The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

تعلیم کے باب میں چترال کا اعزاز۔ تلخ و شیریں : نثار احمد 

Chitral Times

تعلیم کے باب میں چترال کا اعزاز۔ تلخ و شیریں : نثار احمد 

تعلیم کے باب میں چترال کا اعزاز۔ تلخ و شیریں : نثار احمد 

تعلیم کے باب میں چترال کا اعزاز۔ تلخ و شیریں : نثار احمد

اخباری خبروں کے مطابق پاکستان کے محکمہء منصوبہ بندی نے دو دن قبل صوبوں کی تعلیمی کارکردگی پر ایک رپورٹ جاری کی ہے. رپورٹ میں تعلیمی لحاظ سے پاکستان کے بہتر، متوسط اور بدتر ضلعوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔ کل 134 (اسلام آباد اور گلگت کو چھوڑ کر) اضلاع میں سے چند ضلعوں کو ہی بہتر کیٹیگری میں جگہ ملی ہے جبکہ بہترین یا اعلی کیٹیگری میں کوئی بھی ضلع شامل نہیں ہو سکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 77 اضلاع ایسے ہیں جن کی تعلیمی کارکردگی بہت پست ہے۔ انہیں بدتر والے خانے میں رکھا گیا ہے ان 77اضلاع میں بیش تر اضلاع بلوچستان اور سندھ کے ہیں بہتر کیٹیگری میں آنے والے اضلاع میں سر فہرست اضلاع پنجاب کے ہیں۔ پنجاب کے بعد “کے پی کے” کے اضلاع آتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ پنجاب اور “کے پی” میں بلوچستان اورسندھ کی بنسبت تعلیمی صورت حال قدرے بہتر ہے یہی وجہ ہے کہ وزارت منصوبہ بندی کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی دس پوزیشنز پر جگہ بنانے والے اضلاع میں سے بلوچستان یا سندھ کا ایک ضلع بھی نہیں ہے۔ یہ سارا کچھ پڑھتے ہوئے اتنی بات سمجھ لینی چاہیے ایسا ہرگز نہیں ہے کہ جاری شدہ رپورٹ میں “بہتر والے” خانے میں موجود اضلاع میں تعلیم و تدریس مثالی ہو، ان اضلاع کے تعلیمی اداروں سے سوسائٹی کے لیے کارآمد اور ہنرمند شہری نکل رہے ہو اور یہ کہ ان اضلاع میں تعلیمی عمل ہر پہلو سے اطمینان بخش اور مثالی ہو۔

دراصل ہوتا یہ ہے کہ چند اشارات و معیارات قائم کیے جاتے ہیں پھر ہر معیار و میزان کے لیے نمبر مختص کیے جاتے ہیں۔ اضلاع کے سرکاری سکولوں میں جاری وساری تعلیمی عمل کو ان معیارات کے تناظر میں جانچا جاتا ہے جس ضلعے کے نمبرز زیادہ ہوں اسے ٹاپ پر رکھا جاتا ہے۔ مثلاً دیکھا جاتا ہے کہ غیر حاضری کی شرح کس ضلعے کے سکولوں کے اساتذہ و طلبا میں کم ہے۔ مثلاً جانچا جاتا ہے کہ کس ضلعے کے سرکاری سکولوں میں بچوں کے داخلے کا رجحان زیادہ ہے۔ مثلاً تسلی کی جاتی ہے کہ کس ضلعے کے سکولوں میں کمرے ، واشرومز اور صاف پانی کی سہولت موجود ہے۔ مثلاً سالانہ امتحانات کو بنیاد بنا کر طے کیا جاتا ہے کہ کس ضلعے کے امتحانی نتائج بہتر ہیں۔ مثلاً ریکارڈ کی مدد سے پرکھا جاتا ہے کہ کس ضلعے میں محکمہ ء ایجوکشن کے افسران فلیڈ وزٹ پر جاکر سکولوں میں موجود مسائل کی نشان دہی کر کے انہیں بروقت حل کرتے ہیں۔
وغیرہ وغیرہ۔۔

محکمہ ء منصوبہ بندی کی طرف سے شائع شدہ حالیہ رپورٹ میں ہمارے لیے خوش آئند اور قابل فخر بات یہ ہے کہ اس کے مطابق ہمارا ضلع چترال ان دس اضلاع میں شامل ہے جہاں، تعلیمی عمل قدرے بہتر ہے، اور جو وزارتِ منصوبہ بندی کی طرف سے شائع شدہ رپورٹ میں سرفہرست ہیں۔ ٹاپ 10 میں جگہ بنانے والے اضلاع میں سے 07 پنجاپ اور 02 کے پی کے ہیں۔ گویا کہ “کے پی کے” میں ضلع ہریپور کے ساتھ چترال ہی وہ ضلع ہے جس میں تعلیمی عمل باقی اضلاع سے نسبتاً بہتر ہے۔ یہاں سکولوں میں کسی حد تک بنیادی سہولیات موجود ہیں، یہاں اساتذہ کی غیر حاضری کی شرح بھی کم ہے اور طلبا کی غیر حاضری کی شرح بھی ۔ یہاں عمل ِ تدریس کے لیے درکار دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لایا جا رہا ہے یہاں سکولوں سے طلبا کا “شرحِ خروج” نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں محکمہ ء تعلیم سے جڑے اساتذہ اپنی ڈیوٹی کو واقعتاً فرض منصبی سمجھ کر سر انجام دیتے ہیں۔ یہاں اساتذہ کا پیشہ بھی تدریس ہے اور مشغلہ بھی۔ یہاں کا مزدور بھی تعلیم کی اہمیت سے کسی نہ کسی تک واقف ہے۔

چترال کا نام لسٹ میں سرفہرست کیوں نہیں ہو گا جب کہ یہاں محمود غزنوی جیسا درویش اور ایماندار بندہ بطورِ ڈی ای او میرکارواں ہے۔ شاہد حسین جیسا فعال ، وژنری، محنتی اورملٹی ٹیلنٹڈ انسان یہاں ڈپٹی ڈی ای او ہے۔ ایس ڈی ای او شہزاد ندیم اور ایس ڈی ای او تاج محمد جیسے زیرک، باصلاحیت اور مستعد لوگ پرائمری سکولوں میں ہرممکن بہتری لانے کے لیے کوشاں و سرگرداں ہیں۔ غزالہ میم (ڈی ای او فیمیل) زبیدہ خانم ڈپٹی ڈی ای او (فیمیل) مسرت جمال ایس ڈی ای او (فیمیل) گرلز سکولوں کے معاملات کو بطریقِ احسن دیکھ رہی ہیں۔ خوش بہار جیسا ایمان دار شخص اور جلال الدین جیسا قابل بندہ دفتر کے کلریکل اسٹاف میں موجود ہیں۔ پرنسپل محمد سلیم کامل ، پرنسپل ڈاکٹر معظم شاہ ، پرنسپل حافظ نور اللہ ، پرنسپل سمیع الدین اور وائس پرنسپل سید الابرار جیسے نابغوں کا تعاون دفتر کو حاصل ہے۔ ان پرنسپلز کے علاوہ کئی فرض شناس ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ ٹیچرز ہیں جو دفتر اور سکول میں پل کا کردار نبھاتے ہوئے تعلیمی عمل کی ترقی میں خاطر خواہ حصہ ڈال رہے ہیں ۔ یہاں سب کا نام لیا جا سکتا ہے اور نہ ہی مختصر کالم اس کی گنجائش ہے۔ بہرحال اس اچیومنٹ پر ڈی ای او سے لے کر پرائمری سکول کے ہیڈ ٹیچر تک سب مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ان سب کی مشترکہ کاوشوں سے یہ پوزیشن ملی ہے۔ مستقبل میں بھی تعلیمی عمل میں بہتری کا انحصار تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کاوشوں پر ہے۔