تعلیمی ایمرجنسی کے تحت ہنگامی بنیادوں پر درس و تدریس کا فوری عمل شروع کرنے کے لیے صوبہ بھر میں اے ایل پی سینٹرز قائم کئے جا رہے ہیں.وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی
پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ تعلیمی ایمرجنسی کے تحت ہنگامی بنیادوں پر درس و تدریس کا فوری عمل شروع کرنے کے لیے صوبہ بھر میں اے ایل پی سینٹرز قائم کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سینٹرز میں ان طلبہ و طالبات جو کہ تعلیم سے محروم ہیں یا ڈراپ آؤٹ ہو چکے ہیں کو داخل کروا کر ان کو خصوصی کورس پڑھا کر مختصر مدت میں پرائمری اور مڈل لیول کے کورس پڑھا کر میٹرک کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سنٹرز کے لیے بلڈنگ کی تعمیر اور دیگر پیچیدہ مراحل سے گزرنا نہیں ہوتا بلکہ ان کمیونٹی سینٹرز میں عمارت کمیونٹی کی طرف سے مہیا کر کے فوری طور پر سکول کو فعال بنایا جاتا ہے۔ وزیر تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ صوبہ بھر کے اے ایل پی سینٹرز میں ہمارے 2 لاکھ 85 ہزار 866 طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن میں ایک لاکھ 78ہز 176 طالبات شامل ہیں جبکہ صوبے میں کل 6461 سینٹرز قائم ہیں جن میں خواتین کے لیے 5396 سنٹرز مختص ہیں اور ہمارے ان سینٹرز میں کل 7 ہزار 773 اساتذہ کرام بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے محلہ بہادرخیل کرنل شیر کلے صوابی میں اے ایل پی سینٹر کے افتتاع کے بعد شاہ زیب شہید گورنمنٹ ڈگری کالج رزڑ صوابی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر خواجہ فہیم سجاد اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام بشمول طلبہ و طالبات اور ان کے والدین نے تقریب میں شرکت کی۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے مزید کہا کہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت صوابی میں چار اے ایل پی سینٹرز قائم کئے جا رہے ہیں اسی طرح انسنٹرز کو صوبے کے تمام اضلاع تک توسیع دی جا رہی ہے۔ ان سنٹرز میں پرائمری لیول پر 8 سال سے 16 سال تک کے طلبہ و طالبات کو دو سے ڈھائی سال میں پرائمری کورس اور 18 مہینوں میں مڈل لیول تک کورس کرایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے وژن کے مطابق تعلیم کولین ترجیح دے کر جو بنیاد رکھا گیا تھا اج اس کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں ہمارے سرکاری اسکولوں کے طلبہ و طالبات بورڈ اور ایم ڈی کیٹ امتحانات میں نمایاں اپوزیشن لے رہے ہیں۔ اور ہمارے سابقہ دور حکومت میں شروع کئے گئے سیکنڈ شفٹ سکول پروگرام کے طلبہ و طالبات نے بھی حالیہ ایم ڈی کیٹ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کئے ہیں۔ جبکہ ہمارے ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام کے 2 طلباء نے پاشاہ ایوارڈ جیت کر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں پورے ملک میں ہمارے صوبے کا نام روشن کیا۔
انہوں نے کہا کہ سال 2013 سے جاری تعلیمی اصلاحات کی بدولت خواتین کی تعلیم کو خصوصی توجہ کا عمل جاری ہے اور امسال میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں زیادہ تر پوزیشنز ہماری بچیوں نے حاصل کی ہیں اسی طرح ہمارے مدرسے کے طالبات نے بھی میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں نمایاں پوزیشنز لی ہیں جو ہمارے لیے قابل فخر ہے۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا کہ ہماری تعلیم دوست پالیسی اور وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کے خصوصی ہدایات کے مطابق تعلیم پر صوبائی بجٹ کا 21 فیصد حصہ خرچ ہو رہا ہے جس کی مثال مرکز بشمول باقی صوبوں میں نہیں ملتی۔ وزیراعلی کی ہدایت پر رینٹڈ بلڈنگ سکول منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے تاکہ فوری طور پر سکولوں کو فعال بنایا جا سکے، ایجوکیشن کارڈ متعارف کروایا جا رہا ہے جس کے ثمرات تمام بچوں کو ملیں گے جبکہ اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے اگلے چند دنوں میں 13 ہزار نئی اسامیاں بھی مشتہر کی جائے گی۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکی نے افتتاح کے موقع پر اے ایل پی سنٹر کے طلبہ و طالبات میں سکول بیگز اور کتابیں بھی تقسیم کیں۔