جماعت اسلامی کا حکومت سازی کیلیے پی ٹی آئی کیساتھ تعاون سے انکار
لاہور( چترال ٹائمزرپورٹ)جماعت اسلامی نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے لیے تعاون سے انکار کر دیا۔ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف کے مطابق جماعت اسلامی کی پی ٹی آئی سے اتحاد کے حوالے سے ابتدائی مشاورت مکمل ہوگئی۔ جماعت اسلامی نے طے کیا تھا کہ قومی سطح پر تحریک انصاف سے اشتراک عمل قومی مفاد میں ہوگا لیکن تحریک انصاف نے اپنے مؤقف کو تبدیل کیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پی میں بھی جس سے چاہیں اپنے معاملات طے کر لیں جماعت اسلامی کو خوشی ہوگی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی سے اتحاد نہیں کرے گی، پی ٹی آئی کے ساتھ قومی اور صوبائی سطح پر ایڈجسٹمنٹ کی بات ہوئی تھی صرف ایک صوبے میں اشتراک نہیں کر سکتے۔جماعت اسلامی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 8فروری 2024ء کے انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے قائدین نے جماعت اسلامی سے رابطہ کیا کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نئی صورت حال میں مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کرے۔
اس کے فوری بعد امیر جماعت اسلامی پاکستان نے مرکزی قیادت اور ذمہ داران کے ساتھ مشاورت کی اور لیاقت بلوچ کی سربراہی میں پروفیسر محمد ابراہیم صاحب امیر جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا اور عنایت اللہ خان صاحب نائب امیر صوبہ خیبر پختونخوا پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کمیٹی ارکان کا تحریک انصاف کے قائدین بیرسٹرگوہر خان چیئرمین پی ٹی آئی، علی امین گنڈا پور، عمر ایوب خان اور محمد اعظم خان سواتی سے رابطہ ہوا اور ملکی انتخابی صورت حال پر تبادلہ خیال ہوا۔بیا نکے مطابق جماعت اسلامی کی طرف سے تحریک انصاف کی قیادت کو آگاہ کر دیا گیا کہ جماعت اسلامی کے انتخابات 2024ء پر بڑے تحفظات ہیں۔ انتخابی نتائج کی تبدیلی اور زور زبردستی، سینہ زوری سے نتائج کو پلٹنا مکروہ اور جمہوریت کے لیے سیاہ گھناؤنا کھیل ہے جس کا نقصان ملک اور جمہوریت کو ہوگا۔ تاہم جماعت اسلامی عوامی مینڈیٹ سے جیتنے والے ممبران اسمبلی کا خیرمقدم کرتی ہے۔ تحریک انصاف کو اپنے آزاد اْمیدواران اور جو اْن کی حمایت سے جیتے ہیں انہیں پارٹی، آئینی، پارلیمانی تحفظ، عوامی مینڈیٹ کے احترام، پی ٹی آئی کے کارکنان کی مشکل حالات میں ثابت قدمی، محنت اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے ساتھ غیر مشروط تعاون کے لیے تیار ہے جس کا پی ٹی آئی قیادت نے خیرمقدم کیا۔آخری مرحلے میں تحریک انصاف کی قیادت نے پیغام دیا کہ وہ صرف خیبر پختونخوا کی حد تک تعاون چاہتے ہیں جبکہ قومی سطح پر وہ جماعت اسلامی کے ساتھ اشتراک عمل نہیں کریں گے۔ لیاقت بلوچ نے تحریک انصاف کے قائدین کو آگاہ کیا کہ اْن کی طرف سے بدلے ہوئے دوسرے موقف پر مشاورت کے بعد جواب دیا جائے گا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ مشاورت کے بعد جماعت اسلامی نے طے کیا کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کا قومی سطح پر اشتراک عمل قومی مفاد میں ہوگا لیکن تحریک انصاف نے اپنے موقف کو تبدیل کیا ہے تو وہ خیبر پختونخوا میں بھی جس سے چاہیں اپنے معاملات طے کر لیں جماعت اسلامی کو خوشی ہوگی۔
جماعت اسلامی کا دھاندلی کے خلاف جمعہ کو اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان
اسلام آباد (سی ایم لنکس)جماعت اسلامی نے عام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف جمعہ کو اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی چیف الیکشن کمشنر سے فوری استعفے کا مطالبہ کرتی ہے۔نگران حکومت چیف جسٹس کے ذریعے عدالتی کمیشن تشکیل دے،ان کا کہنا تھا کہ دھاندلی سے متعلق شکایات الیکشن کمیشن کو جمع کروائیں گے۔قیصر شریف کا کہنا تھا کہ الیکشن کا انعقاد پرامن ہوا لیکن نتائج روک کر دھاندلی کی گئی، انہوں نے کہا کہ جیت اور ہار کا نہیں، ووٹ کے تقدس کا معاملہ ہے۔ترجمان جماعت اسلامی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ معاملات الیکشن کمیشن کی بجائے کہیں اور سے کنٹرول ہورہے ہیں، بڑے پیمانے پر دھاندلی کے باوجود الیکشن کمیشن خاموش ہے۔نگران حکومت ڈھٹائی سے الیکشن کمیشن کو تحفظ فراہم کررہی ہے، مجوزہ عدالتی کمیشن سے تمام اسٹیک ہولڈر رجوع کرسکتے ہیں، انہوں نے عدالتی کمیشن کی کارروائی کو لائیو نشر کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں جماعت اسلامی کا مینڈیٹ چوری ہوا،ہمارے امیدواروں کو خیبرپختونخوا میں دھاندلی سے ہرایا گیا۔ جمعہ کو دھرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ترجمان جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جیتی ہوئی سیٹیں ہروانے کی کوشش کی جا ر رہی ہے، اپنے حق کیلئے تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کریں گے۔