تلخ و شیرین ۔ یاد رفتگاں – نثار احمد
ہمارے چترال میں عید والے دن قبرستان میں سونے والے اپنے عزیز و اقارب کے پاس جانے کی روایت کافی پرانی ہے ۔ اس روایت کا سن ِ آغاز تو مجھے معلوم نہیں ہے لیکن ِسن شعور سے لے کر تاحال اپنے بڑوں کو اسی روایت پر کاربند ہی دیکھا ہے۔ تھوڑیاندیہہ سے موڑدیہہ تک پھیلے ہوئے قبرستان نامی اس آخری انسانی آرام گاہ میں ہمیشہ کے لیے آرام کرنے والوں کی تعداد میں ہرسال اضافہ ہی ہوتا ہے ۔ ایسی کوئی عید نہیں گزرتی کہ اس وسیع وعریض قبرستان میں نو تعمیر شدہ قبر نظر نہ آئے ۔ تین دن قبل بروز ِ عید جب قبرستان میں حاضری دی تو ایسا لگا اس مرتبہ موت کا فرشتہ شمالی ایون کے باسیوں پر کچھ زیادہ ہی مہربان ہوا ہے۔ نہ صرف یہ کہ نئی قبریں زیادہ تعداد میں نظر آئیں بلکہ اپنے بچپن کے استاد مولانا قاضی فضل احد رحمہ اللہ اور اسرار احمد المعروف گل داؤدی کی فریش قبریں دیکھ کر آنکھیں بھی نمناک ہو گئیں۔ گو کہ غم بے وقت جانے والے مقرب خان میکی (اپنے پھوپھا) کا بھی تازہ ہے اس طرح امسال اپنی زندگی کا چراغ اپنے ہی ہاتھوں گل کرکے یہاں ابدی نیند سونے والے اپنے شاگرد زبیر احمد کو بھی نہیں بھول پائے ہیں تاہم اپنی ابتدائی دینی تعلیم کے استاد قاضی فضل احد رحمہ اللہ اور ایک جیتے جاگتے سدا بہار انسان گل داؤدی کی تربت یہاں دیکھ کر ایکسٹرا وارفتگی طاری ہو گئی۔
آہ! قاضی فضل احمد استاد ۔ کیا ہی بہترین انسان تھے اجل نے اچک لیا۔ کیا ہی فرشتہ صورت شخص تھے لقمہ ء اجل بنے۔ موت نے کس بشر کو معاف کیا ہے جو استاد محترم کو کرتا؟ موت بڑی ظالم شئ ہے باری باری سب کو اپنے شکنجے میں پھنسا ہی لیتی ہے ۔ یکے بعد دیگر، الگ الگ یا ٹولیوں کی شکل قطار در قطار سب کو اس کا ذائقہ چکھنا ہے۔
قاضی استاد سے بچپن کی بڑی حسین یادیں وابستہ ہیں۔ جب چار پانچ سال کے ہوئے تھے تو الف ب ت سے تعلیم کا آغاز محلے کی انہی کے سامنے دوزانو بیٹھ کر شروع کیا تھا۔ عصر کی نماز پڑھنے کے بعد استاد محترم مسجد کے برآمدے کے جنوبی کونے پر تشریف فرما ہوتے تھے اور ہم بچے بچیاں باری باری آپ سے سبق لیتے ۔ جو چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے تھے ، استاد کے پاس نورانی قاعدہ (تب بغدادی قاعدہ) یا ناظرہ پڑھتے جب کہ تھوڑے سے بڑے بچے ترجمہ کرتے ۔ ماشاءاللہ تب وقت میں بڑی برکت ہوتی تھی عصر تا مغرب بچوں بچیوں کو اچھی خاصی تعداد استاد محترم سے سبق لے لیتی تھی۔ اس کے علاوہ استاد محترم دم دعا بھی کرتے تھے اور مختلف بیماریوں کے لئے تعویذ بھی لکھتے تھے۔ آپ کے دم میں بھلا کی تاثیر ہوتی تھی دم و تعویذ کا یہ عمل آپ بلا معاوضہ سرانجام دیتے تھے۔ بنام ِ دم رواں کچھ لینے کا باقاعدہ اہتمام آپ کے ہاں نہیں تھا ۔
استاد محترم عالم باعمل تھے۔ نہ صرف خود عمل بقدرِ علم کی مجسم تصویر تھے بلکہ نجی مجالس میں اس بات پر بھی فکرمند دکھائی دیتے تھے کہ فی زمانہ علم عمل کے قالب میں ڈھل نہیں پارہا۔ باتیں کرنے والے کثیر اور عمل کرنے والے قلیل ہیں۔ کسی بھی نیک عمل کے اوپر استقامت و مداومت کی آپ خصوصاً تاکید کرتے تھے۔
آپ کی تدفین کے موقع پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے مسجد کلاں کے امام اور چترال کے مشہور بزرگ عالم دین مولانا کمال الدین احمد مدظلہ نے فرمایا ۔ قاضی فضل احمد کا شمار چترال کے ان معدودے علماء میں ہوتا تھا جنہیں شیخ الکل مولانا مستجاب رح المعروف “اویونو مولانا” سے بہت زیادہ استفادے کا شرف حاصل ہوا ہے۔
قاضی استاد صوبہ خیبر کی مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم سرحد کے فاضل تھے دورانِ طالب علمی آپ کا شمار دارالعلوم سرحد کے انتہائی باصلاحیت طلبا میں ہوتا تھا۔ امتحانات میں پوزیشن لینا آپ کا معمول تھا۔ دارالعلوم سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد پشاور یونیورسٹی سے ایم اے عربی کا امتحان اعلیٰ نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ علمی زندگی سے فراغت کے بعد عملی زندگی کا آغاز اکاؤنٹ آفس سے وابستہ ہو کر ایک پرازمائش راہ پر چل کر کیا ۔ سالوں تک آپ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس چترال میں بطورِ آڈیٹر کام کرتے رہے مجال ہے کہ کسی بھی عنوان سے ایک پائی و دمڑی کی ہیر پھیر کی ہو۔ آپ کا شمار اکاؤنٹ آفس کے انتہائی ریگولر اہل کاروں میں ہوتا تھا ۔ بروقت دفتر پہنچنے کے لیے علی الصبح فجر کی نماز کے بعد ایون سے چترال کے لیے نکلنے والی پہلی گاڑی پر چترال پہنچتے اور اپنے کام میں جت جاتے ۔
ماشاءاللہ کیا ہی حسنِ اخلاق پایا تھا کبھی اونچی آواز میں بات تک نہیں کرتے تھے۔ گفتار میں بلا کی نرمی اور لہجے میں کمال کی ملائمت تھی۔ اتنے شیریں گفتار تھے کہ ڈانٹ ڈپٹ کے دوران بھی آپ کی آواز غیر معمولی بلند نہیں ہوتی تھی۔ سوگواروں میں آپ نے تین صاحب زادیاں چھوڑیں اور ایک بیٹا۔ مولانا کمال الدین احمد مدظلہ کے مطابق آپ کی عمر تقریباً چوہتر برس تھی ۔ آپ کا سیاسی تعلق جمعیت علماء اسلام سے تھا جے یو آئی ایون کی سرپرستی آپ نے آخری عمر تک جاری رکھی ۔
گل داؤدی مرحوم کو ان کے اصل نام اسرار احمد سے کم ہی لوگ جانتے تھے۔ گل داؤدی مرحوم کی وفات کو بھی آج تین ماہ گزر گئے لیکن گمان یہی ہوتا ہے وہ آس پاس یہیں کہیں ہیں ۔ ایک صبح نماز فجر کے بعد کوٹاکے (مسجد کے اندرونی ہال سے ملحق کمرہ برائے) میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اطلاع ملی گل داؤدی بھائی کو برین ہیمرج ہو گیا ہے موصوف کو پہلے چترال پھر پشاور پہنچا کر ہسپتال میں داخل کیا گیا جانبر نہ ہو سکے مہینہ ڈیڑھ مہینہ موت و حیات کے کشمکش میں رہنے کے بعد جان جان عطا کرنے والے کو لوٹا دی ۔ اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے ۔
گل داؤدی مرحوم اپنی ذات میں ہنسنے اور ہنسانے والے ایک خوش اخلاق انسان تھے ۔ انہیں دیکھ کر ایسا لگتا تھا گویا کہ ان کے وجود کا خمیر ہی مزاح سے اٹھا ہے ۔ان کی پُرمزاح اور خوشی سے بھرپور سدا بہار شخصیت کو دیکھ نہیں لگتا تھا کہ یہ شخص کبھی بوڑھا بھی ہو جائے گا یوں قبل ازوقت داغ مفارقت دے جانا حاشیہ ء خیال میں ہی نہیں آتا تھا۔ دل چسپ جملے ہر وقت ان کے دماغ میں مستحضر اور نوک زبان پر تیار رہتے تھے۔ جہاں موقع پاتے جملوں کی بوچھاڑ کر کے خود بھی قہقہہ لگاتے۔ اور حاضرین و مخاطبین کو بھی کھلکھلا کر ہنسنے پر مجبور کرتے۔ خوش ہونے اور قہقہہ لگانے میں ان کا مسلک بہت کشادہ تھا ۔ بے ساختہ ان کے منہ سے نکلنے والے مزاحیہ جملے برجستہ اوراتنے دل چسپ ہوتے کہ مخاطبین ان جملوں کے خوش گوار اثرات دنوں تک محسوس کرتے۔ ان کا حسِ مزاح ادبی محافل بالخصوص روایتی مشاعروں میں جوبن پر ہوتا۔
آپ قادر الکلام مزاح گو شاعر تھے آپ کی مزاح گوئی کسی دقت و ریاضت کی محتاج نہیں تھی یہ صلاحیت اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کی سرشت میں ہی ودیعت کی تھی۔ آپ کی روزمرہ کی گفتگو بھی مزاح میں گندھی ہوئی ہوتی تھی۔ مزاحیہ جملے ہاتھ باندھ کر برتے جانے کے لیے آپ کے سامنے موجود رہتے تھے ایک دفعہ ٹاؤن ہال میں منعقدہ کسی تقریب کے بعد ہال کے لان میں دوران ِ خوش گپی جب اسامہ وڑائچ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جناب فداء الرحمن نے مذاق مذاق میں شعراء ایون پر تنقیدی جملہ کسا۔ فورًا بول اٹھے۔ اے ژان ایونیان تے کیا مو راوے، ایونیان نارکوکو دی ہانگا کھرپیر۔
آپ کا سیاسی تعلق جماعت اسلامی کے ساتھ تھا جب کہ سماجی تعلق سبھی کے ساتھ۔ جماعت کے ساتھ بطورِ کارکن یہ تعلق اٹوٹ بھی تھا اور بے لوث بھی۔ یہ تعلق کب بنا تھا اس کا علم نہیں لیکن اس بات کا علم ضرور ہے کہ انہوں نے اس تعلق کو مرنے دم تک انتہائی فعالیت اور اخلاص کے ساتھ نبھایا۔ آپ انجمن ِ ترقی کھوار حلقہ ایون کے بھی فعال رکن تھے اور انجمن دعوت عزیمت کے بھی۔ انجمن ترقی کھوار کے زیرِ انتظام منعقد ہونے والی ادبی سرگرمیوں میں آپ پیش پیش رہتے تھے۔ ایون اور اطراف و اکناف سے جم غفیر کی آپ کی نماز جنازہ میں شرکت اس بات کی علامت تھی کہ آپ سے محبت کرنے والے بہت تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو قبر میں کروٹ کروٹ چین نصیب فرمائے ۔