خیبر پختونخوا حکومت کا پرائمری سطح کے سرکاری اسکولوں میں “اسکول کھانہ پروگرام” شروع کرنے کا اصولی فیصلہ
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) خیبر پختونخوا حکومت نے ایک اہم فلاحی اقدام کے طور پر پرائمری سطح کے سرکاری اسکولوں میں “اسکول کھانہ پروگرام” شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے شہری علاقوں کے پرائمری اسکولوں میں بچوں کو مفت کھانا فراہم کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ پیر کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت ایک اجلاس میں کیا گیا۔ صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم فیصل خان ترکئی، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم، ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی سید امتیاز حسین شاہ اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام کے علاوہ نجی فلاحی تنظیم اللہ والے ٹرسٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہد لون اور دیگر عملے نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں طے پایا کہ ابتدائی طور پر ایبٹ آباد اور سوات میں بطور پائلٹ پراجیکٹ پروگرام کا آغاز کیا جائے گا جسے بعد میں صوبے کے دیگر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک توسیع دی جائے گی۔
مجوزہ پروگرام کے تحت کم و بیش 70 ہزار بچوں کو روزانہ مفت اور معیاری کھانا فراہم کیا جائے گا۔ پروگرام پر سالانہ 50 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ مزید طے پایا کہ مجوزہ پروگرام پر عملدرآمد کےلئے محکمہ سماجی بہبود اور مذکورہ نجی فلاحی تنظیم کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے جائیں گے۔ اجلاس میں پروگرام پر عملدرآمد کے سلسلے میں پیشرفت کےلئے محکمہ تعلیم اور سماجی بہبود کے حکام پر مشتمل کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا جو اس سلسلے میں تمام جزئیات کو حتمی شکل دے کر حتمی منظوری کےلئے صوبائی کابینہ کو پیش کرے گی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ مجوزہ پروگرام موجود صوبائی حکومت کا ایک اور اہم فلاحی اقدام ہے، پروگرام کے تحت سرکاری اسکولوں کے بچوں کو مفت اور معیاری کھانا فراہم کیا جائے گا، اس اقدام سے سرکاری اسکولوں میں انرولمنٹ کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی اور صوبائی حکومت اس مقصد کےلئے ترجیحی بنیادوں پر فنڈز فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں پر زیادہ سے زیادہ وسائل خرچ کرنا عمران خان اور پی ٹی آئی کے وژن کا حصہ ہے اور موجودہ صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق اس طرح کے مزید فلاحی منصوبے بھی شروع کرے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ مجوزہ پروگرام پر عملدرآمد کے سلسلے میں عملی پیشرفت کے لئے لائحہ عمل کو جلد سے جلد حتمی شکل دیں۔
وفاقی حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی پر پابندی کے لئے کاروائی شروع کرنے کا فیصلے مضحکہ خیزہےجبکہ موجودہ وفاقی حکومت مینڈیٹ چور ہے اور جعلی طریقے سے اقتدار پر قابض ہے۔وزیراعلیٰ
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے وفاقی حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی پر پابندی کے لئے کاروائی شروع کرنے کے فیصلے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت مینڈیٹ چور ہے اور جعلی طریقے سے اقتدار پر قابض ہے، اور کیا فارم 47 کی بنیاد پر بنی یہ جعلی حکومت پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرے گی۔ مذکورہ فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سردار علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کا فیصلہ جعلی حکومت کی ایک نامکمن خواہش سے زیادہ کچھ نہیں، مینڈیٹ چور حکومت سیاسی میدان میں عمران خان اور پی ٹی آئی کا کسی صورت مقابلہ نہیں کر سکتی اس لئے ہواس باختہ ہو کر اس طرح کی خواہشات کا اظہار کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام تر فسطائیت اور ہر قسم کے حربے استعمال کرنے کی باوجود مینڈیٹ چور حکومت کو ہر میدان میں منہ کی کھانی پڑھ رہی ہے،
یہ ملک 25 کروڑ عوام کا ہے کسی کے باپ کا نہیں جو دل میں آئے فیصلہ کرے۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ مخصوص نشتوں پر فیصلہ سپریم کورٹ نے آئین کے مطابق کیا ہے ان کو اسی فیصلے پر تکلیف ہو رہی ہے اور اس ٹولے نے کھبی عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کیا، ماضی میں سپریم کورٹ پر حملے کا دھبہ بھی اس ٹولے کے چہرے پر لگا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ الیکشن ٹریبونل اور مستقبل میں آنے والے فیصلوں سے ان کا دھڑن تختہ ہوجائے گا، مینڈیٹ چور سرکار کو اپنی شکست واضح نظر آرہی ہے، جعلی حکومت کو اپنا خاتمہ نظر آرہاہے اسلئے بوکھلاہٹ میں احمقانہ بیانات دیے جارہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہم نے پہلے بھی ان کا مقابلہ کیا ہے، یہ جو بھی کریں ہم ان کا بھر پور مقابلہ کریں گے۔