جنگلات اور جنگلی حیات کو ہیٹ ویو سے بچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پرخصوصی اقدامات کی ہدایت
پشاور(چترال ٹایمزرپورٹ)وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے میں گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافے کی پیشنگوئی کے پیش نظر تمام متعلقہ محکموں اور ضلعی انتظامیہ کو ہر لحاظ سے الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام پیشگی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کو خصوصی ہدایت کی ہے کہ گرمی کی شدت میں متوقع اضافے کے نتیجے میں پہاڑوں میں برف پگھلنے کے باعث ممکنہ سیلابی صورتحال اور دیگر قدرتی آفات کی صورت میں جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کرنے اور امدادی سرگرمیوں کو بروقت شروع کرنے کے لئے تمام تیاریاں مکمل کی جائیں جبکہ ایمرجنسی آپریشن سنٹر کو 24 گھنٹے مکمل طور پر فعال رکھا جائے۔ انہوں محکمہ صحت کو بھی ہیٹ اسٹروک اور دیگر حادثاتی واقعات کے متاثرین کو بروقت طبی امداد کی فراہمی کے سلسلے میں طبی مراکز میں عملے کی موجودگی اور ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ اسی طرح وزیر اعلی نے محکمہ سیاحت اور ضلعی انتظامیہ کو صوبے کے سیاحتی مقامات میں سیاحوں کو ہر قسم کی سہولیات کی فراہمی اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انہیں درکار امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے بھی بروقت کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے محکمہ اطلاعات کو گرمی کی لہر میں متوقع اضافے کی وجہ سے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں احتیاطی تدابیر اپنانے کے سلسلے میں عوام الناس کو آگہی دینے کے لئے بڑے پیمانے پر آگہی مہم چلانے کی بھی ہدایت کی ہے۔
دریں اثنا محکمہ جنگلات ماحولیات و جنگلی حیات خیبر پختونخوا نے ملک بھر و خصوصی طور پر صوبہ خیبر پختونخوا میں شدید گرمی کی لہر کے پیش نظر جنگلات اور جنگلی حیات سے متعلق الگ الگ ایڈوائزری جاری کر دیئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور خیبرپختونخوا حکومت نے اتوار 8 مئی 2022 سے ایک ہفتے کے لیے شدید ہیٹ ویو کے حالات کے بارے میں ایڈوائزری جاری کی ہے جس پر محکمہ جنگلات خیبر پختونخوا نے اس عرصے کے لیے خصوصی اقدامات کی ہدایات کی ہیں ۔اعلامیوں کے مطابق ایڈوائزری پر عمل درآمدکے لیے ہر متعلقہ کنزرویٹر اور ڈویژنل فارسٹ آفیسر اور محکمہ وائلڈ لائف کے افسران جنگلات، نرسریز، نیشنل پارکس، پشاور چڑیا گھر اور دیگر چڑیا گھر، فیزانٹریز، وائلڈ لائف پارکس وغیرہ کے لئےذاتی طور پر ذمہ دار ہوں گے۔
محکمہ جنگلات کے افسران کو فیلڈعملے کو ٹوپیوں اور لیموں و نمک ملاپانی کی بوتلیں اپنے پاس رکھنے اور اپنے سروں کو بھیگے ہوئے کپڑے سے ڈھانپنے، ڈھیلے کپڑے پہننے، باقاعدگی سے پانی پینے اور جہاں بھی ممکن ہو سورج کی روشنی میں براہ راست نمائش سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے۔قریب ترین مراکز صحت کی نشاندہی اور ہیٹ اسٹروک/ڈی ہائیڈریشن کے لیے ضروری مدد کے ساتھ ابتدائی طبی امدادی کٹ کی فراہمی اصل تعیناتی کی جگہ کے جتنا ممکن ہو کا انتظام کیا جائے۔پودوں کی نرم جڑوں کے نظام کو پہنچنے والے نقصانات سے بچانے کے لیے، پانی دینے کے عمل کو صبح سویرے یا پھر شام کے اوقات میں مناسب پانی دینے کاشیڈول بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔پودوں کی پرجاتیوں کے مطابق پانی دینے کی ترجیح – جن کو زیادہ پانی کی ضرورت ہو جیسے سجاوٹی پودے وغیرہ، ترجیح دی جا ئے جبکہ ناقص / لیک ہونے والے پانی کے باؤزر اور پائپ وغیرہ کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کی جائے۔پودے لگانے اور نرسریوں کے انچارج پانی پلانے کے آپریشن کی نگرانی اور پانی کی ضروریات کا اندازہ لگانے کے لیے ہر وقت عملے کی موجودگی کو یقینی بنائیں۔جہاں ضرورت ہو، عارضی طور پر اضافی چوکیداروں کی خدمات حاصل کی جائیں۔جون کے آخری ہفتے تک پودے لگانے والے علاقے میں بیج بونے سے گریز کرنے کی بھی ہدایات دی گئی ہیں۔نرسریوں کے لیے سایہ خاص طور پر چیڑ کے پودوں (سبز نائلون کی چادریں یا مقامی طور پر شاخوں کا سایہ یا بانس کی چھک) کا انتظام کیا جائے۔نرسریوں میں بیجوں کی ٹیوب شفٹنگ کو فوری طور پر روکا جا ئےاور جہاں ممکن ہو سایہ فراہم کرنے کا بدوبست کیا جائے۔
اسی طرح جنگلی حیات عملے کو جانوروں اور پرندوں کو تازہ پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر دو بار (صبح اور دوپہر) متعلقہ پانی کے تالابوں/ ٹبوں/ برتنوں میں پینے کے پانی کی باقاعدگی سے تبدیلی کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دیئے گئے ہیں۔چڑیا گھر میں برڈ ایویری میں فراہم کردہ پانی کے چشمے کو فعال رکھیں تاکہ پرندے نہا سکیں اور خود کو گیلا کر سکیں۔فوری طور پر، جہاں ضرورت ہو، گھاس کے مواد اور سبز چادروں کا استعمال کرتے ہوئے اوپر اور اطراف میں پناہ کے ساتھ پنجرے فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے۔ پنجروں میں پانی کا چھڑکاؤ کو یقینی بنایا جائے تاکہ پرندوں اور جانوروں پر ٹھنڈا اثر پڑے اورچڑیا گھر میں ٹھنڈک کے مقاصد کے لیے جانوروں کے گھروں اور پناہ گاہوں میں پنکھے اور کولر لگائیں۔گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے بیماری کی صورت میں دوائیں پانی میں ملا کر دیں۔مخصوص جانوروں کو کھانے اور ان کے جسم کی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے رسیلی خوراک جیسے پھل فراہم کریں۔کشیدگی سے بچنے کے لیے گرمی کی لہر یا شدید موسم کے دوران کسی بھی جانور یا پرندے کو منتقل نہیں کیا جائے گا۔محکمہ وائلڈ لائف پنجروں اور سہولیات میں کام کرنے والے عملے کو دھوپ سے بچنےکے لئے ٹوپیاں فراہم کریں۔ عملے کے پاس فیلڈ ڈیوٹی میں استعمال کے لیے پانی کی بوتلیں فراہم کی جائے اور ۔مختلف مقامات پر واٹر پوائنٹس کے ذریعے زائرین اور عملہ دونوں کو ٹھنڈے پانی کی سہولت کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔محکمہ وائلڈ لائف زائرین کو سہولیات میں سایہ دار جگہ پر بیٹھنے کا انتظام کریں اور زائرین بلخصوص فیملی و بچوںکو مطلع کیا جائے کہ وہ صبح یا شام کے اوقات میں سہولیات کا دورہ کریں تاکہ گرمی کے دباؤ سے بچ سکیں۔
ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، فیلڈ سٹاف، پولیس کے ساتھ کوآرڈینیشن کو مضبوط بنانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ کنزرویٹرز اور ڈویژنل فارسٹ آفیسرز اور محکمہ جنگلی حیات کے افسران کو ان 7 دنوں کے دوران ہینڈ آن مانیٹرنگ اور مینجمنٹ کے لیے فیلڈ میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
