خیبر پختونخوا حکومت کا کالاش ویلیز سمیت سیاحتی علاقوں میں قوانین پر عملدرآمد سخت کرنے کا فیصلہ
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی ہدایت پر خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں پائیدار سیاحت کے فروغ اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے قوانین و قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کو سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت مختلف سیاحتی علاقوں کے لئے قائم ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے جائزہ اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں محکمہ سیاحت اور ڈیولپمنٹ اتھارثیز کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیاحتی مقامات کے لئے ماسٹر پلانز، لینڈ یوز پلان، بلڈنگ کنٹرول کوڈز اور اتھارٹیز کی کارکردگی کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ زیرِ جائزہ اتھارٹیز میں گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی، کاغان ڈیولپمنٹ اتھارٹی، کیلاش ڈیولپمنٹ اتھارٹی، کمراٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور اپر سوات ڈیولپمنٹ اتھارٹی شامل تھیں۔
اجلاس میں سیاحتی علاقوں میں ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کی سیوریج اور نکاسی آب سے متعلق قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں اور ماحول پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ماحولیاتی قوانین پر کسی صورت سمجھوتہ نہ کیا جائے۔غیر قانونی اور بے ترتیب تعمیرات کو روکنے کے لئے چیف سیکرٹری نے سوات، گلیات اور کمراٹ کے بعض علاقوں میں عمارتوں کی تعمیر کے لئے این او سی جاری کرنے پر عارضی پابندی عائد کرنے کا بھی حکم دیا۔چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے سیاحتی علاقوں میں ماحولیاتی معیار سے متعلق قوانین کے سخت نفاذ کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ سیاحتی علاقوں میں پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے لئے ماسٹر پلانز کی تیاری ناگزیر ہے تاکہ بے ہنگم تعمیرات سے بچا جا سکے۔
اجلاس میں سیاحتی مقامات کے لئے ماسٹر پلانز اور لینڈ یوز پلانز کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے، مانیٹرنگ کے نظام کو بہتر بنانے اور ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنیکا فیصلہ کیا گیا۔ اربن پالیسی یونٹ (یو پی یو) کو جدید تقاضوں کے مطابق ماسٹر پلاننگ اور لینڈ یوز پلاننگ کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی۔واضح رہے کہ کیلاش ڈیولپمنٹ اتھارٹی اپنا ماسٹر پلان مکمل کر چکی ہے جبکہ گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی صفائی اور نکاسی آب کے ضوابط پر عملدرآمد کے لئے اسٹیک ہولڈرز کانفرنس منعقد کرنے جا رہی ہے۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے ہدایت کی کہ سیاحت کے شعبے سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے اور ان کو آگاہ کیا جائے کہ حکومتی اقدامات سے سیاحتی مقامات پر کاروبار اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا جس کا فائدہ مقامی آبادی کو ہوگا۔
حکومت سیاحتی مقامات پر ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بناکر کاروبار اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ چیف سیکرٹری نے ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کی مالی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا اور زور دیا کہ سیاحت کے فروغ سے مقامی آبادی کو معاشی فائدہ پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے اتھارٹیز کی کارکردگی جانچنے کے لیے ہر ماہ جائزہ اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کی۔
