوت دیتے ہیں اس پر باقاعدہ تحقیق کی ضرورت ہے کہ عہد حا ضر کے لئے اسوہ حسنہ کا پیغام کیا ہے؟ اور جو بھی پیغام ہے اس کو عملی طور پر اپنا کر دکھا نے کی حکمت عملی کیا ہو گی! مدنی زندگی کے دوسرے سال جنگ بدر کے مشرک اور کافر قیدیوں کا معا ملہ سامنے آیا، اسوہ حسنہ کی صورت میں جو نمو نہ سامنے آیا وہ یہ ہے کہ مشرکین اور کا فروں میں جو پڑھے لکھے قیدی ہیں وہ نا خواندہ مسلما نوں کو پڑھنا لکھنا سکھائیں گے تو ان کو آزاد کیا جا ئے گا
پہلی صدی ہجری میں جو علم پڑھنے لکھنے تک محدود تھا وہ علم پندر ھویں صدی ہجری میں سائنس اور ٹیکنا لو جی کہلا تا ہے یہ علم آج بھی یہو د و ہنود، مشرکین، ملحدین اور نصا ریٰ کے پا س ہے اسوہ حسنہ کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان غیر وں سے یہ علوم حا صل کر کے ترقی کی دوڑ میں دوسری اقوام سے آگے نکلنے کی کوشش کریں ہجرت کے پانجویں سال غزہ احزاب کا معرکہ پیش آیا اسوہ حسنہ یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ایران سے آئے ہوئے عجمی صحا بی سلمان فارسی ؓ کی تجویز پر خندق کھو د کر مدینہ کا دفاع کیا یہاں عرب و عجم کا فرق مٹا دیا مو جود ہ دور کے بے شمار فتنوں میں ایک فتنہ بغض، حسد، اور دشمنی کا فتنہ ہے جس نے امت مسلمہ کو متحا رب فرقوں میں تقسیم کر دیا ہے اسوہ حسنہ کا تقا ضا یہ ہے کہ ختم نبوت کے منکر ین کو چھوڑ کر باقی سب کے لئے رحمتہ العا لمین کی محبت کو عام کیا جائے نبی کریم ﷺ کی سنت صرف نکاح، مسواک اور خوشبو ہی نہیں عفو و در گذر بھی مستقل سنت ہے، نبی اکرم ﷺ نے اپنے خون کے پیا سوں پر جب قابو پا یا تو پہلی نظر میں ان کو معاف کر دیا، دل میں کسی کے لئے کدورت نہیں رکھا عہد حا ضر کے فتنوں کا مقا بلہ کرنے کے لئے خا تم الانبیاء ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں آج مسلما نوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے جو بغض و عداوت ہے اس کو اسوہ حسنہ پر اخلا ص کے ساتھ عمل کرتے ہوئے محبت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے
سلا م اس پر جس نے بیکسوں کی دست گیری کی
سلا م اس پر جس نے باد شا ہی میں فقیری کی