جشنِ پھتک (ایک جامع مقالہ) – تحریر ؛ بہرام علی شاہ
سب سے پیشتر تحصیل لوٹکوہ خصوصاً علاقہ گرم چشمہ کے حکیم ناصر خسرو ق. س کے حلقہ دعوت میں آنے والے تمام بہن بھائیوں کو دل کی گہرائیوں سے پھتک مبارک ہو. پھتک کا تہوار چونکہ صدیوں سے گرم چشمہ (انجگان) اور ملحقہ علاقوں میں نہایت ہی جوش و خروش سے منائی جاتی ہے. تاریخی اور سادات خاندان کی روایت کے مطابق حکیم ناصر خسرو ق.س جب دعوت کی غرض سے گرمچشمہ لوٹکوہ تشریف لاۓ تھے تب انہوں نے21 دسمبر سے ماہ یکم فروری تک چلہ کشی کی تھی. چونکہ حکیم ناصر خسرو ق. س کی چترال کی جانب سفر ابھی تک تحقیق طلب ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ ناصر خسرو ق. س کے بعد موجودہ سادات خاندانوں کے جد اعلیٰ سید سہراب ولی رح اور حضرت عمر یمگی (سید ملک جہان شاہ) رح نے لٹکوہ کے علاقے میں دعوت اسلام کے دوران چلہ کشی ( چالیس دن تک مسلسل عبادت و بندگی ) اور ریاضت و عبادت میں کامیابی کے بعد دیگر ارکان دعوت اور مریدوں کے ساتھ مل کر ایک جشن منایا تھا جسے مقامی زبان میں “پھتک” کا نام دیا گیا. دراصل لفظ “پھتک” لفظ “پھتکی” سے ماخوز ہے. جس کے معنی سفیدی کے ہیں. پھتکی یعنی سفیدی کو چترالی ثقافت میں خوبصورتی, کامیابی, خوشی اور نیک شگوں تصور کی جاتی ہے. کالے یا سرخ بیل یا گھوڑے کی پیشانی میں سفیدی یعنی “پھتکی” کو فخریہ, خوبصورتی اور خوشی و مسرت کے معنوں میں لی جاتی ہے. اسی سے جڑی ہوئی ایک اور لفظ “پھتک چھاریک” یعنی “پھتک ڈالنا” اس عمل کو کہتے ہیں جب شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے مواقع پر گھر سے نکلتے اور واپس گھر میں داخل ہوتے وقت دلہا دلہن اور دیگر ارکان کے کاندون پر ایک ایک چُٹکی آٹا ڈال کر سفیدی کرنے کے ساتھ ساتھ گھر کے بزرگ فرد یا جماعت کے بڑے عملدار کی جانب سے مبارک بادی اور دعا و برکات سے نوازا جاتا ہے.
بلکل اسی طرح “پھتک” کے تہوار کے موقع پر سب سے پہلے یہ رسم “پھتَکِین” سے شروع ہو جاتی ہے. پھتکین وہ نمائندہ شخص ہوتا ہے جو علاقے کے سادات کی طرف سے “پھتک” کی خوشخبری دے کر علاقے کے ہر گاؤں میں الگ الگ بھیجا جاتا ہے. جسے ہر گاؤں کے چھوٹے بڑے, بزرگ جوان اور خاص طور پر بچے شدت کے ساتھ انتظار کرتے ہیں. جونہی “پھتکین” کسی گاؤں میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے بچے اس کا استقبال نہایت ہی گرمجوشی کے ساتھ کرتے ہیں اور سارا گاؤن ان کے ساتھ گھر گھر گھوم کر سب کے خوشی میں شریک ہوتے ہیں. “پھتکین” گاؤں کے سب گھروں میں جاتا ہے “پھتک” کی مبارک بادی دینے کے ساتھ قرآنی آیات کی تلاوت کے ساتھ فارسی اور مقامی زبان میں دعاۓ مستجاب پڑھ کر دعا کرتا ہے اور ان کے ساتھ آۓ ہوۓ گاؤں کے سارے بچے اور بزرگ دل کی گہرائیوں سے آمیں کہتے ہیں. گھر کے مالک اور مالکن خوشی کے اس موقع پر حسبِ استطاعت مقامی خردونوش کی اشیاء پنیر, آخروٹ, مکھن, اور دوسری چیزین پیش کرتے ہیں جنہیں پھتکین جمع کرکے اپنے ساتھ دربار ناصر خسرو گرم چشمہ میں پہنچا دیتا ہے. اس نظرانے کی جمع کرنے میں بچے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور پھتکین کے ساتھ پورے گاؤں میں گھومنے کو باعث فخر سمجھتے ہیں.
پھتک سے پہلے والا دن “سَمُون” کہلاتا ہے. سَمُون کا مطلب سنوارنے کے ہیں. یعنی پھتک کی تہوار کے لیے خود کو, گھروں اور محلے کو نئے کپڑے اور صفائی ستھرائی سے سنوارنے کی تیاریوں میں مشغول رہنا.
اس دن بڑے زور و شور سے پھتک کی تیاری کی جاتی ہے. “سمون” کے شام کو گھر کے بزرگ کی طرف سے سب سے اہم کام “ماژِینی بوتِیک”, مژینی یعنی جاڑو اور بوتیک یعنی باندھنے,کو ایک خاص لمبے لکڑی کے ساتھ باندھ کر گھر کی صفائی کے لیے تیار کی جاتی ہے. گھروں میں صفائی کے دوران بچے شام اور رات کے اوقات سردی سے بچنے کے بہانے صحن میں آگ جلا کر بہت خوشی محسوس کرتے ہیں کیونکہ عموماً لکڑی کی قلت کی وجہ سے ان کو یہ موقع کھبی نہیں ملتا. الغرض گھروں کی صفائی ستھرائی کے بعد کھانوں کا اہتمام کیا جاتا ہے. جس میں عموماً “پندیر ٹیکی” یعنی چپاتی جس کے اندر پنیر اور پسی ہوئی آخروٹ ڈال کر بنائی جاتی ہے, کے اُپر دیسی گھی گرم کرکے ڈال کر بنائی جاتی ہے. کھانے کے لیے ہمسایوں کو دعوت دی جاتی ہے اور ان کے سامنے “پندیر ٹیکی” پیش کی جاتی ہے. اس عمل کو مقامی زبان میں “گرمبیشی” یعنی ہمسائیگی کہتے ہیں. اس کے ساتھ سَمُون کا یہ دن رات دیر تک جاری رہتے ہوۓ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے.
اگلے یعنی پھتک کے دن صبح سویرے صبح صادق کے وقت ہمساؤں میں سے کوئی بزرگ شخص سب کے گھروں میں جاتا ہے جسے “پھوسوراگیک” کہتے ہیں. “پھو” قدم کے نشان کو کہتے ہیں اور “گیک” کا مطلب آجانا. یعنی قدم رکھ کر آجانا یا نیک شگوں والے نقشِ پا کے ساتھ کوئی بزرگ اور نیک خصلت شخص کا گھر آجانا. اس عمل کے لیے عام طور پر بزرگ اور نیک خصلت لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اسے انجام دیں. عموماً پورے محلے کے لیے ایسے ایک بزرگ اور نیک خصلت شخص منتخب ہوتا ہے جو محلے کے گھروں میں جاتا ہے اور ایک ایک چٹکی آٹے سے گھر کے اندر پانچ ستونوں پر سفیدی کرتے ہوۓ پھتک کی مبارکبادی دیتا جاتا ہے. اس کے بعد عام لوگوں کا آنا جانا اور گرمبیشی یعنی ہمسائیگی شروع ہو جاتی ہے. سب سے پہلے “اشپری” کی جاتی ہے. اشپری بھی سفیدی کو کہتے ہیں. جس میں پنیر یا دودھ سے بنی ہوئی کوئی بھی کھانے کی چیز پیش کی جاتی ہے. پھر کھانے میں “شوشپاڑاکی” یعنی چترال کے مشہور ڈش “شوسپ” سے بنی ہوئی میٹھی چپاتی اور دیسی گھی پیش کی جاتی ہے. اسی طرح دن بھر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے. کھانے پینے کے ساتھ ساتھ گاؤں کے مرد و خواتیں چھوٹے بڑے سب مل کر مقامی اور روایتی کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں.
پھتک کے دن گرم چشمہ میں واقع حکیم ناصر خسرو سے منسوب دربار کے ملحقہ گاؤں کے ہر گھر سے ایک عدد “پندیر ٹیکی” یعنی پنیر اور آخروٹ سے بنی چپاتی, ایک کپ دیسی گھی نظرانے کے طور پر دربار میں پہنچایا جاتا ہے. اس نظرانے کو مقامی زبان میں “پھینیک” کہتے ہیں. ایک اور رسم والد یا بھائیوں کے گھروں سے بہنوں اور بیٹیوں کے گھروں میں “باش الیک” یا “باش دیک” کی رسم بھی انجام دی جاتی ہے. کھوار زبان میں “باش” سے مراد “حصّہ” ہے. یعنی پھتک کے دن گھر میں پکاۓ اور بناۓ ہوۓ پھتک کے سوغات اور کھانے کا ایک حصہ بہنوں اور بیٹیوں کے گھروں میں لے کر جاتے ہیں.
اسی طرح پھتک کا یہ تہوار بہت سارے روایات اور رسومات کے ساتھ دو سے تین دن تک جاری رہتا ہے جنہیں طوالت کے خوف سے اس مضمون میں زکر کرنا مشکل ہے.
پھتک کا یہ تہوار سال کی پہلی تہوار ہونے کی وجہ سے مقامی لوگ اسے نہات ہی جوش و خروش سے مناتے ہیں. اسی کی مناسبت سے مقامی لوگ نوروز کو بھی “پھتک” کہتے ہیں. بلکہ اس کو “لوٹ پھتک” یعنی بڑی پھتک اور نوروز کو ” چیق پھتک ” یعنی “چھوٹی پھتک” کہتے ہیں. حالانکہ نوروز پوری دنیا میں منائی جانے والی تہوار ہے.
الغرض پھتک کی یہ تہوار اپنے ساتھ سال کے شروع اور ماہ جنوری کے سرد ترین مہینے کے اختتام پر نہ صرف ظاہری مسرت و خوشی کا باعث بنتا ہے بلکہ ساتھ ساتھ حکیم ناصر خسرو سے منسوب چلہ کشی کے بعد جو.جسمانی و روحانی کامیابی و کامرانی کی طرف ایک کوشش, امید اور روحانی مسرت و شادمانی و شکرگزاری کی اسلامی تصوف کا ایک بیش بہا خزانہ اپنے اندر سموئی ہوئی ہے, جس کی طرف توجہ اور سمجھ وقت کی اہم ضرورتوں میں سے ہے. دینِ اسلام چونکہ دینِ فطرت ہے اور فطرت کے تقاضوں میں سے ایک فطری اور ظاہری خوشیوں کے زریعے دینی اور باطنی خوشی کی تلاش اور معنی کی تلاش انسان کی حقیقی خوشی کا باعث بن سکتی ہے.
دعا ہے کہ جس طرح پھتکین پھتک کی خوشخبری لے کر پورے قریے کو خوشی و شادمانی سے ہمکنار کرتا ہے بلکل اسی طرح کوئی فرشتہ ہمارے عالم شخصی کے اس قریہ میں نمودار ہو اور ہمیں جسمانی و روحانی مسرت و شادمانی کی نوید سناۓ.
عالمِ شخصی کے اس قریے میں سب کے زرات روح ہمیشہ کے ہمسائیگی میں رہتے ہوۓ ایک دوسرے کے لیے ہمدردی, رواداری, بھائی چارگی اور محبت و شفقت کی ایسی چاہت ہو جو کبھی ختم ہونے والی نہ ہوں. امین.
آخر میں سب کو ایک بار پھر پھتک مبارک.