خیبرپختونخوا حکومت نے ترقیاتی فنڈز 144ارب روپے کے بجائے 148 ارب ریلیز کیے ہیں، مجموعی ریلیز 103 فیصد اور اخراجات 86 فیصد ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا
وفاقی حکومت کی جانب سے کم فنڈز ریلیز کا ملبہ خیبرپختونخوا پر نہ ڈالا جائے، مخالفین خیبرپختونخوا کی شاندار مالی کارکردگی سے خوفزدہ ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) مشیر خزانہ مزمل اسلم کا خیبرپختونخوا کی ترقیاتی فنڈز ریلیز اور اخراجات بارے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے پچھلے بجٹ میں 144 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کیے تھے جس میں 144ارب روپے کی بجائے 148 ارب روپے کی ریلیز ہوئی ہے اسی طرح صوبائی فنڈز کی مجموعی ریلیز 103 فیصد بنتی ہے اور اخراجات 86 فیصد ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اس کے
برعکس وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کیلئے 272 ارب روپے مختص کیے تھے جس میں وفاقی حکومت نے صرف 131 ارب روپے جاری کیے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی اور فارن فنڈنگ ریلیز تقریباً 48 فیصد بنتی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کم فنڈز ریلیز کا ملبہ خیبرپختونخوا پر نہ ڈالا جائے۔انہوں نے کہا کہ مخالفین خیبرپختونخوا کی شاندار مالی کارکردگی سے خوفزدہ ہیں۔
بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا وفاق سے ضم اضلاع کے 350 ارب روپے کے واجب الادا فنڈز فوری طور پر خیبر پختونخوا کو منتقل کرنے کا مطالبہ
پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) وزیراعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفاقی حکومت سے فوری مطالبہ کیا ہے کہ مالی سال 2024-25 کے دوران ضم شدہ اضلاع کے لیے این ایف سی ایوارڈ کے تحت مختص 350 ارب روپے کے فنڈز فوری طور پر خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں۔اپنے دفتر سے جاری بیان میں بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ وفاق کی جانب سے ضم شدہ اضلاع کے لیے 350 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی تھی، تاہم گزشتہ 10 ماہ کے دوران صوبے کو صرف 83 ارب روپے موصول ہوئے ہیں۔ یوں اب بھی 267 ارب روپے واجب الادا ہیں، جن کی ادائیگی میں وفاق مسلسل تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ وفاق کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی ضم شدہ اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ یہ فنڈز صرف مالی امداد نہیں بلکہ ان اضلاع کے عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی تکمیل ہیں۔ ضم شدہ اضلاع کی ترقی اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،
بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام ایک تاریخی فیصلہ تھا جس کا بنیادی مقصد ان علاقوں کو قومی دھارے میں لانا اور ان کی محرومیوں کا ازالہ کرنا تھا، لیکن بدقسمتی سے وفاق کی غیر سنجیدگی اس اہم قومی عمل کو نقصان پہنچا رہی ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ فنڈز کی عدم فراہمی نہ صرف ترقیاتی عمل کو روکے ہوئے ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کو بھی شدید دھچکا لگا رہی ہے۔ ضم شدہ اضلاع کے فنڈز روکنے کا مطلب دہشت گردی کو فروغ دینا ہے، کیونکہ ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبے شروع کیے بغیر شدت پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں،انہوں نے مطالبہ کیا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ضم شدہ اضلاع کے تمام واجب الادا فنڈز فوری طور پر خیبر پختونخوا کو منتقل کیے جائیں تاکہ ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل ہو سکیں اور عوام کو ان کے جائز حقوق دیے جا سکیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ انضمام کا مقصد قبائلی اضلاع صوبے کے دوسرے اضلاع کے برابر لانا تھا تاہم وفاقی حکومت کی غیر سنجیدگی کیوجہ سے ضم اضلاع تاحال محرومیوں کے شکار ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر وفاقی حکومت دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے تو فوری طور پر ضم اضلاع کے فنڈز منتقل کریں تاکہ وہاں ترقی کا عمل تیز کیا جاسکیں اور ضم اضلاع کے تمام محرومیوں کا ازالہ کیا جاسکے۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ وفاق خیبر پختونخوا اور خاص کر ضم اضلاع کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کرے۔
۔۔۔۔۔۔
